Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

252 - 457
المفاوضة فھی ان یشرک الرجلان فیتساویان فی مالھما وتصرفھما ودینھما]١٣٠٧[ (٥) فیجوز بین الحرین المسلمین البالغین العاقلین ولا یجوز بین الحروالمملوک۔ 

سیرین قال المفاوضة فی المال اجمع (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب المفاوضین ... احدھما او یرث مالا ھل یکون بینھما ،ج ثامن،ص ٢٥٩،نمبر ١٥١٣٨) اس اثرسے شرکت مفاوضہ کے جواز کا پتہ چلا۔اور دونوں شریکوں کے مال برابر ہوں اس کے لئے یہ اثر ہے۔اخبرنا سفیان قال لا تکون المفاوضة حتی تکون سواء فی المال وحتی یخلطا اموالھما ولا تکون المفاوضة والشرکة بالعروض ۔اس اثر سے معلوم ہوا کہ شرکت مفاوضہ میں دونوں کے مال برابر ہوں۔اسی اثر کا اگلا ٹکڑا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں بھی دونوں برابر ہوں۔وما ادان واحد من المتفاوضین فقال قد ادنت کذا وکذا فھو مصدق علی صاحبہ وان مات احدھمااخذ الآخر وان شاء الغریم یأخذ ایھما باع سلعتہ اخذ المبتاع ایھما شاء (ب) (مصنف عبد الرزاق ، باب المفاوضین ،ج ثامن، ص ٢٥٩، نمبر ١٥١٤٠) اس اثر میں ہے کہ ایک کابیچنا ،خریدنا اور اقالہ کرنا دوسرے کے لئے ہوںگے۔ اس سے تصرف میں برابر ہونے کا پتہ چلا۔
]١٣٠٧[(٥)پس جائز ہے شرکت مفاوضہ دو آزاد، مسلمان ، بالغ ، عاقل کے درمیان اور نہیں جائز ہے آزاد اور مملوک کے درمیان۔  
تشریح  دونوں آدمی آزاد ہوں،دونوں مسلمان ہوں،دونوں عاقل اور بالغ ہوں تو ان دونوں کے درمیان شرکت مفاوضہ جائز ہے۔لیکن ایک آزاد اور دوسرا غلام ہو تو ان کے درمیان شرکت مفاوضہ جائز نہیں ہے۔  
وجہ  اصل میں شرکت مفاوضہ میں دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل بھی ہوتے ہیں اور کفیل بھی ہوتے ہیں۔یعنی کچھ خریدے تو آدھا اپنے لئے خریدتے ہیں اور آدھا وکیل کے طور پر شریک کے لئے خریدتے ہیں۔اور کسی پر کوئی دین اور قرض ہو جائے تو آدھا اس پر ہوتا ہے اور آدھا کفیل اور ذمہ دار کے طور پر دوسرے شریک پر ہوتا ہے۔ اور دونوں ایک دوسرے کے وکیل اور کفیل اسی وقت بن سکتے ہیں جب دونوں آزاد ہوں۔اگر ایک مملوک اور غلام ہو تو وہ نہ وکیل بن سکتا ہے اور نہ کفیل۔ اس لئے وہ شرکت مفاوضہ کر ہی نہیں سکتا۔اس لئے آزاد اور مملوک کے درمیان شرکت مفاوضہ نہیں ہوگی (٢) اوپر اثر میں تھا۔فاذا کانت شرکة مفاوضة فامر کل واحد جائزعلی صاحبہ فی البیع والشراء والاقالة (ج) (مصنف عبد الرزاق ،باب المفاوضین الخ ،ص ٣٥٩،نمبر ١٥١٣٧) کہ شرکت مفاوضہ میں بیع،شراء اور اقالہ میں ہر ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں۔

حاشیہ  :  (الف) حضرت ابن سیرین نے فرمایا شرکت مفاوضہ تمام ہی مال میں ہو سکتی ہے(ب) جو کچھ ایک نے قرض لیا شرکت مفاوضہ میں اور کہا کہ میں نے ایسا قرض لیا تو اس کے ساتھی پر بھی اس کی تصدیق کی جائے گی۔اور اگر دونوں میں سے ایک مر گیا تو دوسرے سے لے گا۔اور اگر قرض خواہ جن سے چاہے لے چاہے جس سے سامان بیچا ہو۔اور مشتری چاہے جس سے قیمت لے(ج) ابن سیرین سے منقول ہے کہ اگر شرکت مفاوضہ ہو تو ہر ایک کا معاملہ اس کے شریک پر بھی ہوگا بیع ، شراء اور اقالہ میں۔

Flag Counter