]١٣٠٤[(٢) فلا یجوز لاحدھما ان یتصرف فی نصیب الآخر الا باذنہ وکل واحد منھما فی نصیب صاحبہ کالاجنبی ]١٣٠٥[(٣) والضرب الثانی شرکة العقود وہی علی اربعة اوجہ مفاوضة و عنان وشرکة الصنائع و شرکة الوجوہ ]١٣٠٦[(٤) فاما شرکة
]١٣٠٤[(٢)پس نہیں جائز ہے دونوں میں سے ایک کے لئے کہ تصرف کرے دوسرے کے حصے میں مگر اس کی اجازت سے۔اور دونون میں سے ہر ایک دوسرے کے حصے میں اجنبی کی طرح ہے۔
وجہ اگر چہ ایک ہی چیز میں دونوں شریک ہیں لیکن دونوں کے حصے الگ الگ ہیں اس لئے دوسرے کے حصے میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔اس کے لئے باری مقرر کردے اور باری باری استعمال کرے (٢) حدیث میں اس کی تاکید ہے ۔عن عمر بن یثربی قال شھدت رسول اللہ ۖ فی حجة الوداع بمنی فسمعتہ یقول لا یحل لامرأ من مال اخیہ شیء الا ما طابت بہ نفسہ (الف) (دار قطنی ، کتاب البیوع ،ج ثالث، ص ٢٢ ،نمبر ٢٨٦٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کی اجازت کے بغیر اس کی چیز کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔چاہے وہ شریک ہی کیوں نہ ہو۔
]١٣٠٥[(٣) اور دوسری قسم شرکت عقود ہے۔اور اس کی چار قسمیں ہیں (١) شرکت مفاوضہ (٢) شرکت عنان (٣) شرکت صنائع (٤) اور شرکت وجوہ۔
تشریح شرکت عقود کو عقود اس لئے کہتے ہیں کہ اس شرکت میں باضابطہ عقد کرتے ہیں اور ایجاب اور قبول کے ذریعہ شرکت اور منفعت طے ہوتی ہے ۔اس لئے اس کو شرکت عقود کہتے ہیں۔اس کی چار قسموں کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
]١٣٠٦[(٤) بہر حال شرکت مفاوضہ وہ یہ ہے کہ دو آدمی شریک ہو جائیں،پس دونوں برابر ہوں مال میں،تصرف میں اور قرض میں۔ تشریح مفاوضہ کے معنی ہیں برابری ،اس لئے دونوں شریک برابر مال جمع کریں۔دونوں شریک خریدنے اور بیچنے میں برابر اختیار رکھتے ہوں اور تجارت کی نسبت سے جو قرض سر پر آئے وہ دونوں کے سر پر آئے اور دونوں اس کو ادا کرنے کے برابر طریقے پر ذمہ دار ہوںتو اس کو شرکت مفاوضہ کہتے ہیں۔
وجہ شرکت مفاوضہ جائزہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے۔عن صالح بن صہیب عن ابیہ قال قال رسول اللہ ۖ ثلاث فھن البرکة البیع الی اجل والمفاوضة واختلاط البر بالشعیر للبیت لا للبیع (ب) (ابن ماجہ شریف ، باب الشرکة والمضاربة، ص ٣٢٦ ،نمبر ٢٢٨٩) اس حدیث میں اکثر روایت المقارضہ قرض سے ہے۔اور دوسری میں المفاوضة وفاضة سے ہے۔عام روایت میں مقارضة ہے۔ اس روایت سے مقصد حاصل نہیں ہوگا ۔البتہ مفاوضہ والی روایت سے شرکت مفاوضہ کی فضیلت ظاہر ہوگی (٢)اثر میں ہے۔عن ابن
حاشیہ : (الف)حضور کو منٰی میں کہتے سنا کہ کسی انسان کے لئے اپنے بھائی کا مال حلال نہیں ہے مگر اس کی خوشدلی سے(ب) آپۖ نے فرمایا تین چیزوں میں برکت ہے۔ادھار بیع،شرکت مفاوضہ اور گھر میں گیہوں کو جو کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا،بیچنے کے لئے ملانا نہیں۔