Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

18 - 457
البیع وان وجدھا اکثر من ذلک فالزیادة للبائع]٨٣٣[ (١٤) ومن اشتری ثوبا علی انہ عشرة اذرع بعشرة دراھم او ارضا علی انھا مائة ذراع بمائة دراھم فوجدھا اقل من ذلک فالمشتری بالخیار ان شاء اخذھا بجملة الثمن وان شاء ترکھا وان وجدھا اکثر من الذراع الذی سماہ فھی للمشتری ولا خیار للبائع]٨٣٤[ (١٥) وان قال بعتکھا علی 

لئے یہ زیادہ گیہوں بائع کے ہوںگے۔  
اصول  اس میں اصول یہ ہے کہ گیہوں ایک جیسے ہیں اس میں تفاوت نہیں ہے اس لئے ہر قفیز اصل ہے صفت نہیں ہے اس لئے ہر قفیز کے بدلے میں ایک درہم لازم ہوگا ۔اور زائد قفیز کی قمیت نہیں ملی اس لئے وہ بائع کے ہوںگے۔اثر میں ہے سمع عکرمة یقول ان ابتعت طعاما فوجدتہ زائدا فالزیادة لصاحب الطعام والنقصان علیک ( مصنف عبد الرزاق ، باب اشتریت طعاما فوجدتہ زائدا ج ثامن ص ١٣٣ نمبر ١٤٦١٠) اس اثر میںہے کہ جو کھانازیادہ ہو وہ بائع کا ہوگا ۔
 اصول  غلہ میں قفیز اصل ہے صفت نہیں ہے۔  
لغت  ابتاع  :  باع سے مشتق ہے خریدا۔
]٨٣٣[(١٤) کسی نے کپڑا خریدا اس طرح کہ وہ دس گز ہے دس درہم میں ،یا زمین خریدی اس طرح کہ وہ سو گز ہے سو درہم میں پھر اس کو اس سے کم پایا تو مشتری کو اختیار ہے چاہے تو اس زمین اور کپڑے کو پوری ہی قیمت میں لے اور چاہے تو اس کو چھوڑ دے،اور اگر اتنے گز سے زیادہ پایا جتنا متیعن کیا تھا تو وہ سب مشتری کا ہے۔اور بائع کو روک لینے کا اختیار نہیں ہے۔  
تشریح  یہ مسئلہ اوپر جیسا ہی ہے لیکن حکم میں فرق اس لئے ہے کہ کپڑے میں اور زمین میں گز سے ناپنا ایک صفت ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ صفت کے مقابلہ میں الگ سے کوئی قیمت نہیں ہوتی اس لئے دس گزیا سو گز زمین صرف ترغیب کے لئے ہوئی ہر گز کے بدلے ایک درہم نہیں ہوا تو گویا کہ پورے تھان کپڑے کی قیمت دس درہم اور پورے زمین کے ٹکڑے کی قیمت سو درہم ہوئی چاہے تھان میں اور زمین میں گز زیادہ ہو یا کم ہو ۔اس لئے لینا چاہے تو پورے دس درہم اور سو درہم دے کر پورا تھان اور پورا ٹکڑا زمین لے۔چاہے گز کم ہو چاہے زیادہ ہو۔ البتہ کم گز ہونے کی صورت میں مشتری کی رغبت کم ہے اس لئے اس کو چھوڑنے کا اختیار ہوگا اور زیادہ گز ہو جائے تو بائع کو روکنے کا اختیار اس لئے نہیں ہوگا کہ پورے تھان اور پورے ٹکڑے زمین کی بیع کر چکا ہے، چاہے جتنا ہو۔  
اصول  کپڑے اور زمین میں گز صفت ہے اور صفت کے مقابلہ میں الگ سے قیمت نہیں ہوتی جب تک کہ اس کو اصل نہ بنا دیا جائے۔
]٨٣٤[(١٥)اور کہا کہ اس زمین کو آپ سے بیچتا ہوں اس طرح کہ سو گز ہے سو درہم کے بدلے میں ، ہر گز ایک درہم کے بدلے، پھر اس کو کم پایا تو مشتری کو اختیار ہے اگر چاہے تو اس زمین کو اس کے حصے کے مطابق ثمن سے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔اور اگر زمین کو زیادہ پایا تو مشتری کو اختیار ہے اگر چاہے تو پوری زمین کو لے ہر گز ایک درہم کے بدلے میں اور چاہے تو بیع توڑدے ۔

Flag Counter