انھا مائة ذراع بمائة درھم کل ذراع بدرھم فوجدھا ناقصة فھو بالخیار ان شاء اخذھا بحصتھا من الثمن وان شاء ترکھا وان وجدھا زائدة کان المشتری بالخیار ان شاء اخذ الجمیع کل ذراع بدرھم وان شاء فسخ البیع]٨٣٥[ (١٦) ولو قال بعت منک ھذہ الرزمة علی انھا عشرة اثواب بمائة درھم کل ثوب بعشرة فان وجدھا ناقصة جاز البیع بحصتہ وان وجدھا زائدة فالبیع فاسد]٨٣٦[ (١٧) ومن باع دارا دخل بناؤھا فی البیع
تشریح کپڑے اور زمین میں گز صفت ہے لیکن اگر صفت کو اصل بنا دیا جائے تو اس کے مقابلے میں الگ سے قیمت ہوگی ۔یہاں بائع نے جب یہ کہا کہ ہر گز ایک درہم کے بدلے میں تو ہر گز کو اصل بنا دیا اور اب ہر گز کے بدلے میں ایک درہم ہوگا۔اب پورے ٹکڑے زمین کی بیع نہیں ہے بلکہ ہر گز کی بیع ہے۔اس لئے جتنے گز ہوںگے اتنے ہی درہم لازم ہوںگے۔ کم ہوںگے تو اس کے حساب سے کم درہم اور زیادہ ہوںگے تو اس کے حساب سے زیادہ درہم۔ البتہ کم گز ہونے کی شکل میں مشتری کو وعدہ شدہ زمین نہیں ملی اس لئے رغبت کم ہوئی اس لئے اس کو لینے نہ لینے کا اختیار ہوگا ۔
اصول گز صفت ہے لیکن اگر اس کو اصل بنا دیا جائے تو ہر گز کے بدلے اس کی الگ الگ قیمت لگے گی۔
نوٹ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ بائع پورے ٹکڑے کی مجموعی قیمت لگا رہا ہے یا ہر ہر گز کی الگ الگ قیمت لگا رہا ہے۔ اگر پورے ٹکڑے کی قیمت لگا رہا ہے تو گز زیادہ ہو یا کم پورے ٹکڑے کی پوری قیمت دینی ہوگی۔اور اگر ہر ہر گز کی قیمت لگا رہا ہے تو گز کے حساب سے اس کی قیمت طے کی جائے گی۔ان ہی اصولوں پر یہ سب مسائل متفرع ہیں۔
]٨٣٥[(١٦)میں نے آپ سے یہ گٹھری بیچی اس طرح کہ دس کپڑے ہیں سو درہم کے بدلے،ہر کپڑا دس درہم کے بدلے ،پس اگر ان کو کم پایا تو بیع ان کے حصے کے حساب سے جائز ہوگی اور اگر ان کو زیادہ پایا تو بیع فاسد ہے۔
تشریح ایک گٹھری میں دس تھان کپڑے تھے اور ہر تھان الگ الگ انداز کے تھے۔بائع نے اب کہا کہ پوری گٹھری بیچتا ہوں اس شرط پر کہ دس تھان کپڑے ہیںاور ہر تھان دس روپے کا ہے۔پس اگر کم کپڑا پایا مثلا نو کپڑے نکلے تو دس درہم کے حساب سے نوے درہم کے نو کپڑے لے۔اور چونکہ کم کپڑے ہیں اس لئے چھانٹنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اختلاف بھی نہیں ہوگا۔اور اگر گیارہ کپڑے نکلے تو ایک کپڑا کے چھانٹنے میں اختلاف ہوگا ۔بائع گھٹیا دینا چاہے گا اور مشتری اعلی لینا چاہے گا اور اختلاف و نزاع ہوگا اس لئے اس صورت میں بیع فاسد ہوگی۔ اصول کپڑے یا کسی چیز کے افراد میں تفاوت ہو اور اس کو چھانٹنے میں اختلاف ہو سکتا ہو تو بیع فاسد ہوگی۔
لغت الرزمة : گٹھری۔ ثوب : کپڑا،تھان۔
]٨٣٦[(١٧) کسی نے گھر خریدا تو اس کی دیوار بیع میں داخل ہوگی چاہے اس کا نام نہ لیا ہو۔
تشریح کسی نے گھر خریدا تو وہ چیزیں جو گھر کے ساتھ عرف میں شامل ہوتی ہیں اور ہمیشہ اور دوام کے طور پر اس کے ساتھ چپکی رہتی ہیں وہ