Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

17 - 457
]٨٣١[(١٢) وکذلک من باع ثوبا مذارعة کل ذراع بدرھم ولم یسم جملة الذرعان]٨٣٢[ (١٣) ومن ابتاع صبرة طعام علی انھا مائة قفیز بمائة درھم فوجدھا اقل من ذلک کان المشتری بالخیار ان شاء اخذ الموجود بحصتہ من الثمن وان شاء فسخ 

،بائع دبلی دینا چاہے گااور مشتری موٹی لینا چاہے گا۔اس لئے ایک بکری بھی کی بیع نہیں ہوگی ۔اور پورے ریوڑ کی بیع اسلئے نہیں ہوگی کہ تمام ریوڑ کی تعداد معلوم نہیں اور نہ پورے ریوڑ کی بیع ہوئی ہے۔اور گیہوں کے ڈھیر میں ایک قفیز کی بیع اس لئے جائز ہو گئی تھی کہ گیہوں میں تفاوت نہیں تمام گیہوں برابر ہیں اس لئے ایک قفیز جائز قرار دینے میں کوئی جھگڑا نہیں ہے ۔
 اصول  افراد میں تفاوت ہو اور مجموعہ کی بیع نہ ہوئی ہو تو تفاوت کی وجہ سے ایک فرد کی بھی بیع نہیں ہوگی۔  
لغت  قطیع  :  بکریوں کا مجموعہ،بکریوں کا ریوڑ۔
]٨٣١[(١٢)کسی نے کپڑا بیچا گزوں کے حساب سے ،ہر گز ایک درہم کا اور تمام گز بیان نہیں کئے تو ایسے ہی کسی گز کی بیع جائز نہیں ہوگی۔  تشریح  کپڑے کے تھان میں تفاوت تھا۔ہر گز الگ الگ انداز کا تھا ۔اور پورے تھان میں کتنے گز ہیں یہ بیان نہیں کیا اور نہ پورے تھان کی بیع کی اور یوں کہا کہ ہر ایک گز ایک درہم کا تو پورے تھان کی بیع اس لئے نہیں ہوگی کہ نہ اس کی پوری مقدار معلوم ہے اور نہ مجموعی قیمت معلوم ہے۔اور ایک گز کی بیع اس لئے نہیں ہوگی کہ ہر گز میں تفاوت ہے،بائع خراب اور گھٹیا گز دینا چاہے گا اور مشتری اعلی گز لینا چاہے گا اس لئے نزاع کی وجہ سے ایک گز کی بھی بیع نہیں ہوگی۔  
اصول  اوپر گزر گیا۔  
نوٹ  آج کل کی طرح تمام کپڑا ایک ہی انداز کا ہو تو ایک گز کی بیع ہو جائے گی،یا دوبارہ پورا تھان ناپ کر پورے تھان کی بیع کرلے تب بھی از سر نو رضامندی کی وجہ سے پورے تھان کی بیع ہو جائے گی۔اوپر کا فیصلہ تو اختلاف کے وقت ہوگا۔  
لغت  مذارعة  :  ذراع سے مشتق ہے ہاتھ سے ناپ کر۔
]٨٣٢[(١٣)کسی نے کھانے کا ڈھیر بیچا اس طرح کہ سو قفیز ہے سو درہم کے بدلے ۔پس اس کو اس سے کم پایا تو مشتری کو اختیار ہے چاہے تو موجود کو اس کے حصے کے مطابق ثمن سے لے لے اور چاہے تو بیع فسخ کردے اور اگر سو قفیز سے زیادہ پایا تو زیادہ بائع کے لئے ہے۔  
تشریح  غلے کا ڈھیر ہے اور بائع یوں کہہ رہا ہے کہ اس میں سو قفیز گیہوں ہے سو درہم کے بدلے دوںگا۔تو چونکہ پوری مقدار معلوم ہے اور مجموعی قیمت بھی سو درہم معلوم ہے اس لئے پورے ڈھیر کی بیع ہوئی ۔لیکن جب ناپا تو سو قفیز سے کم نکلا تو چونکہ بائع نے یہ بھی کہا تھا کہ سو قفیز ہے اور سو درہم کے بدلے میںدوںگاتو ایک قفیز ایک درہم کا ہوا اس لئے اگر مثلا نوے قفیز نکلے تو نوے درہم لازم ہونگے۔جتنا حصہ گیہوں ہے اتنا ہی حصہ ثمن لازم ہوگا۔لیکن چونکہ سو قفیز کی بات تھی اور مشتری کو اس سے کم ملا تو وعدہ کے مطابق نہیں ملا اس لئے اس کو اختیار ہوگا چاہے تو نوے درہم سے نوے قفیز لے اور چاہے تو بیع فسخ کردے۔اور اگر گیہوں سو قفیز سے زیادہ نکلے تو چونکہ سو قفیز ہی دینے کی بات تھی زیادہ کی نہیں اس 

Flag Counter