Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

16 - 457
وبطل فی الباقی الا ان یسمی جملة قفزانھا وقال ابو یوسف و محمد یصح فی الوجھین]٨٣٠[ (١١) ومن باع قطیع غنم کل شاة بدرھم فالبیع فاسد فی جمیعھا 

ابو حنیفہ کا قاعدہ یہ ہے کہ ایجاب و قبول سے پہلے پوری مبیع اور اس کی پوری قیمت معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ ایجاب کے وقت جہالت نہ رہے۔پورے ڈھیر کی مقدارکی جہالت ہو تو بیچنا ممنوع ہے اس کا ثبوت حدیث میں ہے سمعت جابر بن عبد اللہ یقول نھی رسول اللہ عن بیع الصبرة من التمر لا یعلم مکیلھا بالکیل المسمی من التمر (١لف) مسلم شریف ، باب تحریم بیع صبرة التمر المجہولة القدر بتمر ج ثانی ص ٦ نمبر ١٥٣٠) اس حدیث میں ہے کہ ڈھیر کی مقدار معلوم نہ ہو تو اس کو کھجور کے بدلے نہ بیچے تا کہ ربوا نہ ہو تا ہم اس کا بھی ثبوت ہوا کہ ڈھیر کی مقدارمعلوم نہ ہو تو جہالت کی وجہ سے پورے ڈھیر کی بیع نہیں ہوگی(٢) حدیث میں ہے  عن ابی ھریرة ان رسول اللہ مر برجل یبیع طعاما فسألہ کیف تبیع فاخبرہ فاوحی الیہ ان ادخل یدک فیہ فادخل یدہ فیہ فاذا ھومبلول فقال رسول اللہ ۖ لیس منا من غش (ب) (ابو داؤد شریف ، باب فی النھی عن الغش ص ١٣٣ نمبر ٣٤٥٢ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی کراہیة الغش فی البیوع ص ٢٤٥ نمبر ١٣١٥) اس حدیث میں بھیگا ہوئے گیہوں نیچے تھے اور صفت کی جہالت تھی تو آپۖ نے منع فرمایا ہے ۔ اس لئے قبول کے وقت ڈھیر کی مقدار معلوم نہ ہو اور اس کی مجموعی قیمت معلوم نہ ہو تو پورے ڈھیر کی بیع نہیں ہوگی۔  
اصول  قبول کے وقت مبیع کی مقدار اور اس کی قیمت معلوم ہونا ضراری ہے۔
فائدہ  صاحبین فرماتے ہیں کہ ناپ کر پورے ڈھیر کی مقدار اور اس کی مجموعی قیمت کا معلوم کرنا بائع اور مشتری کے ہاتھ میں ہے۔وہ فورا ناپ لیں گے اور مجموعی قیمت معلوم کر لیں گے اور مجلس ختم ہونے سے پہلے یہ کام ہو جائے گا تو کوئی جھگڑا نہیں ہوگا اس لئے ان کے نزدیک قبول سے پہلے پورے ڈھیر کی مقدار بیان کردے تب بھی پورے ڈھیر کی بیع ہوگی۔ اور پورے ڈھیر کی مقدار نہ بتائے تب بھی پورے ڈھیر کی بیع ہو جائیگی۔  
اصول  ان کا اصول یہ ہے کہ مجلس ختم ہونے سے پہلے ڈھیر کی مقدار اور اس کی مجموعی قیمت معلوم ہو جانے کا امکان ہو تب بھی جواز بیع کے لئے کافی ہے۔  
لغت  صبرة  :  ڈھیر۔  قفیز  :  ناپنے کا ایک پیمانہ اس کی جمع قفزان ہے۔
]٨٣٠[(١١)کسی نے بکری کا ریوڑ بیچا اس طرح کہ ہر بکری ایک درہم کی تو تمام ہی بکری میں بیع فاسد ہے۔  
وجہ  بکری میں تفاوت ہے کوئی موٹی ہے کوئی دبلی ہے اس لئے اوپر کے قاعدے کے اعتبار سے اگر ایک بکری کی بیع جائز قرار دیں تو جھگڑا ہوگا 

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے کھجور کے اس ڈھیر کو بیچنے سے روکا جس کا کیل معلوم نہ ہو کیل کے ذریعہ متعین کھجور کے بدلے میں،یعنی کھجور کے متعین کیل کے بدلے میں ایسے ڈھیر کو بیچنا جس کا کیل معلوم نہ ہو اس سے منع فرمایا(ب) حضورۖ ایسے آدمی کے سامنے سے گزرے جو گیہوں بیچ رہے تھے،آپۖ نے پوچھا کیسے بیچ رہے ہو تو انہوں نے حضورۖ کو بتایا ۔آپ کو ۖوحی آئی کہ اپنے ہاتھ کو گیہوں میں داخل کرے ۔تو آپ ۖ نے اس میں ہاتھ ڈالا تو گیہوں بھیگے ہوئے تھے۔پس آپۖ نے فرمایا جو دھوکہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ 

Flag Counter