البیع]٨٢٥[ (٦) والاثمان المطلقة لا تصح الا ان تکون معروفة القدر والصفة]٨٢٦[ (٧) ویجوز البیع بثمن حال و مؤجل اذا کان الاجل معلوما۔
ت الاعواض : عوض کی جمع ہے بدلے کی چیز،یہاں مبیع یا ثمن مراد ہے۔
]٨٢٥[(٦)اور مطلق ثمن نہیں صحیح ہے اس سے بیع مگر یہ کہ مقدار معلوم ہو اور صفت معلوم ہو۔
تشریح وہ ثمن اور قیمت جو سامنے نہ ہو بلکہ غائب ہو اور اس کی طرف اشارہ نہ کیا جا رہا ہو، اس کی مقدار کہ کتنے کیلو ہیں یا کتنے لیٹر ہیں یا کتنی تعداد ہے اور صفت یعنی اچھا ہے یا خراب ہے معلوم نہ ہو اس وقت تک اس سے بیع کرنا جائز نہیں ہے۔
وجہ جو چیز سامنے نہ ہو اس کو بائع دیکھ کر رضامندی کا اظہار نہیں کر سکے گا۔اس لئے اس میں دھوکہ ہے۔اس لئے اس سے بیع جائز نہیں۔حدیث میں ہے عن ابن عباس قال قدم النبی ۖ المدینة وھم یسلفون بالثمر السنتین والثلاث فقال من اسلف فی شیء ففی کیل معلوم ووزن معلوم الی اجل معلوم (الف) (بخاری شریف ، باب السلم فی وزن معلوم ص ٢٩٨ نمبر ٢٢٤٠مسلم شریف ج ثانی ص ٣١ نمبر ١٦٠٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو بیع یا ثمن سامنے موجود نہ ہو اس کا کیل یا وزن اور مدت معلوم ہو تب بیچنا خریدنا جائز ہوگا ورنہ نہیں۔(٢)رضامندی کے بغیر بیع جائز نہیں ہوگی اس کی دلیل مسئلہ نمبر ٥ میں حدیث ابو داؤد شریف نمبر ٣٤٥٨ گزری ۔(٣)اور جس میں دھوکہ ہو اس ثمن یا مبیع سے بیع جائز نہیں اس کی دلیل یہ حدیث ہے عن ابی ھریرة قال نھی رسول اللہ ۖ عن بیع الحصاة وعن بیع الغرر (ب) (مسلم شریف ، باب بطلان بیع الحصاة والبیع الذی فیہ غرر ج ثانی ص ٢ نمبر ١٥١٣ ابو داؤد شریف ، باب فی بیع الغرر ج ثانی ص ١٢٣ نمبر ٣٣٧٦) اس سے معلوم ہوا کہ جس بیع میں دھوکہ ہو وہ جائز نہیں۔ چیز معلوم نہ ہو تو اس کی بیع جائز نہیں اس کی دلیل یہ حدیث ہے عن عبد اللہ عن رسول اللہ ۖ انہ نھی عن بیع حبل الحبلة (ج) (مسلم شریف ، باب تحریم بیع حبل الحبلة ج ثانی ص ٢ نمبر ١٥١٤ بخاری شریف ، باب بیع الغرر وحبل الحبلة ص ٢٨٧ نمبر ٢١٤٣) اس حدیث میں حاملہ جانور کے اندر کا بچہ دیکھا نہیں جا سکتا ۔اس کی صفت مجہول ہے اور مقدار بھی معلوم نہیں ہے اس لئے اس کو بیچنا ناجائز قرار دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس غائب کی مقدار اور صفت معلوم نہ ہو اس کو بیچنا یا اس سے کوئی چیز خریدنا جائز نہیں۔
اصول غائب ثمن کی مقدار اور صفت بیان کرنا ضروری ہے (٢) دھوکے کی چیز نہ مبیع بن سکتی ہے اور نہ ثمن۔
لغت الاثمان المطلقة : جو ثمن غائب ہو یا اس کی مقدار اور صفت معلوم نہ ہو۔ القدر : مقدار مثلا کتنے کیلو ہیں۔
]٨٢٦[(٧) بیع نقد ثمن سے بھی جائز ہے اور ادھار ثمن سے بھی جائز ہے جبکہ تاریخ متعین ہو۔
وجہ ثمن ادا کرنے کی تاریخ متعین نہ ہو تو مشتری ثمن ادا کرنے میں ٹال مٹول کرے گااور جھگڑا کرے گا۔اس لئے بیع کے وقت ہی ثمن دینے کی تاریخ متعین کرلے (٢) دونوں طرح اس لئے جائز ہے کہ آیت میں مطلق بیع کرنے کے لئے کہا ہے۔آیت ہے احل اللہ البیع
حاشیہ : (الف) حضورۖ مدینہ تشریف لائے تو لوگ دوسال اور تین سال تک ادھار بیع کیا کرتے تھے تو آپۖ نے فرمایا جو کسی چیز کی ادھار بیع کرے تو اس کی کیل معلوم ہو وزن معلوم ہو اور مدت معلوم ہو(ب) آپۖ نے کنکری مار کر بیع کرنے سے اور دھوکے کی بیع سے روکا(ج) آپۖ نے حاملہ جانور کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا۔