Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

12 - 457
عدم رویة ]٨٢٤[(٥) والاعواض المشار الیھا لا یحتاج الی معرفة مقدارھا فی جواز 

لینے اور بیع توڑنے کا اختیار ہوگا اور دونوں کو خیار مجلس ہوگا ۔
 وجہ  وہ بھی اوہر کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں مالم یتفرقا سے مراد تفرق بالابدان ہے۔یعنی جسمانی طور پر دونوں جدا ہو جائیں اس وقت تک دونوں کو اپنی اپنی بات واپس لینے کا اختیار ہوگا۔چنانچہ اس حدیث کے راوی عبد اللہ بن عمر یہ کرتے تھے کہ کسی چیز کو خریدنے کے بعد اگر اس بیع کو توڑنے کا ارادہ نہ ہو تو کھڑے ہوکر تھوڑا سا چل لیتے تھے تاکہ مجلس بدل جائے اور بائع کو خیار مجلس کے تحت بیع کو توڑنے کا اختیار نہ ہو۔ جس سے معلوم ہوا کہ خود راوی تفرق سے تفرق بالاقوال نہیں بلکہ تفرق بالابدان مراد لیتے تھے۔ روایت ہے کہ  زاد ابن عمر فی روایتہ قال نافع فکان اذا بایع رجلا فاراد ان لایقیلہ قام فمشی ھنیئة ثم رجع الیہ (الف) مسلم شریف ، باب ثبوت خیار المجلس للمتبایعین ص ٣١ نمبر ٥٣١ا ابو داؤد شریف ، باب فی خیار المتبایعین ج ثانی ص ١٣٣،نمبر ٣٤٥٧) اس اثر میں ہے کہ حضرت ابن عمر تھوڑا چل لیتے تاکہ مجلس بدل جائے اور بائع کو بیع توڑنے کا اختیار نہ رہے۔  
اصول  حنفیہ کے نزدیک خیار مجلس کا حق نہیں ہوتا۔
]٨٢٤[(٥)بدلے کی چیز جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہو بیع کے جائز ہونے میں اس کی مقدار پہچاننے کی ضرورت نہیں ہے۔  
تشریح  الاعواض سے مراد ہے مبیع یا ثمن جو بدلے میں دیئے جاتے ہیں۔اگر مبیع یا ثمن سامنے موجود ہو اور بیع کے وقت اس کی طرف اشارہ کر دیا ہو تو اس کی مقدار کتنی ہے ،کتنے کیلو ہے یا کتنی تعداد ہے بیع کے جائز ہونے میں اس کو جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے متعین کئے بغیر بھی بیع جائز ہو جائے گی۔  
وجہ  پچھلے زمانے میں کوئی چیز سامنے ہو تو اس کی مقدار جانے بغیر بیع کر لیا کرتے تھے۔کیونکہ مشتری اس کو اسی حال میں خریدنے کے لئے راضی ہے ۔اور جہاں تک اچھا یا خراب ہونے کی بات ہے تو مشتری خود اس کو آنکھوں سے دیکھ کر خرید رہا ہے اور اس پر راضی ہے ۔اس لئے بیع ہو جائے گی  حدیث میں ہے  سمعت ابا ھریرة یقول قال رسول اللہ ۖ لا یفترقن اثنان الا عن تراض (ب) (ابو داؤد شریف ، باب فی خیار المتبایعین ج ثانی ص ١٣٣ نمبر ٣٤٥٨) معلوم ہوا کہ چیز سامنے ہو اور رضامندی سے خرید رہا ہو تو بیع جائز ہے۔اٹکل سے بیع بیچنے کی دلیل حدیث میں ہے  ان ابن عمر قال رایت الناس فی عھد رسول اللہ ۖ یبتاعون جزافا یعنی الطعام (ج) (بخاری شریف ، باب من رای اذا اشتری طعاما جزافا، ص ٢٨٦ نمبر ٢١٣٧ مسلم شریف ، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض ج ثانی ص ٥ نمبر ٣٨٤٧١٥٢٧)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مبیع سامنے ہو تو اٹکل سے بیچ سکتا ہے چاہے مقدار کا پتہ نہ ہو۔  
اصول  بیع کے لئے غائب چیز کی مقدار اور صفت بیان کی جاتی ہے ۔موجود کی نہیں۔  

حاشیہ  :  (الف) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر جب کسی سے بیع کرنے اور اقالہ کرتے کی نیت نہ ہوتی تو کھڑے ہو کر چلتے پھر واپس لوٹ آتے تاکہ خیار مجلس سے بیع توڑ نہ دے (ب) آپۖ نے فرمایا دونوں آدمی جدا نہ ہوں مگر رضامندی کے ساتھ (ج) عبد اللہ ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو حضور کے زمانے میں دیکھا وہ غلوں کو اٹکل سے بیچتے تھے۔

Flag Counter