]٨٢٧[ (٨) ومن اطلق الثمن فی البیع کان علی غالب نقد البلد فان کانت النقود مختلفة فالبیع فاسد الا ان یبین احدھا ]٨٢٨[(٩) ویجوز بیع الطعام والحبوب کلھا مکائلة و
وحرم الربوا (آیت ٢٧٥ سورة البقرة٢) اس میں ادھار اور نقد کی قید نہیں لگائی ہے اس لئے نقد اور ادھار دونوں طرح سے بیع جائز ہوگی (٣) ادھار ثمن سے بیع کرنے کی دلیل اس حدیث میں ہے عن عائشة ان النبی اشتری طعاما من یھودی الی اجل ورھنہ درعا من حدید (الف) (بخاری شریف ، باب شراء النبی ۖ بالنسیة ص ٢٧٧ نمبر ٢٠٦٨ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الرخصة فی الشراء الی اجل ص ٢٣٠ نمبر ١٢١٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ادھار ثمن کے ساتھ مبیع خرید سکتا ہے۔ مدت متعین ہو اس کی دلیل مسئلہ نمبر ٦ میں بخاری شریف نمبر ٢٢٤٠ اور مسلم شریف نمبر ١٦٠٤ کی حدیث گزر گئی ۔
اصول دھوکہ نہ ہو اس لئے ثمن ادا کرنے کی تاریخ متعین ہونا ضروری ہے۔
نوٹ اگر تاریخ متعین نہیں کی اور بعد میں جھگڑا بھی نہیں ہوا تو بیع جائز ہو جائے گی۔اوپر کی حدیث میں اس کا اشارہ موجود ہے۔
لغت مؤجل : مؤخر۔ الاجل : مدت۔
]٨٢٧[(٨) جس نے بیع میں ثمن مطلق رکھا تو وہ شہر کے غالب نقد پر ہوگا۔پس اگر نقود مختلف ہوں تو بیع فاسد ہوگی مگر یہ کہ ایک نقد کو بیان کردے ۔
تشریح شہر میں کئی قسم کے سکے رائج ہوں اور بیع کرتے وقت کسی ایک کو متعین نہیں کیا تو اگر کسی ایک سکے کا رواج زیادہ ہو تو وہی سکہ مراد ہوگا۔ وجہ کیونکہ جس سکے کا رواج زیادہ ہوتا ہے بیع کرتے وقت دونوں کا ذہن اسی طرف جاتا ہے۔ اس لئے وہی مراد ہوگا اور بیع جائز ہو جائے گی۔لیکن اگر تمام ہی سکوں کا رواج برابر ہے اور ہر ایک کی مالیت مختلف ہے تو اب جہالت کی وجہ سے بیع فاسد ہوگی۔کیونکہ بائع اعلی سکہ طلب کرے گا اور مشتری ادنی سکہ دینا چاہے گا۔اور کوئی سکہ متعین نہیں ہے اس لئے نزاع ہوگا۔اس لئے بیع فاسد ہو جائے گی۔البتہ اگر مجلس ختم ہونے سے پہلے کوئی ایک سکے کی نشان دہی کردی جائے تو وہی سکہ متعین ہو کر بیع جائز ہو جائے۔
اصول تعین نہ ہوتے وقت غالب کا اعتبار کیا جائے گا ۔
لغت نقد البلد : شہر کا سکہ۔
]٨٢٨[(٩)جائز ہے کھانے اور غلوں سب کوبیچنا کیل کرکے اوراٹکل سے اور متعین برتن سے جس کی مقدار معلوم نہ ہو یا متعین پتھر کے وزن سے جس کی مقدار معلوم نہ ہو۔
تشریح جو مبیع سامنے موجود ہو اور غلہ اور کھانے کی جنس سے ہو،درہم اور دنانیر نہ ہوں تو اس کو چار طریقوں سے بیچنا جائز ہے جن کا تذکرہ متن میں ہے (١)برتن میں کیل کرکے بیچے (٢) اٹکل سے ویسے ہی بیچ دے یہ بھی جائز ہے (٣) ایک برتن ہے جس کا وزن یا کیل معلوم نہیں ہے کہ اس میں کتنے گیہوں سماتے ہیں لیکن بائع اور مشتری کے درمیان یہ طے ہو گیا کہ ایک برتن کے بدلے پانچ پونڈ دوں گا تو بیع جائز ہو جائے
حاشیہ : (الف) آپۖ نے یہودی سے ایک مدت تک کے لئے غلہ خریدا اور اس کے بدلے لوہے کی زرہ رہن رکھی۔