ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011 |
¾اكستان Ù |
|
دستیاب ہوں گی۔ غزوہ اُحد کی طرف ذہن کو منتقل کیجیے آنحضرت ۖ کو جب سینکڑوں کفار نے نرغے میں لے لیا تھا اَور جان سے مارنے کی کوشش کرنی شروع کردی تھی اُس وقت آپ کے ساتھ حفاظت کے لیے کتنے آدمی تھے۔ اِمام نسائی نے حضرت جابر سے روایت نقل کی ہے : لَمَّا کَانَ یَوْمُ اُحُدٍ وَوَلَّی النَّاسُ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ فِیْ نَاحِیَةٍ فِیْ اِثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ۔''جنگ ِاُحد میں جب مسلمان ہزیمت کھا کر بھاگنے لگے تو آپ صرف بارہ آدمیوں کے درمیان میں تھے۔'' علاوہ اَزیں اِسی طرح غزوہ حنین کا واقعہ ملاحظہ فرمائیے : اِسی طرح واقعہ شہادت عثمان غنی ملاحظہ فرمائیے کہ وہ اپنے گھر میں مظلومانہ محصور ہیں، واقعی حضرت گنگوہی کا وہ اِرشاد (حضرت رحمة اللہ کے بارے میں) کہ آپ کو عثمانی نسبت حاصل ١ ہے گویا ایک پیشنگوئی تھی اَور ذرا یہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ آنحضرت ۖ نے غزوہ اُحد کے وقت کیا فرمایا تھا۔ کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْم شَجُّوْا نَبِیَّھُمْ ۔''وہ قوم کس طرح فلاح پا سکتی ہے کہ جس نے اپنے نبی کو زخمی کیا ہو۔'' یہاں حضرت کے الفاظ بھی ملاحظہ فرمائیے : ''یہ تو کچھ بھی حالت نہیں آیندہ ملک کی اِس سے زیادہ خراب حالت ہونے والی ہے'' ٢چنانچہ تاریخ شاہد ہے اَور ہر ہندوستانی جانتا ہے کہ ملک کی کیا حالت ہوئی یہ حضرت شیخ کی کرامت ہے پاکستان کی موجودہ حالت ملاحظہ فرمایئے کہ کیسی غنڈہ گردی اَور وَزارتی بحران ہے، بھلا وہ ملک کیا ترقی کر سکتا ہے کہ جس کی بنیاد حضرت شیخ کی عزت ریزی پر قائم ہوئی ہو۔ پھر جس طرح حضرت عثمان سے زمانہ محاصرت میں اِجازت لی گئی کہ آ پ محاصرین کی سر کوبی کے لیے فوج کو حکم دیجیے توآپ نے اِنکار کردیا۔ ١ نقش حیات ٢ یاد رہے جس نے خدا کے نیک بندوں کو ستایا یا اَور اُن کی اِہانت کی یقینًا تباہی اَور ذِلت اُس کا اِستقبال کرے گی اَور جس نے اُن کا اِکرام کیا اُس کو عزت اَور سرفرازی حاصل ہوگی۔ حضرت مولانا مدنی رحمہ اللہ اَور حضرت مولانا اِلیاس رحمہ اللہ کی زندگیوں کے نمونے ہمارے سامنے ہیں ۔