ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011 |
¾اكستان Ù |
|
دینی مسائل ( متفرق مسائل ) دین سے پھرجانا : مسئلہ : جب اللہ تعالیٰ کی یا اُس کے کسی رسول کی کچھ تحقیر کی یا شریعت کی بات کو براجانا یا کفر کی بات پسندکی اِن سب باتوں سے اِیمان جاتا رہتا ہے مثلًا (١) کسی نے کہا اُٹھو نماز پڑھو ۔جواب دیا کون اُٹھک بیٹھک کرے یا کسی نے روزہ رکھنے کو کہا تو جواب دیا کون بھوکا مرے یا کہا روزہ تو وہ رکھے جس کے گھر کھانا نہ ہو۔ (٢) کسی کو گناہ کرتے دیکھ کر کہا تو خدا سے ڈرتا نہیں۔ اُس نے جواب دیا ہاں نہیں ڈرتا۔ (٣) کسی کو برا کام کرتے دیکھ کرکہا کیا تو مسلمان نہیں جو ایسا کام کرتا ہے ۔جواب دیا ہاں نہیں ہوں۔ (٤) کسی کافر کی کوئی بات اچھی معلوم ہوئی اِس لیے تمنا کر کے کہا کہ ہم بھی کافر (یا مثلًا عیسائی یا ہندو) ہوتے تو اچھا تھا۔ (٥) کسی کا بچہ مر گیا اُس نے یوں کہا یا اللہ یہ ظلم مجھ پر کیوں کیا مجھے کیوں ستایا۔ (٦) کسی نے یوں کہا اگر خدا بھی مجھ سے کہے تب بھی یہ کام نہ کروں۔ اِس قسم کی تمام باتوں سے کہنے والا آدمی کافر ہوجاتا ہے۔ مسئلہ : ہنسی دِل لگی میں بھی کفر کی بات کہے دِل سے نہ کہے تب بھی آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ مسئلہ : اَمریکہ یورپ میں رہنے کے لیے اپنے بارے میں قادیانی ہونے کا اِقرار و اِظہار کرنا بھی کلمہ کفر ہے۔ دُنیوی فائدے کے لیے کفر کا کلمہ زبان سے نکالنا بہت ہی خطرناک بات ہے کیا پتہ یہ کہتے ہی موت آجائے توبہ بھی نہ کر سکے ۔اِسی طرح سے بینکوں میں زکوة کی کٹوتی سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو شیعہ لکھ کر دینا بھی خطرناک بات ہے۔(باقی صفحہ ٦٣ )