ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011 |
¾اكستان Ù |
|
مدافعت کے باوجود کلاہ سرِ مبارک سے اُتار لی، بے ہودہ کلمات بکتے ہوئے پاؤں سے رَوندا اَور اُس کو جلا دیا ہم میں سے بعض اَشخاص نے ایک مسلمان سب اِنسپکٹر کو جو قریب ہی تھا اِمداد کے لیے متوجہ کیا مگر اَفسوس اُس نے لیگی ذہنیت کی وجہ سے اِبتدًا لطائف الحیل سے کام لے کر کچھ دیر بعد صاف وصریح اِنکار کر دیا کہ میں اِس بڑے مجمع کو قابو میں لانے سے معذور ہوں۔ جب اُس پولیس آفیسر نے اپنی شرعی اَور قانونی ذمہ داری کا قطعی احساس نہیں کیا تو ہم میں سے بعض مایوسانہ طریقہ پر وَرکشاپ کے اِنگلواِنڈین آفیسر کے پاس پہنچے وہ فورًا اِسٹیشن پر آیا اَور فی الواقع اَمن و اَمان قائم کرنے کی بہت کچھ کوشش کی اپنے ماتحت مزدوروں سے یہاں تک کہا کہ خبردار! یہ تم کیا کرتے ہو۔ ہم جانتے ہیں یہ شخص تمہارا بہت بڑا پوپ ہے زبردست پادری ہے نہایت نیک آدمی ہے، کیا تم اِسی طرح غنڈا پن سے شراب پی پی کر پاکستان لینا چاہتے ہو، دُور ہوجاؤ، دفع ہوجاؤ، تمہارے منہ سے شراب کی بو آتی ہے، غرض اُس آفیسر نے سب کو سمجھایا کچھ اَثر نہ ہوا۔ اَور مدنی صاحب اِسی درمیان میں بمشکلِ تمام ویٹنگ رُوم میں داخل کیے جانے کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرح مظلومانہ محصور تھے۔ اِس ناکامی کے بعد اِسٹیشن اَفسران وغیرہ کی سعی کے ذریعہ یہ طے پایا کہ مولانا کو اِس صورت میں چھوڑا جا سکتا ہے کہ یہ اِسی شب دَار جلنگ میل سے واپس ہوجائیں چنانچہ ایساہی ہوا۔ حضرت شیخ ساڑھے آٹھ بجے شام سے لے کر ڈیڑھ بجے شب تک پانچ گھنٹے اِس مصیبت ِعظمی میں مبتلا رہ کر دَار جلنگ میل سے بھاگلپور کے لیے روانہ ہوگئے پھر بھاگلپور پہنچ کر دوبارہ جو مصیبت آئی وہ بھی اَخبارات میں مجملًا آگئی ہے۔ (ص ٢٣٤ ) اَب اِس واقعہ کے اَجزا پر نظر ڈالیے اَور غور کیجیے یہ اِیذا رَسانی کس قسم کی ہے، دُنیا میں اَولیاء اللہ اَور مجاہدین فی سبیل اللہ کو بڑے بڑے شدائد کا مقابلہ کرنا پڑا ہے بعض ایسے بھی ہوئے کہ جن کو توپ کے دَھانے پر اُڑا دیا گیا، بعض کو چو میخا کر کے مارا گیا لیکن حضرت کی تکلیفات جس شان کی ہیں اُس کی مثالیں شاذ ونادر ہی