Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011

¾اكستان Ù

30 - 65
مدافعت کے باوجود کلاہ سرِ مبارک سے اُتار لی، بے ہودہ کلمات بکتے ہوئے پاؤں سے رَوندا اَور اُس کو جلا دیا ہم میں سے بعض اَشخاص نے ایک مسلمان سب اِنسپکٹر کو جو  قریب ہی تھا اِمداد کے لیے متوجہ کیا مگر اَفسوس اُس نے لیگی ذہنیت کی وجہ سے اِبتدًا لطائف الحیل سے کام لے کر کچھ دیر بعد صاف وصریح اِنکار کر دیا کہ میں اِس بڑے مجمع کو قابو میں لانے سے معذور ہوں۔ 
جب اُس پولیس آفیسر نے اپنی شرعی اَور قانونی ذمہ داری کا قطعی احساس نہیں کیا تو ہم میں سے بعض مایوسانہ طریقہ پر وَرکشاپ کے اِنگلواِنڈین آفیسر کے پاس پہنچے وہ فورًا اِسٹیشن پر آیا اَور فی الواقع اَمن و اَمان قائم کرنے کی بہت کچھ کوشش کی اپنے ماتحت مزدوروں سے یہاں تک کہا کہ خبردار! یہ تم کیا کرتے ہو۔ ہم جانتے ہیں یہ شخص تمہارا بہت بڑا پوپ ہے زبردست پادری ہے نہایت نیک آدمی ہے، کیا تم اِسی طرح غنڈا پن سے شراب پی پی کر پاکستان لینا چاہتے ہو، دُور ہوجاؤ، دفع ہوجاؤ، تمہارے منہ سے شراب کی بو آتی ہے، غرض اُس آفیسر نے سب کو سمجھایا کچھ اَثر نہ ہوا۔ اَور مدنی صاحب اِسی درمیان میں بمشکلِ تمام ویٹنگ رُوم میں داخل کیے جانے کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرح مظلومانہ محصور تھے۔ 
اِس ناکامی کے بعد اِسٹیشن اَفسران وغیرہ کی سعی کے ذریعہ یہ طے پایا کہ مولانا کو اِس صورت میں چھوڑا جا سکتا ہے کہ یہ اِسی شب دَار جلنگ میل سے واپس ہوجائیں چنانچہ ایساہی ہوا۔ حضرت شیخ ساڑھے آٹھ بجے شام سے لے کر ڈیڑھ بجے شب تک پانچ گھنٹے اِس مصیبت ِعظمی میں مبتلا رہ کر دَار جلنگ میل سے بھاگلپور کے لیے روانہ ہوگئے پھر بھاگلپور پہنچ کر دوبارہ جو مصیبت آئی وہ بھی اَخبارات میں مجملًا آگئی ہے۔ (ص ٢٣٤ ) 
اَب اِس واقعہ کے اَجزا پر نظر ڈالیے اَور غور کیجیے یہ اِیذا رَسانی کس قسم کی ہے، دُنیا میں اَولیاء اللہ اَور مجاہدین فی سبیل اللہ کو بڑے بڑے شدائد کا مقابلہ کرنا پڑا ہے بعض ایسے بھی ہوئے کہ جن کو توپ کے دَھانے پر اُڑا دیا گیا، بعض کو چو میخا کر کے مارا گیا لیکن حضرت کی تکلیفات جس شان کی ہیں اُس کی مثالیں شاذ ونادر ہی
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 تلاوت روزے اپنی مرضی سے نہیں سنت کے مطابق رکھنے ہوتے ہیں : 8 3
5 لفظ ِ ''جوانی'' کے بجائے ''صحت'' فرمانے کی حکمت : 9 3
6 دُوسری نعمت ''فراغت '' : 10 3
7 دِلچسپی بھی آخرت بھی : 11 3
8 شوق و تفریح کا خیال فرمانا : 11 3
9 حضرت عائشہ کے ساتھ دَوڑ لگانا : 12 3
10 خوش طبعی فطری حق ہے : 12 3
11 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٦ 14 1
12 مرد کی دِیت کامل اَور عورت کی نصف ہو گی 14 11
13 اِس کی حکمت ؟ 14 11
14 مساوات : 16 11
15 تعامل نہیں بلکہ اِجماع : 20 11
16 روایات ِ ائمہ کرام : 20 11
17 اَقوال و فتاوٰی اَئمہ کرام : 24 11
18 اَنفَاسِ قدسیہ 27 1
19 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 27 1
20 صبر و تحمل ١ : 27 19
21 ایک واقعہ 33 19
22 قسط : ٢ ،آخری 35 1
23 ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں 35 22
24 (3) اَحادیث ِنبویہ سے ناواقفیت : 35 22
25 (الف) عورتوں کے لیے حالت ِحیض میں قرآن پڑھنے کاجواز 35 22
26 (ب) خون سے وضو ٹوٹنے پراَحناف کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے : 35 22
27 (ج) مردوعورت کی نماز میں فرق کرنا جائز نہیں : 37 22
28 سوادِ اَعظم کی راہ سے نمایاں اِنحراف 38 22
29 (الف) بِلاوضو قرآن چھونا جائز ہے : 38 22
30 (ب) خطبہ ٔجمعہ عربی زبان کے بجائے مقامی زبان میں ہوناچاہیے : 39 22
31 (ج) تین طلاق سے ایک ہی طلاق ہونی چاہیے : 40 22
32 (د) پوری دُنیامیں عیدایک دِن ہو : 43 22
33 قسط : ٣ پردہ کے اَحکام 46 1
34 پردہ کے ضروری ہونے کی عقلی و عرفی دَلیل : 46 33
35 پردہ کے ضروری ہونے کی لُغوی دَلیل : 47 33
36 پردہ کے ضروری ہونے کی تمدنی شرعی دَلیل : 47 33
37 پردہ کے ضروری ہونے کی معاشرتی دَلیل : 48 33
38 پردہ کے ضروری ہونے کی ایک اَور عقلی دَلیل : 48 33
39 قسط : ٣صحابہث کی زِندگی اَور ہمارا عمل 49 1
40 حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات 49 39
41 (٢) علمی گیرائی : 49 39
42 (الف) تعلیمی حلقے : 49 39
43 صحابہ ث معیارِ حق ہیں : 50 39
44 (ب) بدعات سے اِجتناب : 51 39
45 بدعت کا سبب جہالت ہے یا شرارت : 54 39
46 موجودہ زمانہ کاحال : 55 39
47 ''بدعت'' دین کی توہین کا سبب ہے : 56 39
48 بدعات کا خاتمہ کیسے ہو؟ : 57 39
49 (ج) پیغمبر علیہ السلام پر وَالہانہ وَارفتگی : 58 39
50 دینی مسائل ( متفرق مسائل ) 60 1
51 دین سے پھرجانا : 60 50
52 وفیات 61 50
53 63 1
54 اَخبار الجامعہ 63 1
55 بقیہ : دینی مسائل 64 50
Flag Counter