ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011 |
اكستان |
|
سب سے بڑی نشانی سمجھنے لگے ہیں، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔ اِسی طرح اَولیاء اللہ کے مزارات پر جو طوفانِ بدتمیزی مچتا ہے وہ سب دین کی اَصل شبیہ کو مسخ کرنے کا ذریعہ ہے، مزارات کی بے جا تعظیم وتقدس دیکھ کر غیر مسلم بھی یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہمارے مذہب میں اَور اِسلام میں کوئی خاص فرق نہیں بس مورتی اَور قبر کا فرق ہے اَور بعض بدعتی علماء اپنے فتوؤں میں بظاہر اِن چیزوں کی تردید کرتے ہیں مگر عملی طور پر نہ صرف اِن بدعات میں شریک رہتے ہیں بلکہ دَھڑلّے سے اِن کی سرپرستی کرتے ہیں اَور لچر تاویلات کے ذریعہ اِن بدعملیوں کو سند ِجواز عطا کرتے ہیں جو حد درجہ قابلِ مذمت عمل ہے۔ بدعات کا خاتمہ کیسے ہو؟ : مگر یہاں ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ چونکہ ہر بدعت دین کے نام پر ہی کی جاتی ہے اَور بدعت کا شوقین ہر شخص اِسے دین ثابت کرنے پر اَیڑی چوٹی کا زور لگا دیتا ہے تو پھر آخر اِن بدعات پر روک کیسے لگے؟ اِس بارے میں ہمارے پاس ہمارے آقا ومولا سرورِ عالم حضرت محمد ۖ کی واضح رہنمائی موجود ہے۔ صحابیٔ رسول حضرت عرباض بن ساریہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبیٔ اکرم ۖنے ایسا پر اَثر وعظ فرمایا کہ سننے والوں کی آنکھوں سے آنسو رَواں ہوگئے اَور دِل کانپ اُٹھے تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول یہ تو آخری نصیحت معلوم ہوتی ہے تو آپ ہمیں کیا تاکیدی حکم دینا چاہتے ہیں؟ تو آپ ۖ نے جواب میں اِرشاد فرمایا : قَدْ تَرَکْتُمْ عَلَی الْبَیْضَائِ، لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا، لَایَزِیْغُ عَنْہَا بَعْدِیْ ِلَّا ہَالِک، مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ فَسَیَرٰی اِخْتِلَافًا کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِیْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ عَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ....... الخ(سنن ابن ماجہ ص٤٣) ''میں تم کو روشن شریعت پر چھوڑکر جارہا ہوں جسکی رات بھی دِن کی طرح (روشن) ہے، اِس سے میرے بعد وہی شخص اِعراض کرے گا جو تباہ ہونے والا ہے، تم میں جو شخص بعد میں زندہ رہے گا تو وہ بہت اِختلاف دیکھے گا اِس لیے تم پر میری معروف سنتوں اَور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنتوں کی پیروی لازم ہے، اِن سنتوں پر دانت گاڑ کر رہنا۔''