Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011

اكستان

57 - 65
سب سے بڑی نشانی سمجھنے لگے ہیں، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔
اِسی طرح اَولیاء اللہ کے مزارات پر جو طوفانِ بدتمیزی مچتا ہے وہ سب دین کی اَصل شبیہ کو مسخ کرنے کا ذریعہ ہے، مزارات کی بے جا تعظیم وتقدس دیکھ کر غیر مسلم بھی یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہمارے مذہب میں اَور اِسلام میں کوئی خاص فرق نہیں بس مورتی اَور قبر کا فرق ہے اَور بعض بدعتی علماء اپنے فتوؤں میں بظاہر اِن چیزوں کی تردید کرتے ہیں مگر عملی طور پر نہ صرف اِن بدعات میں شریک رہتے ہیں بلکہ دَھڑلّے سے اِن کی سرپرستی کرتے ہیں اَور لچر تاویلات کے ذریعہ اِن بدعملیوں کو سند ِجواز عطا کرتے ہیں جو حد درجہ قابلِ مذمت عمل ہے۔
بدعات کا خاتمہ کیسے ہو؟  :
مگر یہاں ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ چونکہ ہر بدعت دین کے نام پر ہی کی جاتی ہے اَور بدعت کا شوقین ہر شخص اِسے دین ثابت کرنے پر اَیڑی چوٹی کا زور لگا دیتا ہے تو پھر آخر اِن بدعات پر روک کیسے لگے؟  اِس بارے میں ہمارے پاس ہمارے آقا ومولا سرورِ عالم حضرت محمد  ۖ کی واضح رہنمائی موجود ہے۔  صحابیٔ رسول حضرت عرباض بن ساریہ   فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبیٔ اکرم  ۖنے ایسا پر اَثر وعظ فرمایا کہ سننے والوں کی آنکھوں سے آنسو رَواں ہوگئے اَور دِل کانپ اُٹھے تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول یہ تو آخری نصیحت معلوم ہوتی ہے تو آپ ہمیں کیا تاکیدی حکم دینا چاہتے ہیں؟ تو آپ  ۖ نے جواب میں اِرشاد فرمایا  : 
قَدْ تَرَکْتُمْ عَلَی الْبَیْضَائِ، لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا، لَایَزِیْغُ عَنْہَا بَعْدِیْ ِلَّا ہَالِک، مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ فَسَیَرٰی اِخْتِلَافًا کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِیْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ عَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ....... الخ(سنن ابن ماجہ  ص٤٣)
''میں تم کو روشن شریعت پر چھوڑکر جارہا ہوں جسکی رات بھی دِن کی طرح (روشن) ہے، اِس سے میرے بعد وہی شخص اِعراض کرے گا جو تباہ ہونے والا ہے، تم میں جو شخص بعد میں زندہ رہے گا تو وہ بہت اِختلاف دیکھے گا اِس لیے تم پر میری معروف سنتوں اَور میرے  ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنتوں کی پیروی لازم ہے، اِن سنتوں پر دانت گاڑ کر رہنا۔''
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 تلاوت روزے اپنی مرضی سے نہیں سنت کے مطابق رکھنے ہوتے ہیں : 8 3
5 لفظ ِ ''جوانی'' کے بجائے ''صحت'' فرمانے کی حکمت : 9 3
6 دُوسری نعمت ''فراغت '' : 10 3
7 دِلچسپی بھی آخرت بھی : 11 3
8 شوق و تفریح کا خیال فرمانا : 11 3
9 حضرت عائشہ کے ساتھ دَوڑ لگانا : 12 3
10 خوش طبعی فطری حق ہے : 12 3
11 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٦ 14 1
12 مرد کی دِیت کامل اَور عورت کی نصف ہو گی 14 11
13 اِس کی حکمت ؟ 14 11
14 مساوات : 16 11
15 تعامل نہیں بلکہ اِجماع : 20 11
16 روایات ِ ائمہ کرام : 20 11
17 اَقوال و فتاوٰی اَئمہ کرام : 24 11
18 اَنفَاسِ قدسیہ 27 1
19 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 27 1
20 صبر و تحمل ١ : 27 19
21 ایک واقعہ 33 19
22 قسط : ٢ ،آخری 35 1
23 ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں 35 22
24 (3) اَحادیث ِنبویہ سے ناواقفیت : 35 22
25 (الف) عورتوں کے لیے حالت ِحیض میں قرآن پڑھنے کاجواز 35 22
26 (ب) خون سے وضو ٹوٹنے پراَحناف کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے : 35 22
27 (ج) مردوعورت کی نماز میں فرق کرنا جائز نہیں : 37 22
28 سوادِ اَعظم کی راہ سے نمایاں اِنحراف 38 22
29 (الف) بِلاوضو قرآن چھونا جائز ہے : 38 22
30 (ب) خطبہ ٔجمعہ عربی زبان کے بجائے مقامی زبان میں ہوناچاہیے : 39 22
31 (ج) تین طلاق سے ایک ہی طلاق ہونی چاہیے : 40 22
32 (د) پوری دُنیامیں عیدایک دِن ہو : 43 22
33 قسط : ٣ پردہ کے اَحکام 46 1
34 پردہ کے ضروری ہونے کی عقلی و عرفی دَلیل : 46 33
35 پردہ کے ضروری ہونے کی لُغوی دَلیل : 47 33
36 پردہ کے ضروری ہونے کی تمدنی شرعی دَلیل : 47 33
37 پردہ کے ضروری ہونے کی معاشرتی دَلیل : 48 33
38 پردہ کے ضروری ہونے کی ایک اَور عقلی دَلیل : 48 33
39 قسط : ٣صحابہث کی زِندگی اَور ہمارا عمل 49 1
40 حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات 49 39
41 (٢) علمی گیرائی : 49 39
42 (الف) تعلیمی حلقے : 49 39
43 صحابہ ث معیارِ حق ہیں : 50 39
44 (ب) بدعات سے اِجتناب : 51 39
45 بدعت کا سبب جہالت ہے یا شرارت : 54 39
46 موجودہ زمانہ کاحال : 55 39
47 ''بدعت'' دین کی توہین کا سبب ہے : 56 39
48 بدعات کا خاتمہ کیسے ہو؟ : 57 39
49 (ج) پیغمبر علیہ السلام پر وَالہانہ وَارفتگی : 58 39
50 دینی مسائل ( متفرق مسائل ) 60 1
51 دین سے پھرجانا : 60 50
52 وفیات 61 50
53 63 1
54 اَخبار الجامعہ 63 1
55 بقیہ : دینی مسائل 64 50
Flag Counter