ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011 |
¾اكستان Ù |
|
''سید پور اَور بھاگل پور میں جس نوعیت سے حضرت مولانا سیّد حسین احمد صاحب مدنی شیخ الحدیث دارُالعلوم دیوبند وصدر جمعیة علماء ہند کی ذاتِ بابرکات پر قاتلانہ اَور وحشیانہ حملے ہوئے وہ ہر سنجیدہ شخص کے لیے اِنتہائی رَنج و قلق کا موجب ہیں۔حضرت مولانا ریاض الدین صاحب سید پوری جو کہ حضرت شیخ مدظلہ کے میزبان اَور سید پور لانے کا باعث تھے وہ کلکتہ تشریف لائے ہوئے تھے، موصوف نے راقم الحروف کو نمازجمعہ سے قبل نمازیانِ مسجد کو لوٹولہ کی موجود گی میں اپنی دَرد بھری داستان سنائی کہ حضرت مدنی صاحب اپنے خادم احسان الحق صاحب مرحوم کی تعزیت میں قصبہ سونا تشریف لائے ہوئے تھے اَور میری درخواست پر شام کا کھانا تناول فرمانے کے لیے سید پور اِسٹیشن پر اُترے تھے۔ اَور اَفسوس کہ ممدوح کو میرے غریب خانہ تک پہنچنے کی نوبت بھی نہ آئی تھی کہ دفعتًا تقریبًا سات سو لوگوں کا اَنبوہ لیگی نعرے لگاتا ہوا اِسٹیشن پر آدھمکا اَور حضرت شیخ کو عریاں دَشنام دہی شروع کردی، ہاتھوں میں لاٹھیاں، ڈنڈے اَور چھریاں تھیں، بے تمیزی سے نام لے کر قتل کر ڈالو، مار ڈالو، ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو، یہ غدار ہے ایسا ہے ویسا ہے جو کچھ منہ پر آرہا تھا بکواس کی، ہم برائے اِستقبال صرف دس پندرہ آدمی تھے اَور اُن لوگوںمیں برابر ناقوس پر ناقوس بجانے پر زیادتی ہو رہی تھی چنانچہ دیکھتے دیکھتے تقریبًا تین ہزار غنڈے سید پور وَرکشاب اَور مضافات سے جمع ہوگئے اَور پھر کربلا کا منظر'' حسین احمد بن حسین'' کے سامنے آگیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ماردھاڑ شروع کردی اَور ہم چند لوگ جو شیخ مدظلہ کو حلقہ میں لیے ہوئے تھے کچھ مجروح اَور کچھ مضروب ہو رہے تھے اَور خدا جانے ہم لوگوں میں آیا فرشتے آگئے تھے یا کیا بات تھی کہ بے اِنتہا قوت ہمارے اَندر پیدا ہو رہی تھی اَور ہم کَاَنَّھُمْ بُنْیَان مَّرْصُوْص بنے ہوئے تھے۔ اِسی اَثنا میںایک فرعون بے سامان نے اپنی فرعونیت کا شدید ترین مظاہرہ کیا، مدنی صاحب کو زمین پر پچھاڑ نے کی کوشش کی اَور بے دَردی سے گریبان اَور آخر میں سخت