Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011

¾اكستان Ù

29 - 65
''سید پور اَور بھاگل پور میں جس نوعیت سے حضرت مولانا سیّد حسین احمد صاحب مدنی شیخ الحدیث دارُالعلوم دیوبند وصدر جمعیة علماء ہند کی ذاتِ بابرکات پر قاتلانہ اَور وحشیانہ حملے ہوئے وہ ہر سنجیدہ شخص کے لیے اِنتہائی رَنج و قلق کا موجب ہیں۔حضرت مولانا ریاض الدین صاحب سید پوری جو کہ حضرت شیخ مدظلہ کے میزبان اَور سید پور لانے کا باعث تھے وہ کلکتہ تشریف لائے ہوئے تھے، موصوف نے راقم الحروف کو نمازجمعہ سے قبل نمازیانِ مسجد کو لوٹولہ کی موجود گی میں اپنی دَرد بھری داستان سنائی کہ حضرت مدنی صاحب اپنے خادم احسان الحق صاحب مرحوم کی تعزیت میں قصبہ سونا تشریف لائے ہوئے تھے اَور میری درخواست پر شام کا کھانا تناول فرمانے کے لیے سید پور اِسٹیشن پر اُترے تھے۔ اَور اَفسوس کہ ممدوح کو میرے غریب خانہ تک پہنچنے کی نوبت بھی نہ آئی تھی کہ دفعتًا تقریبًا سات سو لوگوں کا اَنبوہ لیگی نعرے لگاتا ہوا اِسٹیشن پر آدھمکا اَور حضرت  شیخ کو عریاں دَشنام دہی شروع کردی، ہاتھوں میں لاٹھیاں، ڈنڈے اَور چھریاں تھیں، بے تمیزی سے نام لے کر قتل کر ڈالو، مار ڈالو، ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو، یہ غدار ہے ایسا ہے ویسا ہے جو کچھ منہ پر آرہا تھا بکواس کی، ہم برائے اِستقبال صرف دس پندرہ آدمی تھے اَور اُن لوگوںمیں برابر ناقوس پر ناقوس بجانے پر زیادتی ہو رہی تھی چنانچہ دیکھتے دیکھتے تقریبًا تین ہزار غنڈے سید پور وَرکشاب اَور مضافات سے جمع ہوگئے اَور پھر کربلا کا منظر'' حسین احمد بن حسین'' کے سامنے آگیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ 
ماردھاڑ شروع کردی اَور ہم چند لوگ جو شیخ مدظلہ کو حلقہ میں لیے ہوئے تھے کچھ مجروح اَور کچھ مضروب ہو رہے تھے اَور خدا جانے ہم لوگوں میں آیا فرشتے آگئے تھے یا کیا بات تھی کہ بے اِنتہا قوت ہمارے اَندر پیدا ہو رہی تھی اَور ہم  کَاَنَّھُمْ بُنْیَان مَّرْصُوْص  بنے ہوئے تھے۔
اِسی اَثنا میںایک فرعون بے سامان نے اپنی فرعونیت کا شدید ترین مظاہرہ کیا، مدنی صاحب کو زمین پر پچھاڑ نے کی کوشش کی اَور بے دَردی سے گریبان اَور آخر میں سخت
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 تلاوت روزے اپنی مرضی سے نہیں سنت کے مطابق رکھنے ہوتے ہیں : 8 3
5 لفظ ِ ''جوانی'' کے بجائے ''صحت'' فرمانے کی حکمت : 9 3
6 دُوسری نعمت ''فراغت '' : 10 3
7 دِلچسپی بھی آخرت بھی : 11 3
8 شوق و تفریح کا خیال فرمانا : 11 3
9 حضرت عائشہ کے ساتھ دَوڑ لگانا : 12 3
10 خوش طبعی فطری حق ہے : 12 3
11 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٦ 14 1
12 مرد کی دِیت کامل اَور عورت کی نصف ہو گی 14 11
13 اِس کی حکمت ؟ 14 11
14 مساوات : 16 11
15 تعامل نہیں بلکہ اِجماع : 20 11
16 روایات ِ ائمہ کرام : 20 11
17 اَقوال و فتاوٰی اَئمہ کرام : 24 11
18 اَنفَاسِ قدسیہ 27 1
19 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 27 1
20 صبر و تحمل ١ : 27 19
21 ایک واقعہ 33 19
22 قسط : ٢ ،آخری 35 1
23 ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں 35 22
24 (3) اَحادیث ِنبویہ سے ناواقفیت : 35 22
25 (الف) عورتوں کے لیے حالت ِحیض میں قرآن پڑھنے کاجواز 35 22
26 (ب) خون سے وضو ٹوٹنے پراَحناف کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے : 35 22
27 (ج) مردوعورت کی نماز میں فرق کرنا جائز نہیں : 37 22
28 سوادِ اَعظم کی راہ سے نمایاں اِنحراف 38 22
29 (الف) بِلاوضو قرآن چھونا جائز ہے : 38 22
30 (ب) خطبہ ٔجمعہ عربی زبان کے بجائے مقامی زبان میں ہوناچاہیے : 39 22
31 (ج) تین طلاق سے ایک ہی طلاق ہونی چاہیے : 40 22
32 (د) پوری دُنیامیں عیدایک دِن ہو : 43 22
33 قسط : ٣ پردہ کے اَحکام 46 1
34 پردہ کے ضروری ہونے کی عقلی و عرفی دَلیل : 46 33
35 پردہ کے ضروری ہونے کی لُغوی دَلیل : 47 33
36 پردہ کے ضروری ہونے کی تمدنی شرعی دَلیل : 47 33
37 پردہ کے ضروری ہونے کی معاشرتی دَلیل : 48 33
38 پردہ کے ضروری ہونے کی ایک اَور عقلی دَلیل : 48 33
39 قسط : ٣صحابہث کی زِندگی اَور ہمارا عمل 49 1
40 حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات 49 39
41 (٢) علمی گیرائی : 49 39
42 (الف) تعلیمی حلقے : 49 39
43 صحابہ ث معیارِ حق ہیں : 50 39
44 (ب) بدعات سے اِجتناب : 51 39
45 بدعت کا سبب جہالت ہے یا شرارت : 54 39
46 موجودہ زمانہ کاحال : 55 39
47 ''بدعت'' دین کی توہین کا سبب ہے : 56 39
48 بدعات کا خاتمہ کیسے ہو؟ : 57 39
49 (ج) پیغمبر علیہ السلام پر وَالہانہ وَارفتگی : 58 39
50 دینی مسائل ( متفرق مسائل ) 60 1
51 دین سے پھرجانا : 60 50
52 وفیات 61 50
53 63 1
54 اَخبار الجامعہ 63 1
55 بقیہ : دینی مسائل 64 50
Flag Counter