Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011

اكستان

28 - 65
''اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو اُس کو مصائب میں مبتلاء کرتے ہیں پس اگر وہ صابر رہا تو اُس کو منتخب کر لیتے ہیں اَور اگر اُس پر رضامندی ظاہر کی تو مقرب بنا لیتے ہیں۔ ''  ١
لیکن صبر سے مراد ہمارا جیسا صبر نہیں بلکہ صبر وہ ہے جس کو آنحضرت  ۖ  نے اِرشاد فرمایا ہے  : 
مَنْ اُصِیْبَ بِمُصِیْبَةٍ بِمَالِہ اَوْ فِیْ نَفْسِہ وَکَتَمَھَا وَلَمْ یَشْکُھَا اِلَی النَّاسِ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یَّغْفِرَ لَہ۔(المعجم الاوسط رقم الحدیث ٧٣٧)
''جو آدمی مال یا جان کی مصیبت میں مبتلاء کیا گیا پس اُس نے اُس کو چھپایا اَور لوگوں سے رونا نہیں رویا تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اُس کی مغفرت فرمادے۔ ''
معلوم ہوا کہ صبر اَور تحمل وہی محمودہے جس میں اِظہار اَور شکوہ و شکایت نہ ہو، صبرو تحمل کایہ معیار معلوم ہونے کے بعد حضرت شیخ الاسلام کے صبر و تحمل کو ملاحظہ فرمائیے  : 
دُنیا جانتی ہے کہ جنگ و آزادی میں آپ کو کتنے مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن آج تک کسی سے  نہیں سنا کہ مصائب کا شکوہ تو دَرکنار اُن کا اِظہار بھی کیا ہو بلکہ اُن پر اِظہار ِرضامندی فرمایا چنانچہ نقشِ حیات  میں تحریر فرماتے ہیں  :  
''اِس کے بعد کراچی کے مشہور جلسہ میں حاضر ہونا پڑا جس میں کراچی کا تاریخی مقدمہ چلا اَور دو سال قید بامشقت کی عزت مجھے اَور مولانا محمد علی مرحوم اَور مولانا شوکت علی وغیرہ میرے ساتھیوں کو حاصل ہوئی۔'' (نقشِ حیات  ج٢  ص ٢٧٣ )
یہی صبر و تحمل ہے جس کو اِمام غزالی رحمة اللہ علیہ نے اِحیاء العلوم کی مذکورہ حدیث سے ظاہر کیاہے۔ حضرت کا مقام ِ صبر و تحمل بیان کرنے کے لیے صرف اِتنا ہی عرض کردینا کافی تھا لیکن چند واقعات اَور اُن کے اَجزاء پر روشنی ڈالے دیتا ہوں، ملاحظہ فرمائیے ۔
اَسارت ِمالٹا، کراچی، مراد آباد، مظفر نگر اَور نینی جیل، آلہ آباد کی سختیوں کے علاوہ وہ اِیذائیں نہایت لرزہ خیز اَور رُوح فرسا ہیں جو آپ کو اپنے ہم وطنوں اَور اپنے ہم مذہبوں کے ہاتھوں پہنچی ہیں چنانچہ مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ اپنے رسالہ حیات شیخ الاسلام میں راقم ہیں  :   ١   اے اللہ ہمیں بغیرآزمائش میں مبتلا کیے اپنا مقرب بنا لے،آمین۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 تلاوت روزے اپنی مرضی سے نہیں سنت کے مطابق رکھنے ہوتے ہیں : 8 3
5 لفظ ِ ''جوانی'' کے بجائے ''صحت'' فرمانے کی حکمت : 9 3
6 دُوسری نعمت ''فراغت '' : 10 3
7 دِلچسپی بھی آخرت بھی : 11 3
8 شوق و تفریح کا خیال فرمانا : 11 3
9 حضرت عائشہ کے ساتھ دَوڑ لگانا : 12 3
10 خوش طبعی فطری حق ہے : 12 3
11 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٦ 14 1
12 مرد کی دِیت کامل اَور عورت کی نصف ہو گی 14 11
13 اِس کی حکمت ؟ 14 11
14 مساوات : 16 11
15 تعامل نہیں بلکہ اِجماع : 20 11
16 روایات ِ ائمہ کرام : 20 11
17 اَقوال و فتاوٰی اَئمہ کرام : 24 11
18 اَنفَاسِ قدسیہ 27 1
19 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 27 1
20 صبر و تحمل ١ : 27 19
21 ایک واقعہ 33 19
22 قسط : ٢ ،آخری 35 1
23 ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں 35 22
24 (3) اَحادیث ِنبویہ سے ناواقفیت : 35 22
25 (الف) عورتوں کے لیے حالت ِحیض میں قرآن پڑھنے کاجواز 35 22
26 (ب) خون سے وضو ٹوٹنے پراَحناف کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے : 35 22
27 (ج) مردوعورت کی نماز میں فرق کرنا جائز نہیں : 37 22
28 سوادِ اَعظم کی راہ سے نمایاں اِنحراف 38 22
29 (الف) بِلاوضو قرآن چھونا جائز ہے : 38 22
30 (ب) خطبہ ٔجمعہ عربی زبان کے بجائے مقامی زبان میں ہوناچاہیے : 39 22
31 (ج) تین طلاق سے ایک ہی طلاق ہونی چاہیے : 40 22
32 (د) پوری دُنیامیں عیدایک دِن ہو : 43 22
33 قسط : ٣ پردہ کے اَحکام 46 1
34 پردہ کے ضروری ہونے کی عقلی و عرفی دَلیل : 46 33
35 پردہ کے ضروری ہونے کی لُغوی دَلیل : 47 33
36 پردہ کے ضروری ہونے کی تمدنی شرعی دَلیل : 47 33
37 پردہ کے ضروری ہونے کی معاشرتی دَلیل : 48 33
38 پردہ کے ضروری ہونے کی ایک اَور عقلی دَلیل : 48 33
39 قسط : ٣صحابہث کی زِندگی اَور ہمارا عمل 49 1
40 حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات 49 39
41 (٢) علمی گیرائی : 49 39
42 (الف) تعلیمی حلقے : 49 39
43 صحابہ ث معیارِ حق ہیں : 50 39
44 (ب) بدعات سے اِجتناب : 51 39
45 بدعت کا سبب جہالت ہے یا شرارت : 54 39
46 موجودہ زمانہ کاحال : 55 39
47 ''بدعت'' دین کی توہین کا سبب ہے : 56 39
48 بدعات کا خاتمہ کیسے ہو؟ : 57 39
49 (ج) پیغمبر علیہ السلام پر وَالہانہ وَارفتگی : 58 39
50 دینی مسائل ( متفرق مسائل ) 60 1
51 دین سے پھرجانا : 60 50
52 وفیات 61 50
53 63 1
54 اَخبار الجامعہ 63 1
55 بقیہ : دینی مسائل 64 50
Flag Counter