ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011 |
اكستان |
|
''اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو اُس کو مصائب میں مبتلاء کرتے ہیں پس اگر وہ صابر رہا تو اُس کو منتخب کر لیتے ہیں اَور اگر اُس پر رضامندی ظاہر کی تو مقرب بنا لیتے ہیں۔ '' ١ لیکن صبر سے مراد ہمارا جیسا صبر نہیں بلکہ صبر وہ ہے جس کو آنحضرت ۖ نے اِرشاد فرمایا ہے : مَنْ اُصِیْبَ بِمُصِیْبَةٍ بِمَالِہ اَوْ فِیْ نَفْسِہ وَکَتَمَھَا وَلَمْ یَشْکُھَا اِلَی النَّاسِ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یَّغْفِرَ لَہ۔(المعجم الاوسط رقم الحدیث ٧٣٧) ''جو آدمی مال یا جان کی مصیبت میں مبتلاء کیا گیا پس اُس نے اُس کو چھپایا اَور لوگوں سے رونا نہیں رویا تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اُس کی مغفرت فرمادے۔ '' معلوم ہوا کہ صبر اَور تحمل وہی محمودہے جس میں اِظہار اَور شکوہ و شکایت نہ ہو، صبرو تحمل کایہ معیار معلوم ہونے کے بعد حضرت شیخ الاسلام کے صبر و تحمل کو ملاحظہ فرمائیے : دُنیا جانتی ہے کہ جنگ و آزادی میں آپ کو کتنے مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن آج تک کسی سے نہیں سنا کہ مصائب کا شکوہ تو دَرکنار اُن کا اِظہار بھی کیا ہو بلکہ اُن پر اِظہار ِرضامندی فرمایا چنانچہ نقشِ حیات میں تحریر فرماتے ہیں : ''اِس کے بعد کراچی کے مشہور جلسہ میں حاضر ہونا پڑا جس میں کراچی کا تاریخی مقدمہ چلا اَور دو سال قید بامشقت کی عزت مجھے اَور مولانا محمد علی مرحوم اَور مولانا شوکت علی وغیرہ میرے ساتھیوں کو حاصل ہوئی۔'' (نقشِ حیات ج٢ ص ٢٧٣ ) یہی صبر و تحمل ہے جس کو اِمام غزالی رحمة اللہ علیہ نے اِحیاء العلوم کی مذکورہ حدیث سے ظاہر کیاہے۔ حضرت کا مقام ِ صبر و تحمل بیان کرنے کے لیے صرف اِتنا ہی عرض کردینا کافی تھا لیکن چند واقعات اَور اُن کے اَجزاء پر روشنی ڈالے دیتا ہوں، ملاحظہ فرمائیے ۔ اَسارت ِمالٹا، کراچی، مراد آباد، مظفر نگر اَور نینی جیل، آلہ آباد کی سختیوں کے علاوہ وہ اِیذائیں نہایت لرزہ خیز اَور رُوح فرسا ہیں جو آپ کو اپنے ہم وطنوں اَور اپنے ہم مذہبوں کے ہاتھوں پہنچی ہیں چنانچہ مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ اپنے رسالہ حیات شیخ الاسلام میں راقم ہیں : ١ اے اللہ ہمیں بغیرآزمائش میں مبتلا کیے اپنا مقرب بنا لے،آمین۔