ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2011 |
¾اكستان Ù |
|
کا ایسا بے مثال جذبہ تھا کہ جہاں حکم مِلا وہیں بڑھتے ہوئے قدم رُک گئے اَور سرِ تسلیم خم ہوگیا۔ سیّدنا حضرت عبداللہ بن رواحہص ایک مرتبہ مسجدِ نبوی میں نمازِ جمعہ میں شرکت کے لیے تشریف لائے، پیغمبر علیہ الصلوة والسلام خطبہ جمعہ کے لیے ممبر پر تشریف لاچکے تھے، آپ نے صحابہ ث سے اِرشاد فرمایا: ''بیٹھ جاؤ'' یہ اِرشاد حضرت عبد اللہ بن رواحہ صکے کان میں اُس وقت پڑا جبکہ آپ مسجد سے باہر ہی تھے، بس آپ یہ اِرشاد سنتے ہی فوراً وہیں بیٹھ گئے، تاآنکہ پیغمبر علیہ الصلوة السلام نے خطبہ پورا فرمایا، بعد میں جب آنحضرت ا کے سامنے حضرت عبد اللہ بن رواحہ ص کا یہ عمل سامنے آیا تو آپ انے مسرت آمیز اَنداز میں یہ دُعا دی ''اللہ تعالی خدا اَور اُس کے رسول کی حکم بجاآوری کے تمہارے شوق میں مزید اِضافہ فرمائے''۔ (حیاة الصحابہ ص ٦٢٧) اِسی طرح مشہور واقعہ ہے کہ ایک اَنصاری صحابی کی بلند عمارت کو دیکھ کر نبیٔ اَکرم ۖ کو ناگواری ہوئی تو جیسے ہی اُن صحابی ثکو پیغمبر ۖ کی ناراضگی کا علم ہوا تو فوراً پوری عمارت زمین بوس کردی۔ ایک صحابی صکے بدن پر رنگین کپڑا دیکھ کر آپ ۖ کو ناگواری ہوئی تو اُن صحابی ص نے احساس کرتے ہی وہ کپڑا جاکر تنور میں جلا ڈالا۔ (حیاة الصحابہ ٢ ٦٣٠) اَور یہ جذبہ صرف چند صحابہ ث تک محدود نہ تھا بلکہ صحابہ ث کا پورا معاشرہ، کیا مرد کیا عورتیں، کیا بوڑھے کیا جوان، کیا اَمیر کیا غریب، اَز اَوّل تا آخر سب کے سب دِل وجان سے دین کے شیدائی اَور حکمِ خدا و ر سول ۖ پر جان چھڑکنے والے تھے۔ آپ دَورِ صحابہ ث کے حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اُس دور میں اَخلاقی، سماجی اَور مالی جرائم گویاکہ ناپید ہوگئے تھے۔ دَورِ نبوت اَور دَورِ صحابہث میں اِسلامی عدالتوں میں اِس طرح کے جو مقدمات پیش ہوئے اُنہیں اُنگلیوں پر گنا جاسکتا ہے اَور اُن میں بھی یہ پہلو نمایاں تھا کہ مجرم اللہ کے خوف سے خود ہی اپنے جرم کا اِقرار کرنے والا ہوتا تھا تاکہ جو بھی سزا ہو وہ دُنیا میں بھگت کر آخرت کی سنگین سزا سے بچنے کا اِنتظام ہوجائے۔ حضرت ماعز اَسلمیص اَور اِمرأة غامدیہ رضی اللہ تعالی عنہا (جنہیں زنا کے جرم میں سنگسار کیا گیا) کے واقعات اِس معاملہ میں عبرت ناک بھی ہیں اَور نصیحت آموز بھی، یعنی پیغمبر علیہ الصلوة والسلام کی صحبت