Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2011

¾اكستان Ù

59 - 65
کا ایسا بے مثال جذبہ تھا کہ جہاں حکم مِلا وہیں بڑھتے ہوئے قدم رُک گئے اَور سرِ تسلیم خم ہوگیا۔
 سیّدنا حضرت عبداللہ بن رواحہص ایک مرتبہ مسجدِ نبوی میں نمازِ جمعہ میں شرکت کے لیے تشریف لائے، پیغمبر علیہ الصلوة والسلام خطبہ جمعہ کے لیے ممبر پر تشریف لاچکے تھے، آپ نے صحابہ ث سے اِرشاد فرمایا: ''بیٹھ جاؤ'' یہ اِرشاد حضرت عبد اللہ بن رواحہ صکے کان میں اُس وقت پڑا جبکہ آپ مسجد سے باہر ہی تھے، بس آپ یہ اِرشاد سنتے ہی فوراً وہیں بیٹھ گئے، تاآنکہ پیغمبر علیہ الصلوة السلام نے خطبہ پورا فرمایا، بعد میں جب آنحضرت ا کے سامنے حضرت عبد اللہ بن رواحہ ص کا یہ عمل سامنے آیا تو آپ انے مسرت آمیز اَنداز میں یہ دُعا دی ''اللہ تعالی خدا اَور اُس کے رسول کی حکم بجاآوری کے تمہارے شوق میں مزید اِضافہ فرمائے''۔ (حیاة الصحابہ  ص ٦٢٧)
اِسی طرح مشہور واقعہ ہے کہ ایک اَنصاری صحابی کی بلند عمارت کو دیکھ کر نبیٔ اَکرم  ۖ  کو ناگواری ہوئی تو جیسے ہی اُن صحابی ثکو پیغمبر  ۖ  کی ناراضگی کا علم ہوا تو فوراً پوری عمارت زمین بوس کردی۔
ایک صحابی صکے بدن پر رنگین کپڑا دیکھ کر آپ  ۖ   کو ناگواری ہوئی تو اُن صحابی ص نے احساس کرتے ہی وہ کپڑا جاکر تنور میں جلا ڈالا۔ (حیاة الصحابہ  ٢ ٦٣٠) 
اَور یہ جذبہ صرف چند صحابہ ث تک محدود نہ تھا بلکہ صحابہ ث کا پورا معاشرہ، کیا مرد کیا عورتیں، کیا بوڑھے کیا جوان، کیا اَمیر کیا غریب، اَز اَوّل تا آخر سب کے سب دِل وجان سے دین کے شیدائی اَور حکمِ خدا  و ر سول  ۖ  پر جان چھڑکنے والے تھے۔
آپ دَورِ صحابہ ث کے حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اُس دور میں اَخلاقی، سماجی اَور مالی جرائم گویاکہ ناپید ہوگئے تھے۔ دَورِ نبوت اَور دَورِ صحابہث میں اِسلامی عدالتوں میں اِس طرح کے جو مقدمات پیش ہوئے اُنہیں اُنگلیوں پر گنا جاسکتا ہے اَور اُن میں بھی یہ پہلو نمایاں تھا کہ مجرم اللہ کے خوف سے خود ہی اپنے جرم کا اِقرار کرنے والا ہوتا تھا تاکہ جو بھی سزا ہو وہ دُنیا میں بھگت کر آخرت کی سنگین سزا سے بچنے کا اِنتظام ہوجائے۔
 حضرت ماعز اَسلمیص اَور اِمرأة غامدیہ رضی اللہ تعالی عنہا (جنہیں زنا کے جرم میں سنگسار کیا گیا) کے واقعات اِس معاملہ میں عبرت ناک بھی ہیں اَور نصیحت آموز بھی، یعنی پیغمبر علیہ الصلوة والسلام کی صحبت
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 9 1
4 اِس اُمت کی خوبی، اَچھائی کا حکم دینا برائی سے روکنا : 10 3
5 اَمر بالمعروف کا فائدہ : 10 3
6 .نہی عن المنکر بہت مشکل کام ہے : 11 3
7 اِس کی آخری حد : 11 3
8 دلیل : 11 3
9 اِس کا تارک عذاب کا مستحق کب ہوتا ہے : 12 3
10 اَمر بالمعروف نہی عن المنکرکا اَدب : 12 3
11 دُوسرا اَدب : 13 3
12 اَصل اِعتبار خاتمہ کے وقت کا ہے : 13 3
13 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٥ (قسط : ٢،آخری ) 15 1
14 حدود و قصاص : عورت کی شہادت 15 13
15 اِسلامی قانونِ شہادت 15 13
16 مضمونِ شہادت پر مزید اِشکالات کے جوابات 15 13
17 تمہید : 15 13
18 تقابل نوع کا نوع سے ہوتا ہے : 16 13
19 یورپ ! مردو عورت میں مساوات، آزادی، بے شرمی، خود شوہر ڈھونڈنا : 16 13
20 لین دین کے معاملات میں لکھنے کا حکم نازل ہوا 17 13
21 حدود میں عورتوں کی گواہی نہ رکھنے کی ایک حکمت، نہ مکلف ہوگی نہ گناہ ہوگا : 18 13
22 ''تعزیر'' اَور'' حدود'' میں فرق : 19 13
23 ''حد'' کی ایک خاص شکل : 19 13
24 گواہی صریح ہوگی ،گول مول نہیں : 19 13
25 خود اِقرار کرنا گواہوں کے مقابلہ میں کم وزن ہے : 20 13
26 سنگسار کے بجائے گولی ماردینا، شریعت میںرُجوع کا موقع : 20 13
27 زِنا گواہی سے ثابت ہونے کی صورت میں بھی رُجوع کا اِحتمال : 20 13
28 زِنا میں چار گواہ ہونے کی عجیب حکمت : 20 13
29 سخت ترین سزائوں میںسخت اِحتیاط : 21 13
30 ''خبر'' اَور'' شہادت'' میں فرق : 21 13
31 اِشکال و جواب : 21 13
32 نظربندی اَنگریز کی اِیجاد ہے اِسلام میں نظربندی نہیں : 22 13
33 اَنفَاسِ قدسیہ 24 1
34 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 24 33
35 تواضع و اِنکساری : 24 33
37 پردہ کے اَحکام 28 1
38 پردہ اَور عورت عقل و فطرت کے آئینہ میں 28 37
39 عورت کے ذریعہ فتنہ اَور اُس کا سد باب : 28 37
40 پردہ عورت کا فطری و طبعی تقاضا ہے : 29 37
41 عورت کو پردہ میں رکھنا غیرت اَور فطرت کا تقاضا ہے : 30 37
42 وفیات 31 1
43 ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں دَارُالعلوم دیو بند کا فتوی 33 1
44 (١) عقیدہ : 34 43
45 (2) تفسیر قرآن میں من مانی تشریح یعنی تحریف ِمعنوی : 35 43
46 صحیح جواب : 39 43
47 ماہ ِذی الحجہ کے فضائل و اَحکام 42 1
48 ماہِ ذی الحجہ کی فضیلت : 42 47
49 ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی فضیلت : 42 47
50 ٩ ذی الحجہ کے روزے کے فضائل و اَحکام : 44 47
51 تکبیرِ تشریق (٩ تا ١٣ ذی الحجہ) : 45 47
52 تکبیرِ تشریق کی حکمت : 45 47
53 حج و قربانی : ماہِ ذی الحجہ کی خاص عبادت : 46 47
54 حج کے فضائل : 46 47
55 ''حج'' اِسلام کا اہم رُکن اَور فریضہ : 46 47
56 حج کس پر فرض ہے ؟ 47 47
57 حج کی اِستطاعت کا مطلب : 48 47
58 قربانی کے فضائل : 48 47
59 قربانی کے مسائل 50 1
60 قربانی کس پر واجب ہے : 50 59
61 قربانی کا وقت : 51 59
62 قربانی کے جانور : 52 59
63 قربانی کا گوشت اَور کھال : 53 59
64 متفرق مسائل : 55 59
65 ذبح سے پہلے کی دُعا : 55 59
66 ذبح کے بعد کی دُعا : 55 59
67 صحابہث کی زِندگی اَور ہمارا عمل 56 1
68 حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات : 56 67
69 دِلوں کی نیکی 57 67
70 (الف) اِخلاص : 57 67
71 (ب) جذبۂ اِطاعت : 58 67
72 (ج) بغض وعناد سے اِجتناب : 60 67
73 دینی مسائل ( متفرق مسائل ) 62 1
74 (1) حرام و حلال کا ضابطہ : 62 73
75 نباتات : 62 74
76 حیوانات : 62 74
77 2۔ خضاب کا اِستعمال : 63 73
78 اَخبار الجامعہ 64 1
79 خانقاہ ِحامدیہ اَور رمضان المبارک : 64 78
Flag Counter