Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2010

اكستان

40 - 64
آنحضرت  ۖ  قولی طورپر تعلیم دیتے تھے اَور عمل کر کے دِکھلا کر بھی اَحکام و آداب سکھاتے تھے۔ اِس نکاح کے کردینے سے آپ  ۖ نے عملاً یہ ثابت کردیا کہ غیر کفو میں شرعًا نکاح کرلینا درست ہے اَور اِس سے اِسلام کی اِس اہم تعلیم کا بھی پتا چل گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین داری کی بلندی تمام بلند یوں سے بڑھی ہوئی ہے۔ 
حضور اکرم  ۖ نے اِس حقیقت کو اِس قدر واضح کیا کہ اپنی حقیقی پھوپھی کی بیٹی کا نکاح ایک ایسے آزاد کردہ غلام سے کر کے دِکھایا جو اللہ تعالیٰ اَور اُس کے رسول  ۖ کی فرمانبرداری میں سراپا محو تھااَور اِس نکاح کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں آیات نازل فرمائیں جو ہمیشہ پڑھی جاتی رہیں گی اَور نسب پر فخر کرنے والوں کو دینداری کی تاکید کرتی رہیں گی۔ 
حرم ِ نبوت میں آنا  :
حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ایک سال یا اِس سے  کچھ زیادہ رہیں لیکن دونوں میں نباہ نہیں ہوا۔(البدایہ) حتی کہ ایک روز حضرت زید رضی اللہ عنہ بارگاہ ِ رسالت میں حاضر ہوئے اَور عرض کیا یارسول اللہ ! زینب کی بدکلامی نے مجھے ستادیا لہٰذا میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔ آپ  ۖ  نے اُن سے فرمایا  اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ (اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں رکھو اَور اللہ سے ڈرو)لیکن پھر بھی آپس میں دونوں کا میل نہ ہوسکا آخر آپ  ۖ کی اِجازت سے اِنہوں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی اَور جب عدت گزر گئی تو آنحضرت  ۖ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ ہی کو اپنے نکاح کا پیغام دے کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ وہ اُس وقت آٹا گوند رہی تھیں۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اِن کی طرف پشت کر کے فرمایا کہ اَے زینب خوشخبری قبول کرو مجھے رسول اللہ  ۖ نے بھیجا ہے تاکہ تم کو آپ  ۖ کی طرف سے نکاح کا پیغام دُوں، یہ سن کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں اللہ سے مشورہ لیے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتی ہوں، یہ کہہ کر اِستخارہ کر نے کے لیے نماز پڑھنے کھڑی ہوگئیں(فتح الباری) یہاں اُنہوں نے نماز شروع کی اَور وہاں آپ  ۖ  پر وحی نازل ہوئی  :  فَلَمَّا قَضٰی زَیْد مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا ( آلایہ) ترجمعہ : پھر جب زید کا اِن (زینب) سے جی بھر گیا ہم نے آپ سے اِن کا نکاح کردیا۔لہٰذا حضرت زینب رضی اللہ عنہاآنحضرت  ۖ  کی بیوی
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 13 1
4 یہودی صرف دعویدار ہیں جبکہ مسلمان عمل پیرا : 14 3
5 ''توحید'' کے متعلق تمام اَنبیاء کا مؤقف ایک ہے : 14 3
6 دُنیا کو ترقی کر کے جہاں تک جانا ہے وہ سب اَحکام بتلادیے گئے ہیں : 15 3
7 پہلے پہل اَیامِ بیض اَور عاشوراء کے روزے فرض تھے : 16 3
8 یہودیوں سے مشابہت نہیں ہونی چاہیے : 16 3
9 حضرت حسین کی شہادت اِس مبارَک دِن میں ہوئی : 16 3
10 اِس دن سُرمہ لگانا اَور اہلِ خانہ کے لیے اَچھا کھانا پکانا : 17 3
11 ختمِ بخاری شریف 17 3
12 ملفوظات شیخ الاسلام 18 1
13 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 18 12
14 علمی مضامین 21 1
15 مدنی فارمولا 21 14
16 نظریۂ پاکستان اَور علماء : 23 14
17 جناب جسٹس جا وید اِقبال صاحب ٢ سے گزارش 31 14
18 بیادِحضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب 33 1
19 تربیت ِ اَولاد 34 1
20 بچے پر ماں کے اَخلاق و عادات کا اَثر : 34 19
21 یک حکایت : 35 19
22 اَولاد کو نیک بنانے کا دُوسرا درجہ : 35 19
23 شروع عمر میں بچہ کی تربیت و نگرانی کی زیادہ ضرورت ہے : 36 19
24 ایک عقلمند تجربہ کار کا قول : 36 19
25 سب سے بڑے بچہ کی اِصلاح و تربیت کی زیادہ ضرورت : 37 19
26 تعلیم و تربیت اَور اچھی عادتیں سکھانے کی ضرورت : 37 19
27 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 38 1
28 حضرت زینب بنت ِ جحش رضی اللہ عنہا 38 27
29 پہلا نکاح : 38 27
30 حرم ِ نبوت میں آنا : 40 27
31 ولیمہ : 43 27
32 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 44 1
33 رشتے دار ی کا خیال : 44 32
34 یتیموںکی خبر گیری : 46 32
35 بیواؤں اَور مسکینوں کی رعایت : 47 32
36 گلد ستۂ اَحادیث 48 1
37 ظالم حاکم وقاضی کا اَنجام : 48 36
38 آہ ! مولانا خواجہ ٔ خواجگان 49 1
39 مرادِ قیومِ زماں و قطبِ دَوراں : 49 38
40 تعلیم قرآن : 50 38
41 فارسی وعربی تعلیم : 50 38
42 دارُالعلوم عزیزیہ بھیرہ میں داخلہ : 51 38
43 جامعہ اِسلامیہ ڈابھیل (اِنڈیا) میںداخلہ : 51 38
44 دارالعلوم دیو بند میں داخلہ : 51 38
45 باطنی علوم و فیوض کی تحصیل : 51 38
46 تدریسی خدمات : 52 38
47 حضرت شیخ کی خصوصی شفقت : 52 38
48 ہفت سلاسل کی خلافت و اِجازت : 53 38
49 تحفظ ختم نبوت : 53 38
50 خانقاہ سراجیہ کی مسند نشینی : 54 38
51 شادی خانہ آبادی : 54 38
52 وفات حسرتِ آیات : 55 38
53 جانشین : 56 38
54 مصادر و مراجع : 57 38
55 دینی مسائل 58 1
56 ( قَسم کھانے کا بیان ) 58 55
57 قَسم تین طرح پر ہوتی ہے : 58 55
58 قَسم کے تعدد کا ضابطہ : 59 55
59 قَسم کے کفارے کابیان : 60 55
60 اَخبار الجامعہ 62 1
61 جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیے 64 1
Flag Counter