Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2010

اكستان

59 - 64
کبھی والدین سے بات نہ کروں گا تو قسم کو توڑنا واجب ہے۔
(iii)  وہ کام کرنا یا وہ کام چھوڑنا اَولیٰ ہو مثلاً قسم کھائی کہ میں آج چاشت کی نماز پڑھوں گا یا آج  کچا لہسن نہیں کھاؤں گا تو قسم کو پورا کرنا واجب ہے۔
(iv)  وہ کام ایسا ہے کہ اِس کا مقابل کام اَولیٰ ہے مثلاً قسم کھائی کہ ایک یا دو ماہ تک بیوی سے صحبت نہ کروں گا تو قسم کو توڑنااَولیٰ ہے۔
(v)  وہ کام کرنانہ کرنا یکساں ہے مثلاً قسم کھائی کہ یہ روٹی نہ کھاؤں گا تو قسم کو پورا کرنا واجب ہے۔ 
وہ تمام صورتیں جن میں قسم توڑنا واجب ہے یا اَولیٰ ہے قسم توڑنے پر بہرحال کفارہ دینا ہوگا۔
قَسم کے تعدد کا ضابطہ  :
(1)  قسم کھانیوالے نے اگر اللہ تعالیٰ کے دو نام ذِکر کیے اَور دُوسرا نام پہلے کی صفت بن سکتا ہے  :
(i)  درمیان میں عطف نہ ہو مثلاً کہا اللہ رحمن کی قسم یا اللہ رحیم کی قسم تو یہ ایک قسم ہوئی۔
(ii)  اگر درمیان میں عطف ہو مثلا ًاللہ اَور رحمن کی قسم تو یہ دو قسمیں ہوئیں۔ 
(2)  دُوسرا نام پہلے کی صفت نہ بن سکتا ہو  :
(i)  درمیان میں عطف نہ ہو مثلاً  اَللّٰہُمَّ اللّٰہُ کی قسم تو یہ ایک قسم ہوئی۔ ہاں اگر دو کی نیت کی ہو  تو دو ہوئیں۔ 
(ii)  درمیان میں عطف ہو مثلاً  اللّٰہُمَّ اَور  اَللّٰہْ  کی قسم  تو یہ دو قسمیں ہوئیں۔
مسئلہ  :  کسی نے کئی دفعہ قسم کھائی جیسے ایک دفعہ کہا خدا کی قسم فلاں کام نہ کروں گا۔ اِس کے بعد  اُسی مجلس میں یا کسی اَور موقع پر پھر کہا خدا کی قسم فلاں کام نہ کروں گا تو یہ دو قسمیں ہوئیں۔ 
مسئلہ  :  کسی نے یوں کہا خدا کی قسم، اللہ کی قسم ،کلام اللہ کی قسم فلان کام ضرور کروں گا تو یہ تین قسمیں ہوئیں۔ 
مسئلہ  :  دو تین کاموں کا نام لے کر اُن کے نہ کرنے کی قسم کھائی تو اَگر صرف نفی کو مکرر ذِکر کیا اِس طرح سے کہ نہ میں فلاں کام کروں گا نہ فلاں کام تو یہ دو قسمیں ہوںگی۔ اَور اگر حرف ِ نفی کو مکرر ذِکر نہیں کیا اَور اِس طرح سے کہا کہ میں فلاں فلاں کام نہ کروں گا تو ایک قسم ہوگی۔ پھر اگر اُن میں سے ایک کام بھی کرلیا تو
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 13 1
4 یہودی صرف دعویدار ہیں جبکہ مسلمان عمل پیرا : 14 3
5 ''توحید'' کے متعلق تمام اَنبیاء کا مؤقف ایک ہے : 14 3
6 دُنیا کو ترقی کر کے جہاں تک جانا ہے وہ سب اَحکام بتلادیے گئے ہیں : 15 3
7 پہلے پہل اَیامِ بیض اَور عاشوراء کے روزے فرض تھے : 16 3
8 یہودیوں سے مشابہت نہیں ہونی چاہیے : 16 3
9 حضرت حسین کی شہادت اِس مبارَک دِن میں ہوئی : 16 3
10 اِس دن سُرمہ لگانا اَور اہلِ خانہ کے لیے اَچھا کھانا پکانا : 17 3
11 ختمِ بخاری شریف 17 3
12 ملفوظات شیخ الاسلام 18 1
13 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 18 12
14 علمی مضامین 21 1
15 مدنی فارمولا 21 14
16 نظریۂ پاکستان اَور علماء : 23 14
17 جناب جسٹس جا وید اِقبال صاحب ٢ سے گزارش 31 14
18 بیادِحضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب 33 1
19 تربیت ِ اَولاد 34 1
20 بچے پر ماں کے اَخلاق و عادات کا اَثر : 34 19
21 یک حکایت : 35 19
22 اَولاد کو نیک بنانے کا دُوسرا درجہ : 35 19
23 شروع عمر میں بچہ کی تربیت و نگرانی کی زیادہ ضرورت ہے : 36 19
24 ایک عقلمند تجربہ کار کا قول : 36 19
25 سب سے بڑے بچہ کی اِصلاح و تربیت کی زیادہ ضرورت : 37 19
26 تعلیم و تربیت اَور اچھی عادتیں سکھانے کی ضرورت : 37 19
27 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 38 1
28 حضرت زینب بنت ِ جحش رضی اللہ عنہا 38 27
29 پہلا نکاح : 38 27
30 حرم ِ نبوت میں آنا : 40 27
31 ولیمہ : 43 27
32 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 44 1
33 رشتے دار ی کا خیال : 44 32
34 یتیموںکی خبر گیری : 46 32
35 بیواؤں اَور مسکینوں کی رعایت : 47 32
36 گلد ستۂ اَحادیث 48 1
37 ظالم حاکم وقاضی کا اَنجام : 48 36
38 آہ ! مولانا خواجہ ٔ خواجگان 49 1
39 مرادِ قیومِ زماں و قطبِ دَوراں : 49 38
40 تعلیم قرآن : 50 38
41 فارسی وعربی تعلیم : 50 38
42 دارُالعلوم عزیزیہ بھیرہ میں داخلہ : 51 38
43 جامعہ اِسلامیہ ڈابھیل (اِنڈیا) میںداخلہ : 51 38
44 دارالعلوم دیو بند میں داخلہ : 51 38
45 باطنی علوم و فیوض کی تحصیل : 51 38
46 تدریسی خدمات : 52 38
47 حضرت شیخ کی خصوصی شفقت : 52 38
48 ہفت سلاسل کی خلافت و اِجازت : 53 38
49 تحفظ ختم نبوت : 53 38
50 خانقاہ سراجیہ کی مسند نشینی : 54 38
51 شادی خانہ آبادی : 54 38
52 وفات حسرتِ آیات : 55 38
53 جانشین : 56 38
54 مصادر و مراجع : 57 38
55 دینی مسائل 58 1
56 ( قَسم کھانے کا بیان ) 58 55
57 قَسم تین طرح پر ہوتی ہے : 58 55
58 قَسم کے تعدد کا ضابطہ : 59 55
59 قَسم کے کفارے کابیان : 60 55
60 اَخبار الجامعہ 62 1
61 جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیے 64 1
Flag Counter