ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2010 |
اكستان |
|
کبھی والدین سے بات نہ کروں گا تو قسم کو توڑنا واجب ہے۔ (iii) وہ کام کرنا یا وہ کام چھوڑنا اَولیٰ ہو مثلاً قسم کھائی کہ میں آج چاشت کی نماز پڑھوں گا یا آج کچا لہسن نہیں کھاؤں گا تو قسم کو پورا کرنا واجب ہے۔ (iv) وہ کام ایسا ہے کہ اِس کا مقابل کام اَولیٰ ہے مثلاً قسم کھائی کہ ایک یا دو ماہ تک بیوی سے صحبت نہ کروں گا تو قسم کو توڑنااَولیٰ ہے۔ (v) وہ کام کرنانہ کرنا یکساں ہے مثلاً قسم کھائی کہ یہ روٹی نہ کھاؤں گا تو قسم کو پورا کرنا واجب ہے۔ وہ تمام صورتیں جن میں قسم توڑنا واجب ہے یا اَولیٰ ہے قسم توڑنے پر بہرحال کفارہ دینا ہوگا۔ قَسم کے تعدد کا ضابطہ : (1) قسم کھانیوالے نے اگر اللہ تعالیٰ کے دو نام ذِکر کیے اَور دُوسرا نام پہلے کی صفت بن سکتا ہے : (i) درمیان میں عطف نہ ہو مثلاً کہا اللہ رحمن کی قسم یا اللہ رحیم کی قسم تو یہ ایک قسم ہوئی۔ (ii) اگر درمیان میں عطف ہو مثلا ًاللہ اَور رحمن کی قسم تو یہ دو قسمیں ہوئیں۔ (2) دُوسرا نام پہلے کی صفت نہ بن سکتا ہو : (i) درمیان میں عطف نہ ہو مثلاً اَللّٰہُمَّ اللّٰہُ کی قسم تو یہ ایک قسم ہوئی۔ ہاں اگر دو کی نیت کی ہو تو دو ہوئیں۔ (ii) درمیان میں عطف ہو مثلاً اللّٰہُمَّ اَور اَللّٰہْ کی قسم تو یہ دو قسمیں ہوئیں۔ مسئلہ : کسی نے کئی دفعہ قسم کھائی جیسے ایک دفعہ کہا خدا کی قسم فلاں کام نہ کروں گا۔ اِس کے بعد اُسی مجلس میں یا کسی اَور موقع پر پھر کہا خدا کی قسم فلاں کام نہ کروں گا تو یہ دو قسمیں ہوئیں۔ مسئلہ : کسی نے یوں کہا خدا کی قسم، اللہ کی قسم ،کلام اللہ کی قسم فلان کام ضرور کروں گا تو یہ تین قسمیں ہوئیں۔ مسئلہ : دو تین کاموں کا نام لے کر اُن کے نہ کرنے کی قسم کھائی تو اَگر صرف نفی کو مکرر ذِکر کیا اِس طرح سے کہ نہ میں فلاں کام کروں گا نہ فلاں کام تو یہ دو قسمیں ہوںگی۔ اَور اگر حرف ِ نفی کو مکرر ذِکر نہیں کیا اَور اِس طرح سے کہا کہ میں فلاں فلاں کام نہ کروں گا تو ایک قسم ہوگی۔ پھر اگر اُن میں سے ایک کام بھی کرلیا تو