ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2010 |
اكستان |
|
بیادِحضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب ( جناب پروفیسرمیاں محمد اَفضل صاحب، ساہیوال ) چل دِیے ہیں جانبِ خلدِ بریں خان محمد سرگروہِ سالکیں اُن کی فرقت میں ہوئے ہیں اَشکبار آسماں ساتوں ، ہماری یہ زمیں دِل مر ا مغموم ہے مہجور ہے اہلِ دل سب اُن کے جانے پر حزیں علم کے پیکر ، عمل میں بے مثال ایسی جامع ہستی اَب ملتی نہیں مشن تھا ختم نبوت کا دِفاع عظمتِ اصحاب کے تھے وہ اَمیں زندگی جُہدِ مسلسل آپ کی آپ کا مقصد ، فقط اِحیائِ دیں آپ کے فیضِ نظر سے ہو گئے کتنے بندے صاحبِ دل ذُوالیقیں آپ نے تو پا لیا اعلیٰ مقام آپ آخر ہو گئے جنت مکیں رو رہے میرے خواجہ سب تمہیں یاد کر کے ، راہیِ خلدِبریں اَب خدایا! اُن کے جو اَخلاف ہیں لے لے اُن سے خدمتِ دینِ متیں وارثانِ خواجہ کو رکھ متحد پھر بنا دے اُن کو سچا جانشیں افضل خستہ بہت ناشاد ہے چھپ گیا ہے اُس کا بھی مرشد ١کہیں ١ میرے شیخِ طریقت سیّد نفیس الحسینی شاہ صاحب مراد ہیں۔