ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2009 |
اكستان |
|
پرجوش اَنداز میں ہمارا استقبال کیا، ہمیں بھی دیار ِغیر میں ایک مسلمان سے مل کر بے حد خوشی ہوئی۔ اسپین میں کسی مسلمان سے ہماری یہ پہلی ملاقات تھی۔ برادر عبداللہ اسپین ہی کے پرانے رہائشی ہیں وہ جدّی پشتی اسپینش ہیں اِن کے ماشاء اللہ دو بیویوں سے پندرہ عدد خوبصورت بچے ہیں جو ریسٹورنٹ میں کام کرتے ہیں جس کے اِتنے بچے ہوں اُنہیں بھلا ملازم رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ ان کی دو جواں سال بیٹیاں جو پورا سکارف کیے ہوئے تھیں ریسٹورنٹ میں اپنے باپ اور بھائیوں کا ہاتھ بٹا رہی تھیں اُنہوں نے عربی کھانوں سے ہماری تواضح کی، کھانا بہت مزے دار تھا تمام احباب کو خوب خوب پسند آیا۔ کھانے کے دام بھی مناسب تھے ہم نے اُن ہی سے قرطبہ کی مساجد کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ قرطبہ میں صرف چار مساجد ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ قرطبہ شہر کی واحد اور اَکلوتی مسجد میں جا کر نماز ادا کی جائے اور وہاں کے مسلمانوں کے حالات جاننے کی کوشش کی جائے چنانچہ ہم نمازِ مغرب کے لیے وہاں گئے کافی تلاش کے بعد ہمیں مسجد ملی جو شہر کے ایک بہت بڑے پارک میں واقع ہے ،پارک میں لگے بڑے بڑے درختوں کے جُھنڈ نے دیکھنے والوں کی آنکھوں سے مسجد کو اَوجھل کر دیا ہے کہیں سے بھی یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہاں کسی مسجد کا وجود ہے، وہ شہر جس کے ہر کونے اور ہر محلے میں مسجد یں تھیں آج اُس شہر میں مساجد ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں۔ ہم جب مسجد میں داخل ہوئے تو نماز ہو چکی تھی اور چند عرب نوجوان قرآن کی تلاوت میں مصروف تھے۔ قرطبہ شہر کی یہ جامع مسجد ہے جس میں بمشکل ایک سو نمازیوں کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہو گی مسجد کی حالت بھی اچھی نہ تھی، مسجد کے اَندر پڑا ہوا پرانا اور بوسیدہ کارپٹ اُس کی حالت زار کی نشان دہی کر رہا تھا وہ چند نوجوان غنیمت تھے جو مسجد کو آباد کیے ہوئے تھے مسجد کا نام ''مسجد مرابطین'' ہے مسجد کے امام ایک نوجوان مصری عالم ہیں۔ (جاری ہے)