Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2009

اكستان

22 - 64
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی عورت سخی نہیں دیکھی لیکن دونوں کی سخاوت میں ایک فرق تھااور وہ یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھوڑا تھوڑا جمع کرتی رہتی تھیں یہاں تک کہ جب خاصی مقدار میں جمع ہوجاتا تو (ضرورت مندوں ) میں تقسیم فرمادیتی تھیں اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا یہ  حال تھا کہ وہ کل کے لیے کچھ رکھتی ہی نہ تھیں۔ (اَدب المفرد) 
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ اپنا چشم دید واقعہ بیان فرماتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک روز ستر ہزار کی مالیت (ضرورت مندوں پر ) تقسیم فرمادی اَور اپنا یہ حال تھا کہ تقسیم کرتے وقت اپنے کرتہ میں پیوند لگا رہی تھیں ۔(صفة الصفوة )
حضرت معاویہ رضی للہ عنہ نے ایک طبق میں سچے موتی بھر کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ہدیة ًبھیجے جن کی قیمت ایک لاکھ لگی۔ اُنہوں نے ہدیہ قبول کر کے اپنے علاوہ آنحضرت  ۖ  کی تمام بیویوں میں تقسیم فرمادیا۔ 
ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا روزہ تھا اَور اُسی روز اُن کے پاس اُن کے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے دو بورے بھر کر ہدیہ بھیجا جو ایک لاکھ اَسی ہزار کی مالیت تھی۔ وہ اُسی وقت تقسیم کرنے بیٹھ گئیں اَور تھوڑی دیر میں تمام کردیا۔ جب شام ہوئی تو ایک درہم (چونی بھر چاندی) بھی پاس نہ تھا۔ افطار کے وقت اپنے باندی سے فرمایا کہ افطاری لاؤ ۔ چنانچہ وہ زیتون کا تیل اور روٹی لے کر آئی۔ وہیں ایک عورت اُم ذرہ موجود تھی (اُس کا بھی روزہ تھا ) اُس نے کہا آج جو آپ نے مال تقسیم کیا ہے اُس میں سے آپ اِتنا بھی نہ کرسکیں کہ ایک درہم کا گوشت ہی منگالیتیں جسے افطاری میں ہم کھالیتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اَب کہنے سے کیا ہوتا ہے اُس و قت تم یاد دلاتیں تو میں اِس کا خیال کر لیتی۔ (صفة الصفوة ) 
ایک روز کا واقعہ ہے جسے وہ خود بیان فرما تی تھیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی جس کے ساتھ دو لڑکیاں تھیں۔ اُس نے سوال کیا، اُس وقت میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا میں نے وہی دے دی۔ اُس نے اُس کھجور کو لے کر دو ٹکڑے کر کے دونوں بچیوں کو ایک ایک ٹکڑا دے دیااور خود نہ کھایا۔ اِس کے بعد وہ چلی گئی اور اُس کے بعد ہی سیّد عالم  ۖ  زنان خانے میں تشریف لے آئے ۔ میں نے آپ کے سامنے واقعہ بیان کیا تو آپ  ۖ نے فرمایا کہ جو شخص اِن لڑکیوں کی پرورش میں ذرا بہت بھی مبتلا کیاگیا اور اُس نے
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حدیث 10 1
4 حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اَور ہجرت : 11 3
5 ہجرت بہت مشکل کام ہے : 11 3
6 ہجرت نہ کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم : 11 3
7 مہاجرین کا ثواب دَوگنا 12 3
8 حضرت عمر پر حضرت اسماء کا غصہ اَوردربار ِعالی میں پیشی : 12 3
9 دربارِ نبوی سے تسلی بخش جواب پر جشن 13 3
10 اِسہال کا طریقہ ..... سنا کو پسند اَور شُبرم کو ناپسند فرمایا 14 3
12 جمال گوٹا اَور سبق آموز واقعہ : 14 3
13 مریض کی عمر کا لحاظ رکھنے کی حکمت 15 3
14 ملفوظات شیخ الاسلام 16 1
15 علمی مضامین 18 1
16 چندضروری مسائلِ حج 18 1
17 اَب حسب ِذیل مسائل سمجھئے 20 16
18 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 21 1
19 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 21 18
20 سخاوت : 21 18
21 شعر اَور طب 21 18
22 خوف ِ خدا اَور فکر ِ آخرت 23 18
23 تربیت ِ اَولاد 24 1
24 پیدائش اَور اُس کی متعلقات 24 23
25 پہلا لڑکا باپ کے گھر میں ہونے کو ضروری سمجھنا : 25 23
26 بچہ پیدا ہوتے وقت ستر اور پردہ پوشی کے ضروری احکام 25 23
27 مسنون طریقہ : 26 23
28 تحنِیک 26 23
29 قومیت و صوبا ئیت اَور زبان ورنگ کے تعصّب کی اِصلاح 27 1
30 جنت میں کوئی صوبہ نہیں 27 29
31 زبان اَور رنگ اللہ تعالیٰ کی دو عظیم الشان نشانیاں ہیں : 28 29
32 عصبیت کفر کی نشانی ہے 30 29
33 اَلوَداعی خطاب 34 1
34 حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی تین بددُعائیں 35 33
35 بڑے حضرت کے بدخواہوں کا انجام : 35 33
36 مخلص کی تنقید برداشت اَور بدخواہ کی نظراَنداز کریں 36 33
37 سب موافق ہونے کا نقصان : 36 33
38 تنقید برداشت کرنے کا مادّہ پیدا کریں 36 33
39 حضرت سعد کی اعلیٰ سیاسی بصیرت 37 33
40 ضروری بات : 39 33
41 احسان'' کا مطلب : 40 33
42 نبی علیہ السلام کی حیات میں مرتبہ احسان کا حصول : 40 33
43 جس کی تصوف سے آشنائی نہیں وہ کیا رائے دے سکتا ہے : 41 33
44 نبی علیہ السلام کے بعد بہت ریاضت کی ضرورت ہے : 41 33
45 فرصت کو غنیمت جانیں ،ریاضت و محنت کریں 42 33
46 شب ورَوز کے کچھ معمولات : 43 33
47 بقیہ : تربیت ِ اَولاد 43 23
48 بچہ کے کان میں اَذان و تکبیر کہنے کی حکمت : 43 23
50 گلدستہ ٔ اَحادیث 44 1
51 عود ِ ہندی میں سات بیماریوں سے شفاء ہے : 44 50
52 حضرت اَبوذر رضی اللہ عنہ کو سات باتوں کا حکم : 44 50
53 ہر نبی کو سات مخصوص لوگ عطا کیے جاتے تھے : 45 50
54 چار رَوز اُندلس میں 47 1
56 قرطبہ : 51 54
57 جامع مسجد قرطبہ : 53 54
58 خانقاہ ِحامدیہ اور رمضان المبارک 61 1
59 وفیات 62 1
Flag Counter