Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2007

¾اكستان Ù

45 - 64
نے کہا کہ وہ حکم منسوخ ہے یہ بھی نرا دعوٰی ہے۔ '' 
دُوسری بات میں صاحب ِ قصّہ کی خصوصیت مُسلَّم ہے کیونکہ کفارہ میں صدقہ غیروں کو دینا ہوتا ہے  اور اُن کو اِسی کا حکم دیا گیا۔ اُن کے یہ عرض کرنے پر کہ میرے گھر والوں سے زیادہ غریب تو پورے مدینہ میں کوئی نہیں ہے ۔رسول اللہ  ۖ  نے فرمایا اچھا اپنے گھر والوں کو کھلادو۔ یہ گفتگو خصوصیت پر قرینہ ہے اور اِس خصوصیت کی تائید اِس سے بھی ہوتی ہے کہ اَبودا ود میں ہے  : 
زَادَ الزُّھْرِیُّ وَاِنَّمَا کَانَ ھٰذَا رُخْصَةً لَّہ خَاصَّةً ۔ (وَحَاصِلُ مَعْنٰی ھٰذَا الْقَوْلِ اِنَّہ لَمَّا وَجَبَ عَلَیْہِ الْکَفَّارَةُ بِاِفْسَادِ الصَّوْمِ بِالْجِمَاعِ ثُمَّ اَمَرَہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاَدَائِھَا بِاِعْطَائِ الْعَرْقِ لَہ فَاعْتَذَرَ بِالْفَقْرِ وَالْجُوْعِ فَاَبَاحَہ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاِطْعَامِہ اَھْلَہ فَھٰذَا الْحُکْمُ مُخْتَصّ بِہ) فَلَوْ اَنَّ رَجُلًا فَعَلَ ذٰلِکَ (اَیْ اِفْسَادَ الصَّوْمِ) الْیَوْمَ (اَیْ بَعْدَ زَمَانِ  رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) لَمْ یَکُنْ لَّہ بُدّ مِنَ التَّکْفِیْرِ (اَیْ مِنْ اَدَائِ الْکَفَّارَةِ ۔ فَلَوْ اَطْعَمَ الْیَوْمَ قَدْرَ الْکَفَّارَةِ مِنَ التَّمَرِ وَغَیْرِہ اَھْلَہ لَایَکُوْنُ مُؤَدِّیًا لَّھَا بَلْ یَکُوْنُ دَیْنًا عَلَیْہِ وَیَجِبُ عَلَیْہِ اَدَائُھَا۔
امام زُہری رحمہ اللہ نے جو یہ کہا کہ یہ خاص اُس شخص کے لیے رُخصت تھی تو اِس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جماع کرکے روزہ توڑنے سے اُس شخص پر کفارہ واجب ہوا۔ پھر  رسول اللہ  ۖ  نے اُس کو حکم دیا کہ وہ تھیلے کی کھجوریں فقراء میں تقسیم کردے لیکن  جب اُس شخص نے اپنے گھر والوں کے فقر اور بھوک کا عذر پیش کیا تو آپ  ۖ  نے اُس کو حکم دیا کہ اچھا یہ اپنے ہی گھروالوں کو کھلادو تو یہ حکم (یعنی یہ کہ اپنے ہی گھروالوں  کو کھلادو) اِس کے ساتھ مختص تھا۔ رسول اللہ  ۖ  کے زمانہ کے بعد اگر کوئی روزہ توڑے تو اُس پر کفارہ کی اَدائیگی لازم ہے۔ اگر آج کوئی کفارہ کے بقدر کھجوریں اپنے گھروالوں کو کھلادے تو اِس سے کفارہ اَدا نہیں ہوتا بلکہ کفارہ کی اَدائیگی اُس پر باقی اور واجب رہے گی۔ 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حديث 5 1
4 شاہِ حبشہ کی تخت نشینی کا واقعہ : 6 3
5 شاہِ حبشہ تابعی تھے : 7 3
6 حضرت عمرو بن العاص کی مدح : 7 3
7 عرب کے چار دانا 8 3
8 سیانوں کی نصیحت پر کان نہ دَھرنے کا نقصان : 8 3
9 حضرت علی و معاویہ نے حرمین کو باہمی لڑائیوں سے بچائے رکھا : 8 3
10 حضرت قیس کی چھٹی حس اور حضرت معاویہ کا پچھتانا : 9 3
11 ملفوظات شیخ الاسلام 10 1
12 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 10 11
13 معارف و حقائق : 10 11
14 حکیم فیض عالم صدیقی کی بے راہ رَوی 12 11
15 جواب کا منتظر 17 11
16 احادیث ِمبارکہ اور رمضان المبارک 18 1
17 تقریب ختم ِ بخاری شریف 21 1
18 ( بیان حضرت مولانا سید اَرشد صاحب مدنی مدظلہم العالی ) 23 17
19 علم ِ حدیث میں مشغولیت نبی علیہ السلام سے قربت : 23 17
20 حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کا کشف : 24 17
21 حدیث سے تعلق برقرار رہنا چاہیے : 24 17
23 ( بیان حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہ العالی ) 26 17
24 بڑی تنظیم چھوٹی میں ضم نہیں ہوسکتی : 27 17
25 فنا کی برکات : 27 17
26 تمام چھوٹی جماعتیں بڑی جماعت میں ضم ہوجائیں : 28 17
27 مدارس میں سیاست نہیں ہوتی مگر سیاستدان تیار ہوتے ہیں : 29 17
28 جتنی زیادہ چھوٹی چھوٹی تنظیمیں ہوں گی اُتنا ہی ایجنسیوں کا کام آسان ہوگا : 29 17
29 علماء اور طلباء کے لیے چند دُعائیں : 30 17
30 سورۂ کہف کا معمول : 31 17
33 مرثیہ مولانا عبد الرشید غازی 32 1
34 عورتوں کے رُوحانی اَمراض 33 1
35 مکاری اور چالاکی کا مرض : 33 34
36 زیادہ بولنے کا مرض : 34 34
37 بدگمانی : 35 34
38 لعن طعن اور کوسنے کا مرض : 35 34
39 حسد : 36 34
40 اَللَّطَائِفُ الْاَحْمَدِےَّہ فِی الْمَنَاقِبِ الْفَاطِمِےَّہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 37 1
41 وفیات 39 1
42 ظہار اور روزہ توڑنے میں کفارہ بالصوم 40 1
43 مضمون کا مقصد : 40 42
44 خصوصیت کا دعوٰی اور اُس کا جواب : 44 42
45 اِس کلام پر ہمارا تبصرہ : 48 42
46 درس ِ حدیث 48 1
47 گلدستہ ٔ احادیث 49 1
48 یہودی خباثتیں 52 1
49 ١٠۔ پروٹوکول کا خلاصہ : 52 48
50 صہیونیت یہودیوں کا نیا دین : 54 48
51 یہودی مؤرخ مزید کہتا ہے : 55 48
52 دینی مسائل 56 1
53 ( بیویوں میں برابری کرنے کا بیان ) 56 52
58 تقريظ وتنقيد 57 1
59 اخبار الجامعہ 60 1
Flag Counter