ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
نے کہا کہ وہ حکم منسوخ ہے یہ بھی نرا دعوٰی ہے۔ '' دُوسری بات میں صاحب ِ قصّہ کی خصوصیت مُسلَّم ہے کیونکہ کفارہ میں صدقہ غیروں کو دینا ہوتا ہے اور اُن کو اِسی کا حکم دیا گیا۔ اُن کے یہ عرض کرنے پر کہ میرے گھر والوں سے زیادہ غریب تو پورے مدینہ میں کوئی نہیں ہے ۔رسول اللہ ۖ نے فرمایا اچھا اپنے گھر والوں کو کھلادو۔ یہ گفتگو خصوصیت پر قرینہ ہے اور اِس خصوصیت کی تائید اِس سے بھی ہوتی ہے کہ اَبودا ود میں ہے : زَادَ الزُّھْرِیُّ وَاِنَّمَا کَانَ ھٰذَا رُخْصَةً لَّہ خَاصَّةً ۔ (وَحَاصِلُ مَعْنٰی ھٰذَا الْقَوْلِ اِنَّہ لَمَّا وَجَبَ عَلَیْہِ الْکَفَّارَةُ بِاِفْسَادِ الصَّوْمِ بِالْجِمَاعِ ثُمَّ اَمَرَہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاَدَائِھَا بِاِعْطَائِ الْعَرْقِ لَہ فَاعْتَذَرَ بِالْفَقْرِ وَالْجُوْعِ فَاَبَاحَہ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاِطْعَامِہ اَھْلَہ فَھٰذَا الْحُکْمُ مُخْتَصّ بِہ) فَلَوْ اَنَّ رَجُلًا فَعَلَ ذٰلِکَ (اَیْ اِفْسَادَ الصَّوْمِ) الْیَوْمَ (اَیْ بَعْدَ زَمَانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) لَمْ یَکُنْ لَّہ بُدّ مِنَ التَّکْفِیْرِ (اَیْ مِنْ اَدَائِ الْکَفَّارَةِ ۔ فَلَوْ اَطْعَمَ الْیَوْمَ قَدْرَ الْکَفَّارَةِ مِنَ التَّمَرِ وَغَیْرِہ اَھْلَہ لَایَکُوْنُ مُؤَدِّیًا لَّھَا بَلْ یَکُوْنُ دَیْنًا عَلَیْہِ وَیَجِبُ عَلَیْہِ اَدَائُھَا۔ امام زُہری رحمہ اللہ نے جو یہ کہا کہ یہ خاص اُس شخص کے لیے رُخصت تھی تو اِس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جماع کرکے روزہ توڑنے سے اُس شخص پر کفارہ واجب ہوا۔ پھر رسول اللہ ۖ نے اُس کو حکم دیا کہ وہ تھیلے کی کھجوریں فقراء میں تقسیم کردے لیکن جب اُس شخص نے اپنے گھر والوں کے فقر اور بھوک کا عذر پیش کیا تو آپ ۖ نے اُس کو حکم دیا کہ اچھا یہ اپنے ہی گھروالوں کو کھلادو تو یہ حکم (یعنی یہ کہ اپنے ہی گھروالوں کو کھلادو) اِس کے ساتھ مختص تھا۔ رسول اللہ ۖ کے زمانہ کے بعد اگر کوئی روزہ توڑے تو اُس پر کفارہ کی اَدائیگی لازم ہے۔ اگر آج کوئی کفارہ کے بقدر کھجوریں اپنے گھروالوں کو کھلادے تو اِس سے کفارہ اَدا نہیں ہوتا بلکہ کفارہ کی اَدائیگی اُس پر باقی اور واجب رہے گی۔