ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
¾اكستان Ù |
|
حضرات نے ، منتخب حضرات نے ،قانون سازاداروںنے ، سپریم کورٹ نے جو کچھ کیاوہ غلط ۔ وہ قانون کے غلط استعمال کو روکنے میں ناکام ۔ آنجناب بصد عزت وقار اس ملک کے حقیقی خیر خواہ ۔ اس ملک کے واحد خیر خواہ ، نئی بنیادوں پر نئی لائنوں پر، ملک کی نئی تعمیر کا نیا نقشہ ، انجامِ گلستان کیا ہوگا؟ جناب یحیٰ خان نے جغرافیہ تبدیل کیا تھا ۔آپ نظریہ تبدیل فرمائیں ۔ نہ اُسے کوئی روک سکا، نہ آنجناب کو کوئی روک سکے گا۔بسم اللہ کیجیے ۔ وقت سے فائدہ اُٹھائیے ۔اس لیے کہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا۔ دیر نہ ہونے پائے۔ (٨) پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اس کے تشخص کو ملیا میٹ کرنا آئین سے تجاوز ہے۔ اسلام کی رُوح پیغمبر علیہ السلام کی عزت وناموس کا تحفظ ہے۔ اس میں دراڑ ڈالنے والے کو قانون کے ذریعہ دار پر کھینچنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اپنی ذات وعزت وناموس کے محافظ حکمرانوں کو پیغمبر علیہ السلام کی عزت وناموس کا احساس کرنا چاہیے۔ یہ اسلام اور پاکستان کی بقاء کا را ز ہے۔ اس سے دستبردار ہونا اپنی حمیت سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے ؟ آخر میں بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ کا ایک واقعہ نقل کردیا جائے۔ ''انگریز حکمران ہرسال گرمیوں کے موسم میںلندن میں ایک سرکاری تقریب منعقد کرکے ہندوستان کے تمام رئوسا، وڈیروں ، جاگیرداروں کو مدعو کرتے، جن میں دیگر ہندوستانی رئوسا کے علاوہ نواب آف بہاولپور بھی شریک ہوتے۔ ایسے ایک اجتماع کے موقع پر نواب بہاولپورنے جناب عمر حیات ٹوانہ سے کہا کہ میری ریاست بہاولپور کی عدالت میں قادیانیوں کے متعلق ایک کیس زیرِ سماعت ہے۔ انگریز حکومت کا مجھ پر دبائو ہے کہ قادیانیوں کے خلاف فیصلہ نہ ہو۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اس پر جناب عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ نواب صادق صاحب ! انگریزنے ہم سے حکومت ، اقتدار، خزانہ ، عزت وناموس سب کچھ لے لیا ہے۔ کیا اب وہ ہم مسلمانوں سے آخری متاع آنحضرت ۖ کی ذاتِ اقدس کی عزت وناموس بھی ہتھیانے کے درپے ہے؟ یہ کہہ کر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ نواب صاحب ! ڈٹ جائیں،اس متاع ِعزیز کا تحفظ کریں ۔ ہم سے انگریز یہ نہ چھیننے پائے۔ اس پروہ دونوں( عمر حیات ٹوانہ اور نواب صاحب) انگریزوں کے سامنے ڈٹ گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی روایت کے مطابق مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی