ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
اكستان |
|
مطلب یہ ہے کہ آپ پر نازل ہونے والا قرآن مقدس چونکہ اللہ کی وحی ازلی ہے جو اپنے الفاظ ومعانی کے ساتھ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے لہٰذا آپ کے پردہ فرمانے کے بعد بھی اُس کی معجزنمائی برقرار رہے گی جسے دیکھ کر آپ کی اُمت میں برابر اضافہ ہوتا رہے گا۔ یہ قرآن مقدس بذات خود معجزہ ہے۔ اِس کی فصاحت وبلاغت ،زبان وبیان ،حقائق ومعارف ،جامعیت اور حقانیت اظہر من الشمس ہے ۔ یہ اللہ کی طرف سے تمام عالم کے لیے ایسا چیلنج ہے جس کی مثال پیش کرنے سے ساری کائنات عاجز اور درماندہ ہے اور اِس کی مثال نہ کوئی لا سکا ہے اور نہ لا سکتا ہے ۔ (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : جس وقت آپ مکہ معظمہ میں مقیم تھے تو مشرکینِ مکہ نے آپ سے کوئی نشانی دکھلانے کی درخواست کی تو آنحضرت ۖ نے اُ ن کو مطمئن کرنے کے لیے بحکمِ خدا وندی چاند کے دو ٹکڑے کرنے کی نشانی دکھلائی ۔ایک روایت میں ہے : عن انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان اھل مکة سالوا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یریھم ایة فاراھم انشقاق القمر مرتین ۔ (مسلم شریف ٢/٣٧٣) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ مکہ والوں نے پیغمبر ۖ سے کوئی نشانی دکھلانے کی درخواست کی تو آپ ۖ نے اُن کو چاند کو دو ٹکڑے کرنے کی نشانی دکھلائی۔ مسند احمد کی ایک روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اس نشانی کو دیکھ کر مشرکین بولے کہ محمد ۖ نے ہم پر سحر کردیا ہے ۔پھر خود ہی انہی میں سے بعض نے جواب دیا کہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر سحر ہوتاتو کسی ایک پرہوتا سب لوگوں پر کیسے سحر ہو سکتاہے؟ (تفسیر ابن کثیر مکمل ١٢٨١، شمائل الرسول١٤٦)