Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004

¾اكستان Ù

7 - 65
کے فیصلوں کو تبدیل کرنے کے لیے اخلاقی وقانونی طورپر ہمیں اجازت ہے کہ اس پر ہم آواز اُٹھائیں ؟ اگر ایسا نہیں تو لاوارث اور کمزور ملک پاکستان ہی رہ گیا ہے کہ ا س کے قانون ساز اداروں کے فیصلوں کو تبدیل کرنے کے لیے ہم پر دبائو ڈالا جاتا ہے اور ہم ذہنی طورپر اِن کے آگے اتنے مفلوج ، اپاہج اور دریوزہ گرہو گئے ہیںکہ ان کی ترجمانی کے فرائض سرانجام دینے کے لیے گلے پھاڑپھاڑ کر اپنی نوکری پکی کرانے کی کوشش کررہے ہیں،آخر کیوں؟
(٥)  اگر ایک بد نصیب شخص کسی پیغمبر کی توہین کا ارتکاب کرتا ہے۔ اسے قانون کے سپرد کرنا، عدالت پر معاملہ چھوڑنابہتر ہے یا ملزم کورعایت دے کر اس پیغمبر کے ماننے والوں کے رحم وکرم کے اسے سپرد کردینا مناسب ہے کہ وہ جو چاہیں اس سے کریں ؟ آخر جب قانون ، پیغمبر کی عزت کی پاسبانی نہیںکرے گا تو کیا اِس کے ماننے والوں میں سے بھی کوئی اپنے پیغمبر کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے آمادہ نہ ہوگا ؟ قانون میں رعایت دے کر ہم پورے ملک کو بدامنی کی طرف تو نہیں دھکیل رہے؟ برصغیر میں انگریز حکومت کے وقت مسلمانوں نے جان کا نذرانہ دے کر اہانتِ رسول کے مرتکبین کو لگام دی ۔ تاریخ اِس پر گواہ ہے ۔اس سے سبق حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ تاریخ سے سبق حاصل کرنے کے بجائے نئی تاریخ رقم کرنے کا سامان فراہم کرنا کیا یہ دانشمندی ہے ؟
(٦)  جناب پرویز مشرف صاحب پر حملے ہوئے یا کرائے گئے۔ وہ کون لوگ تھے؟ پوری تندھی سے حکومت دن رات ایک کرکے اِن کو تلاش کرنے کے درپے ہے۔ جناب پرویز صاحب ! اپنی ذات کے دشمنوں یا ملک کے مخالفوں اور دشمنوں کو چن چن کر سبق سکھانا ضروری اور بہت ضروری!!! اورآنحضرت  ۖ  کے دشمنوں ، مخالفوں اور زبان درازی کرنے والوں کو رعایت دینے کے درپے ہونا ایک مسلمان کے ناطے اس کا کوئی جواز ہے ؟
(٧)  اِن تمام کارروائیوں کے جواز کے لیے جو گھسی پٹی وجہ بیان کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہی ایک قانون ہے جو غلط استعمال ہو رہا ہے ؟ کل کی بات ہے کہ آپ کے وزیر قانون خالد رانجھا نے ارشاد فرمایا کہ پاکستان میں ٩٨فیصد مقدمات جھوٹے قائم ہوتے ہیں ۔جی بسم اللہ ! ہمت کیجیے پورے قانون کوتبدیل کیجیے، پاکستان کو ١٤ اگست ١٩٤٧ء کی پوزیشن پر لے جائیے۔ آج تک جن سابقہ حکمرانوں نے، ملک کے بانی

  7  
حضرات نے ، منتخب حضرات نے ،قانون سازاداروںنے ، سپریم کورٹ نے جو کچھ کیاوہ غلط ۔ وہ قانون کے غلط استعمال کو
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
64 اس شمارے میں 3 1
65 حرف آغاز 4 1
66 درسِ حدیث 10 1
67 حضرت ثا بت بن قیس کا تقوٰی اور نبی علیہ السلام کا اُن پر اعتماد 10 66
68 پہلے زمانہ میں اچھے خطیب کے لیے بلند آواز والا ہونا ضروری تھا : 10 66
69 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ : 11 66
70 اپنی تعداد پر گھمنڈ کا نقصان : 11 66
71 میدان جنگ میں اطمینان اور سکینہ کانزول : 11 66
72 رسولِ خدا پیچھے نہیں ہٹے : 12 66
73 بہادری کی انتہاء ،سواری سے اُتر گئے : 12 66
74 حضرت ثابت باکمال خطیب تھے : 12 66
75 جھوٹے نبی کا گھٹیا مقصد اور نبی علیہ السلام سے گفتگو : 13 66
76 مقاصدِ نبوت : 13 66
77 مثال سے وضاحت : 13 66
78 اُسی وقت آپ نے اُسے قتل کیوں نہ کیا : 14 66
79 حضرت ثابت بن قیس پر اعتماد : 14 66
80 حضرت ثابت بن قیس کا تقوٰی اور احتیاط : 15 66
81 علماء اور ائمہ مساجد کو بھی اِس سنت پر عمل کرنا چاہیے : 15 66
82 حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی نوید : 15 66
83 دلائل نبوت ۖ 16 1
84 (١) قرآن مقدس، سراپا معجزہ : 16 83
85 (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : 17 83
86 .3پتھر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا 18 83
87 4۔کنکریوں کا تسبیح پڑھنا 18 83
88 (٥) درختوں کا پیغمبر علیہ السلام کی صداقت کی گواہی دینا : 19 83
89 (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : 21 83
90 (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : 21 83
91 (٨) اُنگلیوں سے پانی نکلنا : 23 83
92 (٩) برکتیں ہی برکتیں : 24 83
93 (١٠) عصا اور کوڑے کا رات میں روشن ہونا : 25 83
94 مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 27 1
95 ملا محمود : (وفات١٣٠٤ھ/١٨٨٦ء ) 28 94
96 قیام دارالعلوم کا ذکر بزبان مولانا ذوالفقار علی : 28 94
97 ذکر بناء جامع مسجد دیوبند : 32 94
98 مسعودیوں کے علماء دیوبند پر اعتراضات 37 1
99 (١) عرش و کعبہ و کرسی کی توہین : 37 98
100 سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک 40 1
101 سیرة نبوی اور مستشرقین 41 1
102 جہاد پرمستشرقین کا اعتراض : 41 101
103 مقصد ِجہاد دین پرجبر نہیں رفع فساد ہے : 42 101
104 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 48 1
105 مصائب وآلام سے بچنے کے شرعی نسخے 49 1
106 (١) گناہوں سے بچنا اور کثرت سے استغفا ر پڑھنا : 49 105
107 (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : 52 105
108 (٣) دُعاء کا اہتمام کرنا : 53 105
109 (٤) صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا : 54 105
110 (٥) مسنون اور اد و وظائف کا پڑھنا : 55 105
111 تکالیف سے فوری نجات کا راستہ : 56 105
112 ہر مصیبت و تکلیف کا علاج : 56 105
113 آفات ومشکلات سے حفاظت کا نسخہ : 56 105
114 تمام بلائوں سے حفاظت : 56 105
115 سحر اور نظربد سے حفاظت : 57 105
116 انتقال پر ملال 57 1
117 ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے 58 1
118 دینی مسائل 60 1
119 ( نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) 60 118
120 ١۔ نماز میں بولنا یا بِلا ضرورت آواز نکالنا : 60 118
121 ٢۔ ایسا عمل کرنا جو کثیر ہو اور نماز کی جنس سے نہ ہو : 61 118
122 (٣) نماز کے اندر کھانا پینا : 62 118
123 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter