ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
¾اكستان Ù |
|
کے فیصلوں کو تبدیل کرنے کے لیے اخلاقی وقانونی طورپر ہمیں اجازت ہے کہ اس پر ہم آواز اُٹھائیں ؟ اگر ایسا نہیں تو لاوارث اور کمزور ملک پاکستان ہی رہ گیا ہے کہ ا س کے قانون ساز اداروں کے فیصلوں کو تبدیل کرنے کے لیے ہم پر دبائو ڈالا جاتا ہے اور ہم ذہنی طورپر اِن کے آگے اتنے مفلوج ، اپاہج اور دریوزہ گرہو گئے ہیںکہ ان کی ترجمانی کے فرائض سرانجام دینے کے لیے گلے پھاڑپھاڑ کر اپنی نوکری پکی کرانے کی کوشش کررہے ہیں،آخر کیوں؟ (٥) اگر ایک بد نصیب شخص کسی پیغمبر کی توہین کا ارتکاب کرتا ہے۔ اسے قانون کے سپرد کرنا، عدالت پر معاملہ چھوڑنابہتر ہے یا ملزم کورعایت دے کر اس پیغمبر کے ماننے والوں کے رحم وکرم کے اسے سپرد کردینا مناسب ہے کہ وہ جو چاہیں اس سے کریں ؟ آخر جب قانون ، پیغمبر کی عزت کی پاسبانی نہیںکرے گا تو کیا اِس کے ماننے والوں میں سے بھی کوئی اپنے پیغمبر کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے آمادہ نہ ہوگا ؟ قانون میں رعایت دے کر ہم پورے ملک کو بدامنی کی طرف تو نہیں دھکیل رہے؟ برصغیر میں انگریز حکومت کے وقت مسلمانوں نے جان کا نذرانہ دے کر اہانتِ رسول کے مرتکبین کو لگام دی ۔ تاریخ اِس پر گواہ ہے ۔اس سے سبق حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ تاریخ سے سبق حاصل کرنے کے بجائے نئی تاریخ رقم کرنے کا سامان فراہم کرنا کیا یہ دانشمندی ہے ؟ (٦) جناب پرویز مشرف صاحب پر حملے ہوئے یا کرائے گئے۔ وہ کون لوگ تھے؟ پوری تندھی سے حکومت دن رات ایک کرکے اِن کو تلاش کرنے کے درپے ہے۔ جناب پرویز صاحب ! اپنی ذات کے دشمنوں یا ملک کے مخالفوں اور دشمنوں کو چن چن کر سبق سکھانا ضروری اور بہت ضروری!!! اورآنحضرت ۖ کے دشمنوں ، مخالفوں اور زبان درازی کرنے والوں کو رعایت دینے کے درپے ہونا ایک مسلمان کے ناطے اس کا کوئی جواز ہے ؟ (٧) اِن تمام کارروائیوں کے جواز کے لیے جو گھسی پٹی وجہ بیان کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہی ایک قانون ہے جو غلط استعمال ہو رہا ہے ؟ کل کی بات ہے کہ آپ کے وزیر قانون خالد رانجھا نے ارشاد فرمایا کہ پاکستان میں ٩٨فیصد مقدمات جھوٹے قائم ہوتے ہیں ۔جی بسم اللہ ! ہمت کیجیے پورے قانون کوتبدیل کیجیے، پاکستان کو ١٤ اگست ١٩٤٧ء کی پوزیشن پر لے جائیے۔ آج تک جن سابقہ حکمرانوں نے، ملک کے بانی 7 حضرات نے ، منتخب حضرات نے ،قانون سازاداروںنے ، سپریم کورٹ نے جو کچھ کیاوہ غلط ۔ وہ قانون کے غلط استعمال کو