Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004

اكستان

21 - 65
پوری فرمائی )۔ اس کے بعد دونوں پیڑوں کو اشارے سے اپنی اپنی جگہ چلے جانے کو کہا چنانچہ وہ دونوں پیڑ کھڑے ہوکر پھر اپنی اپنی جگہ چلے گئے ۔اللہ اکبر ! (مسلم شریف ٢/٢١٧، ٢١٨)
(٦)  غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا  :
	متعدد روایتوں سے یہ واقعہ منقول ہے کہ نبی اکرم  ۖ  کی دعا کی برکت سے سورج غروب ہونے کے بعد دوبارہ نکل آیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نماز عصر جو آپ  ۖ  کی خدمت میں مشغولی کی وجہ سے رہ گئی تھی وہ آپ   نے ادا فرمائی ،یہ واقعہ خیبر کے قریب پیش آیا، چنانچہ روایت میں ہے  :
عن اسماء بنت عمیس رضی اللّٰہ عنھا قالت کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوحی الیہ ورأسہ فی حجر علی رضی اللّٰہ عنہ فلم یکن یصلٰی العصر حتی غربت الشمس فقال رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰھم انہ کان فی طاعتک وطاعة رسولک فاردد علیہ الشمس۔ قالت اسماء فرأیتھا غربت ثم رأیتھا طلعت بعد ما غربت ۔ (الخصائص الکبرٰی ٢/١٣٧)

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ پیغمبر علیہ السلام پر وحی کا نزول ہو رہا تھا اور آپ کا سرِ مبارک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا جسکی وجہ سے حضرت علی   عصر کی نماز نہیں پڑھ سکے تاآں کہ سورج غروب ہو گیا تو آنحضرت  ۖ نے دُعا فرمائی کہ ''یہ علی آپ کی اور آپ کے رسول کی اطاعت میں مشغول تھے لہٰذا اِن پر سورج لوٹا دیجئے'' ۔ حضرت اسماء   فرماتی ہیں کہ میںنے سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھا پھر غروب کے بعد طلوع ہوتے ہوئے بھی دیکھا۔
	امام طحاوی  نے مشکل الآثار میں بھی اس واقعہ سے متعلق متعدد روایتیں نقل فرمائی ہیں تاہم بہت سے محدثین نے اِس پر نقد بھی کیا ہے ۔ (تفصیل دیکھیں شمائل الرسول للحافظ ابن کثیر ١٥١، ١٦٩)  
(٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا  :
	مسجد نبوی میں باقاعدہ منبربنائے جانے سے پہلے آپ  ۖ  ایک کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے ، پھر جب آپ کے لیے منبر بن گیا اورآپ نے اس تنے پر ٹیک لگانے کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی تو اس
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
64 اس شمارے میں 3 1
65 حرف آغاز 4 1
66 درسِ حدیث 10 1
67 حضرت ثا بت بن قیس کا تقوٰی اور نبی علیہ السلام کا اُن پر اعتماد 10 66
68 پہلے زمانہ میں اچھے خطیب کے لیے بلند آواز والا ہونا ضروری تھا : 10 66
69 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ : 11 66
70 اپنی تعداد پر گھمنڈ کا نقصان : 11 66
71 میدان جنگ میں اطمینان اور سکینہ کانزول : 11 66
72 رسولِ خدا پیچھے نہیں ہٹے : 12 66
73 بہادری کی انتہاء ،سواری سے اُتر گئے : 12 66
74 حضرت ثابت باکمال خطیب تھے : 12 66
75 جھوٹے نبی کا گھٹیا مقصد اور نبی علیہ السلام سے گفتگو : 13 66
76 مقاصدِ نبوت : 13 66
77 مثال سے وضاحت : 13 66
78 اُسی وقت آپ نے اُسے قتل کیوں نہ کیا : 14 66
79 حضرت ثابت بن قیس پر اعتماد : 14 66
80 حضرت ثابت بن قیس کا تقوٰی اور احتیاط : 15 66
81 علماء اور ائمہ مساجد کو بھی اِس سنت پر عمل کرنا چاہیے : 15 66
82 حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی نوید : 15 66
83 دلائل نبوت ۖ 16 1
84 (١) قرآن مقدس، سراپا معجزہ : 16 83
85 (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : 17 83
86 .3پتھر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا 18 83
87 4۔کنکریوں کا تسبیح پڑھنا 18 83
88 (٥) درختوں کا پیغمبر علیہ السلام کی صداقت کی گواہی دینا : 19 83
89 (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : 21 83
90 (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : 21 83
91 (٨) اُنگلیوں سے پانی نکلنا : 23 83
92 (٩) برکتیں ہی برکتیں : 24 83
93 (١٠) عصا اور کوڑے کا رات میں روشن ہونا : 25 83
94 مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 27 1
95 ملا محمود : (وفات١٣٠٤ھ/١٨٨٦ء ) 28 94
96 قیام دارالعلوم کا ذکر بزبان مولانا ذوالفقار علی : 28 94
97 ذکر بناء جامع مسجد دیوبند : 32 94
98 مسعودیوں کے علماء دیوبند پر اعتراضات 37 1
99 (١) عرش و کعبہ و کرسی کی توہین : 37 98
100 سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک 40 1
101 سیرة نبوی اور مستشرقین 41 1
102 جہاد پرمستشرقین کا اعتراض : 41 101
103 مقصد ِجہاد دین پرجبر نہیں رفع فساد ہے : 42 101
104 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 48 1
105 مصائب وآلام سے بچنے کے شرعی نسخے 49 1
106 (١) گناہوں سے بچنا اور کثرت سے استغفا ر پڑھنا : 49 105
107 (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : 52 105
108 (٣) دُعاء کا اہتمام کرنا : 53 105
109 (٤) صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا : 54 105
110 (٥) مسنون اور اد و وظائف کا پڑھنا : 55 105
111 تکالیف سے فوری نجات کا راستہ : 56 105
112 ہر مصیبت و تکلیف کا علاج : 56 105
113 آفات ومشکلات سے حفاظت کا نسخہ : 56 105
114 تمام بلائوں سے حفاظت : 56 105
115 سحر اور نظربد سے حفاظت : 57 105
116 انتقال پر ملال 57 1
117 ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے 58 1
118 دینی مسائل 60 1
119 ( نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) 60 118
120 ١۔ نماز میں بولنا یا بِلا ضرورت آواز نکالنا : 60 118
121 ٢۔ ایسا عمل کرنا جو کثیر ہو اور نماز کی جنس سے نہ ہو : 61 118
122 (٣) نماز کے اندر کھانا پینا : 62 118
123 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter