ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
اكستان |
|
پوری فرمائی )۔ اس کے بعد دونوں پیڑوں کو اشارے سے اپنی اپنی جگہ چلے جانے کو کہا چنانچہ وہ دونوں پیڑ کھڑے ہوکر پھر اپنی اپنی جگہ چلے گئے ۔اللہ اکبر ! (مسلم شریف ٢/٢١٧، ٢١٨) (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : متعدد روایتوں سے یہ واقعہ منقول ہے کہ نبی اکرم ۖ کی دعا کی برکت سے سورج غروب ہونے کے بعد دوبارہ نکل آیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نماز عصر جو آپ ۖ کی خدمت میں مشغولی کی وجہ سے رہ گئی تھی وہ آپ نے ادا فرمائی ،یہ واقعہ خیبر کے قریب پیش آیا، چنانچہ روایت میں ہے : عن اسماء بنت عمیس رضی اللّٰہ عنھا قالت کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوحی الیہ ورأسہ فی حجر علی رضی اللّٰہ عنہ فلم یکن یصلٰی العصر حتی غربت الشمس فقال رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰھم انہ کان فی طاعتک وطاعة رسولک فاردد علیہ الشمس۔ قالت اسماء فرأیتھا غربت ثم رأیتھا طلعت بعد ما غربت ۔ (الخصائص الکبرٰی ٢/١٣٧) حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ پیغمبر علیہ السلام پر وحی کا نزول ہو رہا تھا اور آپ کا سرِ مبارک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا جسکی وجہ سے حضرت علی عصر کی نماز نہیں پڑھ سکے تاآں کہ سورج غروب ہو گیا تو آنحضرت ۖ نے دُعا فرمائی کہ ''یہ علی آپ کی اور آپ کے رسول کی اطاعت میں مشغول تھے لہٰذا اِن پر سورج لوٹا دیجئے'' ۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ میںنے سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھا پھر غروب کے بعد طلوع ہوتے ہوئے بھی دیکھا۔ امام طحاوی نے مشکل الآثار میں بھی اس واقعہ سے متعلق متعدد روایتیں نقل فرمائی ہیں تاہم بہت سے محدثین نے اِس پر نقد بھی کیا ہے ۔ (تفصیل دیکھیں شمائل الرسول للحافظ ابن کثیر ١٥١، ١٦٩) (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : مسجد نبوی میں باقاعدہ منبربنائے جانے سے پہلے آپ ۖ ایک کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے ، پھر جب آپ کے لیے منبر بن گیا اورآپ نے اس تنے پر ٹیک لگانے کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی تو اس