Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004

اكستان

58 - 65
  ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے
( عبداللہ عادل متعلم جامعہ مدنیہ لاہور )
	اس پُر آشوب دور میں اکابرعلماء دیوبند رحہم اللہ نے سینکڑوں کی تعداد میں دین ِحمید کی گُل ہوتی شمع کو اپنے سینے کی حدت سے روشن رکھتے ہوئے دنیا کے کونے کونے میں نور کی کرنوں کو پھیلایا اور اپنی اپنی خدمات کی وجہ سے تاقیامت تاریخ کے ماتھے پرسورج کی طرح روشن رہیں گے (انشاء اللہ )۔ ان اکابر میں سے حضرت شیخ الہند  اور حضرت شیخ الاسلام   کا آپس میں ایسا تعلق تھا کہ اگر شیخ الہند  چاند تھے تو شیخ الاسلام  اُس کا ھالہ تھے اور اگرشیخ الہند سورج تھے تو شیخ الاسلام اُس کی کرنیں تھے اوراگر شیخ الہند سمندر تھے توشیخ الاسلام  اُس کی روانی تھے۔
	حقیقتاً یہ دونوں شخصیات ہی تھیں جنہیں برصغیر کے عوام و خواص ایک جید عالم صوفی طریقت اورمدبر سیاسی لیڈر کے طورپر جانتے اور مانتے تھے ۔یہ دونوں حضرات کے درمیان استاد اور شاگرد کا عظیم روحانی رشتہ کسی پر مخفی نہیں ہے۔ شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنی   کے قلب میں اللہ تعالی نے اپنے اُستاذ کی خدمت و محبت کا  ایسا جذبہ عطا فرمایا تھا جس کی وجہ سے وہ حضرت شیخ الہند  کی خدمت اور قربت کے لیے انہیں ہر وقت بے قرار رکھتا اوریہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دنیامیں اُستاذ وشاگرد کے تعلق کی اس جیسی مثال کا ملنا بہت مشکل ہے۔ اس محبت کا اندازہ حضرت شیخ الہند کے شاگردِ رشید ولی کامل بایزید وقت حضرت میاں سیّد اصغر حسین رحمة اللہ علیہ کے بتائے ہوئے اس واقع سے ہوتا ہے وہ فرماتے ہیں  :
احقر کے زمانۂ قیام جونپور میں حضرت شیخ الہند بھاگلپور سے واپس ہوتے ہوئے ایک روز کے لیے جونپور ٹھہرے حضرت مولانا حسین احمد مدنی   ان کے ہمرکاب تھے ۔رمضان المبارک کا تیسرا روزہ تھا شب بیداری کے کسل سے صبح کی نماز کے بعد حضرت نے آرام کرنا چاہا۔تنہائی کے لیے مسجد اٹالہ کے بالائی درجہ پر بستر بچھا کر حضرت کو لٹایا۔ مولانا حسین احمد مدنی   اس زمانہ میں ( ہر کہ خدمت کرد مخدوم شد ) کے صحیح مصداق ہوگئے تھے ۔ ہمیشہ سفروحضر کی خدمت کے لیے حضرت  کو آرام پہنچاتے رہتے تھے۔ حسب عادت پائوں دبانے لگے خاکسار محروم الخدمت کو حرص خدمت آئی دوسرا پائوں دبانہ شروع کردیا اور ہنس کر حضرت حسین احمد مدنی   کو کہا ۔مولوی صاحب آج ہم
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
64 اس شمارے میں 3 1
65 حرف آغاز 4 1
66 درسِ حدیث 10 1
67 حضرت ثا بت بن قیس کا تقوٰی اور نبی علیہ السلام کا اُن پر اعتماد 10 66
68 پہلے زمانہ میں اچھے خطیب کے لیے بلند آواز والا ہونا ضروری تھا : 10 66
69 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ : 11 66
70 اپنی تعداد پر گھمنڈ کا نقصان : 11 66
71 میدان جنگ میں اطمینان اور سکینہ کانزول : 11 66
72 رسولِ خدا پیچھے نہیں ہٹے : 12 66
73 بہادری کی انتہاء ،سواری سے اُتر گئے : 12 66
74 حضرت ثابت باکمال خطیب تھے : 12 66
75 جھوٹے نبی کا گھٹیا مقصد اور نبی علیہ السلام سے گفتگو : 13 66
76 مقاصدِ نبوت : 13 66
77 مثال سے وضاحت : 13 66
78 اُسی وقت آپ نے اُسے قتل کیوں نہ کیا : 14 66
79 حضرت ثابت بن قیس پر اعتماد : 14 66
80 حضرت ثابت بن قیس کا تقوٰی اور احتیاط : 15 66
81 علماء اور ائمہ مساجد کو بھی اِس سنت پر عمل کرنا چاہیے : 15 66
82 حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی نوید : 15 66
83 دلائل نبوت ۖ 16 1
84 (١) قرآن مقدس، سراپا معجزہ : 16 83
85 (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : 17 83
86 .3پتھر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا 18 83
87 4۔کنکریوں کا تسبیح پڑھنا 18 83
88 (٥) درختوں کا پیغمبر علیہ السلام کی صداقت کی گواہی دینا : 19 83
89 (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : 21 83
90 (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : 21 83
91 (٨) اُنگلیوں سے پانی نکلنا : 23 83
92 (٩) برکتیں ہی برکتیں : 24 83
93 (١٠) عصا اور کوڑے کا رات میں روشن ہونا : 25 83
94 مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 27 1
95 ملا محمود : (وفات١٣٠٤ھ/١٨٨٦ء ) 28 94
96 قیام دارالعلوم کا ذکر بزبان مولانا ذوالفقار علی : 28 94
97 ذکر بناء جامع مسجد دیوبند : 32 94
98 مسعودیوں کے علماء دیوبند پر اعتراضات 37 1
99 (١) عرش و کعبہ و کرسی کی توہین : 37 98
100 سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک 40 1
101 سیرة نبوی اور مستشرقین 41 1
102 جہاد پرمستشرقین کا اعتراض : 41 101
103 مقصد ِجہاد دین پرجبر نہیں رفع فساد ہے : 42 101
104 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 48 1
105 مصائب وآلام سے بچنے کے شرعی نسخے 49 1
106 (١) گناہوں سے بچنا اور کثرت سے استغفا ر پڑھنا : 49 105
107 (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : 52 105
108 (٣) دُعاء کا اہتمام کرنا : 53 105
109 (٤) صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا : 54 105
110 (٥) مسنون اور اد و وظائف کا پڑھنا : 55 105
111 تکالیف سے فوری نجات کا راستہ : 56 105
112 ہر مصیبت و تکلیف کا علاج : 56 105
113 آفات ومشکلات سے حفاظت کا نسخہ : 56 105
114 تمام بلائوں سے حفاظت : 56 105
115 سحر اور نظربد سے حفاظت : 57 105
116 انتقال پر ملال 57 1
117 ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے 58 1
118 دینی مسائل 60 1
119 ( نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) 60 118
120 ١۔ نماز میں بولنا یا بِلا ضرورت آواز نکالنا : 60 118
121 ٢۔ ایسا عمل کرنا جو کثیر ہو اور نماز کی جنس سے نہ ہو : 61 118
122 (٣) نماز کے اندر کھانا پینا : 62 118
123 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter