ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
اكستان |
|
ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے ( عبداللہ عادل متعلم جامعہ مدنیہ لاہور ) اس پُر آشوب دور میں اکابرعلماء دیوبند رحہم اللہ نے سینکڑوں کی تعداد میں دین ِحمید کی گُل ہوتی شمع کو اپنے سینے کی حدت سے روشن رکھتے ہوئے دنیا کے کونے کونے میں نور کی کرنوں کو پھیلایا اور اپنی اپنی خدمات کی وجہ سے تاقیامت تاریخ کے ماتھے پرسورج کی طرح روشن رہیں گے (انشاء اللہ )۔ ان اکابر میں سے حضرت شیخ الہند اور حضرت شیخ الاسلام کا آپس میں ایسا تعلق تھا کہ اگر شیخ الہند چاند تھے تو شیخ الاسلام اُس کا ھالہ تھے اور اگرشیخ الہند سورج تھے تو شیخ الاسلام اُس کی کرنیں تھے اوراگر شیخ الہند سمندر تھے توشیخ الاسلام اُس کی روانی تھے۔ حقیقتاً یہ دونوں شخصیات ہی تھیں جنہیں برصغیر کے عوام و خواص ایک جید عالم صوفی طریقت اورمدبر سیاسی لیڈر کے طورپر جانتے اور مانتے تھے ۔یہ دونوں حضرات کے درمیان استاد اور شاگرد کا عظیم روحانی رشتہ کسی پر مخفی نہیں ہے۔ شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنی کے قلب میں اللہ تعالی نے اپنے اُستاذ کی خدمت و محبت کا ایسا جذبہ عطا فرمایا تھا جس کی وجہ سے وہ حضرت شیخ الہند کی خدمت اور قربت کے لیے انہیں ہر وقت بے قرار رکھتا اوریہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دنیامیں اُستاذ وشاگرد کے تعلق کی اس جیسی مثال کا ملنا بہت مشکل ہے۔ اس محبت کا اندازہ حضرت شیخ الہند کے شاگردِ رشید ولی کامل بایزید وقت حضرت میاں سیّد اصغر حسین رحمة اللہ علیہ کے بتائے ہوئے اس واقع سے ہوتا ہے وہ فرماتے ہیں : احقر کے زمانۂ قیام جونپور میں حضرت شیخ الہند بھاگلپور سے واپس ہوتے ہوئے ایک روز کے لیے جونپور ٹھہرے حضرت مولانا حسین احمد مدنی ان کے ہمرکاب تھے ۔رمضان المبارک کا تیسرا روزہ تھا شب بیداری کے کسل سے صبح کی نماز کے بعد حضرت نے آرام کرنا چاہا۔تنہائی کے لیے مسجد اٹالہ کے بالائی درجہ پر بستر بچھا کر حضرت کو لٹایا۔ مولانا حسین احمد مدنی اس زمانہ میں ( ہر کہ خدمت کرد مخدوم شد ) کے صحیح مصداق ہوگئے تھے ۔ ہمیشہ سفروحضر کی خدمت کے لیے حضرت کو آرام پہنچاتے رہتے تھے۔ حسب عادت پائوں دبانے لگے خاکسار محروم الخدمت کو حرص خدمت آئی دوسرا پائوں دبانہ شروع کردیا اور ہنس کر حضرت حسین احمد مدنی کو کہا ۔مولوی صاحب آج ہم