ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
¾اكستان Ù |
|
خلاصی نہیں ہوسکتی ۔سو اِس سبب کی طرف کسی کو اِلتفات تک بھی نہیں ۔آپ ہی بتلائیے فیصدی کتنے ایسے لوگ ہیں جن کواِس کا احساس ہو اور وہ تدبیر کرتے ہوں۔ ہاں ظاہری تدبیریں کرتے ہیں لیکن اصلی تدبیر سے غفلت ہے اور بعضے کوئی تدبیر بھی نہیں کرتے ۔(راہِ نجات) اور وہ تدبیر کیا ہے؟ وہ تدبیر یہ ہے جو حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمائی۔ یاقوم استغفروا ربکم الخ ۔'' اے میری قوم اپنے گناہوں کی اپنے رب سے معافی مانگو''۔ (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : تمام گناہوں سے توبہ واستغفار کے ذیل میں اپنے فرضِ منصبی میں کوتاہی کرنے پر بھی توبہ کرنی چاہیے ۔اپنے فرض ِمنصبی کو چھوڑنے سے ہم طرح طرح کے مصائب وآلام کا شکار ہو گئے ہیں۔ اللہ کے حکم ہماری آنکھوں کے سامنے ٹوٹ رہے ہیں منکرات کا سیلاب امڈا ہوا ہے ۔اُن کو بند کرنے کی کوئی سعی جدوجہد نہیں ہورہی ہے ۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر (یعنی نیکیوں کا حکم کرنا اور برائیوں سے منع کرنا) کو چھوڑنا خدا وحدہ لاشریک کی لعنت اور غضب کا باعث ہے۔ اورجب اُمّتِ محمدیہ اِس کام کو چھوڑدے گی تو سخت مصائب وآلام اور ذلت و خواری میں مبتلا کردی جائے گی اور ہر قسم کی غیبی نصرت و مدد سے محروم ہوجائے گی اور یہ سب کچھ اس لیے ہوگا کہ اس نے اپنے فرض ِمنصبی کو نہیں پہچانا اور جس کام کی انجام دہی کی ذمہ دار تھی اُس سے غافل رہی ۔ جیسا کہ حدیث شریف میںآتا ہے کہ ہمیشہ لاالہ الا اللّٰہ اپنے پڑھنے والے کو نفع دیتا ہے اور اُس سے عذاب وبلا کو دُور کرتا ہے جب تک کہ اس کے حقوق سے بے پروائی نہ برتی جائے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اِس کے حقوق سے بے پروائی کیا ہے ؟ حضور اقدس ۖ نے ارشاد فرمایا کہ حق تعالیٰ کی نافرمانی کھلے طورپر کی جائے پھر نہ اُن کا انکار کیا جائے اور نہ اُن کے بند کرنے کی کوشش کی جائے۔ (مسلمانوں کی پستی کا علاج) لہٰذا سب مسلمان اعمالِ صالحہ کے ساتھ ساتھ تمام گناہوں سے بھی بچنے کی کوشش کریں اور دوسروں کو بھی منکرات سے حکمت و بصیرت کے ساتھ منع کریںپھر تمام پریشانیاں دُور ہوجائیں گی۔ پوری دنیا میں اعلائے کلمة اللہ یعنی اللہ کے اوامر زندہ اور نواہی مٹ جائیں ۔ اس فریضے کی ادائیگی میں دشمنانِ اسلام کی طرف سے مزاحمت اور رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسے دشمنان کے خلاف اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مسلح جہاد کا حکم دیا ہے ۔جہاد کی حکمت یہی ہے کہ دین کو دنیا میںعام کیا جائے چاہے تمہیں اپنی جان دینی پڑے یا دشمن کی جان لینی پڑے ۔آج اُمت کے مصائب وآلام میں گرفتار ہونے کی بڑی وجہ ترکِ جہاد بھی ہے ۔لہٰذا مجاہدین جو دشمنانِ اسلام کے خلاف برسرِ پیکار ہیں اُن کی جتنی بھی جانی ومالی امداد ممکن ہو سکتی ہو دریغ نہ کیا جائے۔