Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004

¾اكستان Ù

52 - 65
خلاصی نہیں ہوسکتی ۔سو اِس سبب کی طرف کسی کو اِلتفات تک بھی نہیں ۔آپ ہی بتلائیے فیصدی کتنے ایسے لوگ ہیں جن کواِس کا احساس ہو اور وہ تدبیر کرتے ہوں۔ ہاں ظاہری تدبیریں کرتے ہیں لیکن اصلی تدبیر سے غفلت ہے اور بعضے کوئی تدبیر بھی نہیں کرتے ۔(راہِ نجات)
	اور وہ تدبیر کیا ہے؟ وہ تدبیر یہ ہے جو حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمائی۔ یاقوم استغفروا ربکم الخ ۔'' اے میری قوم اپنے گناہوں کی اپنے رب سے معافی مانگو''۔
(٢)  اپنا فرض منصبی پورا کرنا  : 
	تمام گناہوں سے توبہ واستغفار کے ذیل میں اپنے فرضِ منصبی میں کوتاہی کرنے پر بھی توبہ کرنی چاہیے ۔اپنے فرض ِمنصبی کو چھوڑنے سے ہم طرح طرح کے مصائب وآلام کا شکار ہو گئے ہیں۔ اللہ کے حکم ہماری آنکھوں کے سامنے ٹوٹ رہے ہیں منکرات کا سیلاب امڈا ہوا ہے ۔اُن کو بند کرنے کی کوئی سعی جدوجہد نہیں ہورہی ہے ۔
	امر بالمعروف ونہی عن المنکر (یعنی نیکیوں کا حکم کرنا اور برائیوں سے منع کرنا) کو چھوڑنا خدا وحدہ لاشریک کی لعنت اور غضب کا باعث ہے۔ اورجب اُمّتِ محمدیہ اِس کام کو چھوڑدے گی تو سخت مصائب وآلام اور ذلت و خواری میں مبتلا کردی جائے گی اور ہر قسم کی غیبی نصرت و مدد سے محروم ہوجائے گی اور یہ سب کچھ اس لیے ہوگا کہ اس نے اپنے فرض ِمنصبی کو نہیں پہچانا اور جس کام کی انجام دہی کی ذمہ دار تھی اُس سے غافل رہی ۔ جیسا کہ حدیث شریف میںآتا ہے کہ ہمیشہ لاالہ الا اللّٰہ  اپنے پڑھنے والے کو نفع دیتا ہے اور اُس سے عذاب وبلا کو دُور کرتا ہے جب تک کہ اس کے حقوق سے بے پروائی نہ برتی جائے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اِس کے حقوق سے بے پروائی کیا ہے ؟ حضور اقدس  ۖ  نے ارشاد فرمایا کہ حق تعالیٰ کی نافرمانی کھلے طورپر کی جائے پھر نہ اُن کا انکار کیا جائے اور نہ اُن کے بند کرنے کی کوشش کی جائے۔ (مسلمانوں کی پستی کا علاج) 
	لہٰذا سب مسلمان اعمالِ صالحہ کے ساتھ ساتھ تمام گناہوں سے بھی بچنے کی کوشش کریں اور دوسروں کو بھی منکرات سے حکمت و بصیرت کے ساتھ منع کریںپھر تمام پریشانیاں دُور ہوجائیں گی۔
	پوری دنیا میں اعلائے کلمة اللہ یعنی اللہ کے اوامر زندہ اور نواہی مٹ جائیں ۔ اس فریضے کی ادائیگی میں دشمنانِ اسلام کی طرف سے مزاحمت اور رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسے دشمنان کے خلاف اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مسلح جہاد کا حکم دیا ہے ۔جہاد کی حکمت یہی ہے کہ دین کو دنیا میںعام کیا جائے چاہے تمہیں اپنی جان دینی پڑے یا دشمن کی جان لینی پڑے ۔آج اُمت کے مصائب وآلام میں گرفتار ہونے کی بڑی وجہ ترکِ جہاد بھی ہے ۔لہٰذا مجاہدین جو دشمنانِ اسلام کے خلاف برسرِ پیکار ہیں اُن کی جتنی بھی جانی ومالی امداد ممکن ہو سکتی ہو دریغ نہ کیا جائے۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
64 اس شمارے میں 3 1
65 حرف آغاز 4 1
66 درسِ حدیث 10 1
67 حضرت ثا بت بن قیس کا تقوٰی اور نبی علیہ السلام کا اُن پر اعتماد 10 66
68 پہلے زمانہ میں اچھے خطیب کے لیے بلند آواز والا ہونا ضروری تھا : 10 66
69 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ : 11 66
70 اپنی تعداد پر گھمنڈ کا نقصان : 11 66
71 میدان جنگ میں اطمینان اور سکینہ کانزول : 11 66
72 رسولِ خدا پیچھے نہیں ہٹے : 12 66
73 بہادری کی انتہاء ،سواری سے اُتر گئے : 12 66
74 حضرت ثابت باکمال خطیب تھے : 12 66
75 جھوٹے نبی کا گھٹیا مقصد اور نبی علیہ السلام سے گفتگو : 13 66
76 مقاصدِ نبوت : 13 66
77 مثال سے وضاحت : 13 66
78 اُسی وقت آپ نے اُسے قتل کیوں نہ کیا : 14 66
79 حضرت ثابت بن قیس پر اعتماد : 14 66
80 حضرت ثابت بن قیس کا تقوٰی اور احتیاط : 15 66
81 علماء اور ائمہ مساجد کو بھی اِس سنت پر عمل کرنا چاہیے : 15 66
82 حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی نوید : 15 66
83 دلائل نبوت ۖ 16 1
84 (١) قرآن مقدس، سراپا معجزہ : 16 83
85 (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : 17 83
86 .3پتھر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا 18 83
87 4۔کنکریوں کا تسبیح پڑھنا 18 83
88 (٥) درختوں کا پیغمبر علیہ السلام کی صداقت کی گواہی دینا : 19 83
89 (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : 21 83
90 (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : 21 83
91 (٨) اُنگلیوں سے پانی نکلنا : 23 83
92 (٩) برکتیں ہی برکتیں : 24 83
93 (١٠) عصا اور کوڑے کا رات میں روشن ہونا : 25 83
94 مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 27 1
95 ملا محمود : (وفات١٣٠٤ھ/١٨٨٦ء ) 28 94
96 قیام دارالعلوم کا ذکر بزبان مولانا ذوالفقار علی : 28 94
97 ذکر بناء جامع مسجد دیوبند : 32 94
98 مسعودیوں کے علماء دیوبند پر اعتراضات 37 1
99 (١) عرش و کعبہ و کرسی کی توہین : 37 98
100 سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک 40 1
101 سیرة نبوی اور مستشرقین 41 1
102 جہاد پرمستشرقین کا اعتراض : 41 101
103 مقصد ِجہاد دین پرجبر نہیں رفع فساد ہے : 42 101
104 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 48 1
105 مصائب وآلام سے بچنے کے شرعی نسخے 49 1
106 (١) گناہوں سے بچنا اور کثرت سے استغفا ر پڑھنا : 49 105
107 (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : 52 105
108 (٣) دُعاء کا اہتمام کرنا : 53 105
109 (٤) صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا : 54 105
110 (٥) مسنون اور اد و وظائف کا پڑھنا : 55 105
111 تکالیف سے فوری نجات کا راستہ : 56 105
112 ہر مصیبت و تکلیف کا علاج : 56 105
113 آفات ومشکلات سے حفاظت کا نسخہ : 56 105
114 تمام بلائوں سے حفاظت : 56 105
115 سحر اور نظربد سے حفاظت : 57 105
116 انتقال پر ملال 57 1
117 ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے 58 1
118 دینی مسائل 60 1
119 ( نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) 60 118
120 ١۔ نماز میں بولنا یا بِلا ضرورت آواز نکالنا : 60 118
121 ٢۔ ایسا عمل کرنا جو کثیر ہو اور نماز کی جنس سے نہ ہو : 61 118
122 (٣) نماز کے اندر کھانا پینا : 62 118
123 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter