Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004

¾اكستان Ù

40 - 65
مرسلہ  :  منظر عباس کشمیری 	  متعلم جامعہ مدنیہ لاہور 
سرکارِ دوعالم  ۖ  کا حلیہ مبارک 
	ہماری رُوحوں کے بادشاہ کا قد مبارک دیکھنے میں درمیانہ نہایت مناسب مگر یہ معجزہ تھا جب چند آدمیوں کے ساتھ چلتے تو سب سے اُونچے معلوم ہوتے تھے۔ سر مبارک کلاں و بزرگ ۔ سرداری کا تاج ۔عقل و تدبر کا پیکر ۔بدن مبارک گھٹا ہوا ۔ خوبصورت سجاوٹ کے ساتھ بھرا ہو۔ خوبصورتی گھپی ہوئی جتنا کوئی غور کرتا خوبصورتی زیادہ معلوم ہوتی۔ بدن مبارک پر بال بہت کم چمک زیادہ۔ سر مبارک کے بال سیاہ چمک دار کسی قدر گھنگھریالے ۔بالوں میں تیل یا مشک جیسی چیزوں کا بھی استعمال فرماتے تھے ۔کچھ عمر رسیدگی کچھ خوشبو وغیرہ کے استعمال سے بالوں میں کسی قدر ہموار پن سا آگیا تھا۔ ریش مبارک گھنی اور خوبصورتی کے ساتھ بھرپور ریش اور سر مبارک میںگنتی کے کچھ بال سفید بھی ہو گئے تھے۔ بعضوں نے تعداد بھی بتائی ہے کہ ریش مبارک اور سر میں ٢٠ بال سفید تھے۔مقدس پیشانی کشادہ اور روش گویا آفتاب کا کنارہ بلکہ حسن و جمال کا سجدہ گاہ ۔بھوئیں گنجان دراز اور باریک ان کی نازک خمیدگی قوسِ قزح کے لیے باعث صدر رشک جن کے بیچ میں کشادگی یعنی اقبال اور برکتوں کی کھلی دلیل ان دونوں کے بیچ میں ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت اُبھر جاتی اورپھڑکتی تھی ۔مبارک آنکھیں بڑی بڑی تھیں موتی چور جن کے سرخ ڈورے جمال کے ساتھ جلال کی شان بھی دوبالا کرتے تھے ۔ پتلی سیاہ بھرہ گویا نورکے آبگینے پر سیاہ مخمل کی بندکی یا موتی کی آبدار سطح پر رُخ حور کا کالا تِل۔ پلکیں گنجان اور سیاہ اور تلوار جیسے خم کے ساتھ دراز۔رنگ سفید سرخی گھپی ہوئی جس میں رونق اور چمک حسن کو دوبالا کردینے والی ۔مبارک رخسارے نرم سرخی مائل گویا چاند پر گلاب کی سرخی ہموار اور ہلکے نہ گوشت لٹکے ہوئے ۔مقدس ناک بلندی مائل مگر زیادہ اُونچی نہ تھی کہ بدنما معلوم ہوتی اس پر چمک اور نور کی عجیب بلندی تھی کہ پہلے پہل دیکھنے والا اُونچی سمجھتا مگر غور سے معلوم ہوتا کہ نور اور چمک کے باعث بلند معلوم ہوتی ہے۔ بانسا خوب صورتی کے ساتھ اُوپراُ ٹھا ہوا ۔دہن مبارک مناسب طورپر کشادہ ،پاکیزگی اورفصاحت کا دیباچہ۔ دندان مبارک باریک آبدار اور روشن چمکدار، سامنے کے دانت ایک دوسرے سے کسی قدر چھیدے۔ مسکراہٹ کے وقت ایسا معلوم ہوتا کہ اولوں کی لڑی سے نازک نقاب ہٹ گیا گفتگو کے وقت معلوم ہوتا کہ تاروں کی کرنیں دندان مبارک سے پھوٹ پھوٹ کر شوخیاں کر رہی ہیں۔ 
( اقتباس ازتاریخ اسلام مؤلفہ حضر مولانا محمد میاں صاحب ر حمة اللہ علیہ )
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
64 اس شمارے میں 3 1
65 حرف آغاز 4 1
66 درسِ حدیث 10 1
67 حضرت ثا بت بن قیس کا تقوٰی اور نبی علیہ السلام کا اُن پر اعتماد 10 66
68 پہلے زمانہ میں اچھے خطیب کے لیے بلند آواز والا ہونا ضروری تھا : 10 66
69 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ : 11 66
70 اپنی تعداد پر گھمنڈ کا نقصان : 11 66
71 میدان جنگ میں اطمینان اور سکینہ کانزول : 11 66
72 رسولِ خدا پیچھے نہیں ہٹے : 12 66
73 بہادری کی انتہاء ،سواری سے اُتر گئے : 12 66
74 حضرت ثابت باکمال خطیب تھے : 12 66
75 جھوٹے نبی کا گھٹیا مقصد اور نبی علیہ السلام سے گفتگو : 13 66
76 مقاصدِ نبوت : 13 66
77 مثال سے وضاحت : 13 66
78 اُسی وقت آپ نے اُسے قتل کیوں نہ کیا : 14 66
79 حضرت ثابت بن قیس پر اعتماد : 14 66
80 حضرت ثابت بن قیس کا تقوٰی اور احتیاط : 15 66
81 علماء اور ائمہ مساجد کو بھی اِس سنت پر عمل کرنا چاہیے : 15 66
82 حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی نوید : 15 66
83 دلائل نبوت ۖ 16 1
84 (١) قرآن مقدس، سراپا معجزہ : 16 83
85 (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : 17 83
86 .3پتھر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا 18 83
87 4۔کنکریوں کا تسبیح پڑھنا 18 83
88 (٥) درختوں کا پیغمبر علیہ السلام کی صداقت کی گواہی دینا : 19 83
89 (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : 21 83
90 (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : 21 83
91 (٨) اُنگلیوں سے پانی نکلنا : 23 83
92 (٩) برکتیں ہی برکتیں : 24 83
93 (١٠) عصا اور کوڑے کا رات میں روشن ہونا : 25 83
94 مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 27 1
95 ملا محمود : (وفات١٣٠٤ھ/١٨٨٦ء ) 28 94
96 قیام دارالعلوم کا ذکر بزبان مولانا ذوالفقار علی : 28 94
97 ذکر بناء جامع مسجد دیوبند : 32 94
98 مسعودیوں کے علماء دیوبند پر اعتراضات 37 1
99 (١) عرش و کعبہ و کرسی کی توہین : 37 98
100 سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک 40 1
101 سیرة نبوی اور مستشرقین 41 1
102 جہاد پرمستشرقین کا اعتراض : 41 101
103 مقصد ِجہاد دین پرجبر نہیں رفع فساد ہے : 42 101
104 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 48 1
105 مصائب وآلام سے بچنے کے شرعی نسخے 49 1
106 (١) گناہوں سے بچنا اور کثرت سے استغفا ر پڑھنا : 49 105
107 (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : 52 105
108 (٣) دُعاء کا اہتمام کرنا : 53 105
109 (٤) صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا : 54 105
110 (٥) مسنون اور اد و وظائف کا پڑھنا : 55 105
111 تکالیف سے فوری نجات کا راستہ : 56 105
112 ہر مصیبت و تکلیف کا علاج : 56 105
113 آفات ومشکلات سے حفاظت کا نسخہ : 56 105
114 تمام بلائوں سے حفاظت : 56 105
115 سحر اور نظربد سے حفاظت : 57 105
116 انتقال پر ملال 57 1
117 ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے 58 1
118 دینی مسائل 60 1
119 ( نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) 60 118
120 ١۔ نماز میں بولنا یا بِلا ضرورت آواز نکالنا : 60 118
121 ٢۔ ایسا عمل کرنا جو کثیر ہو اور نماز کی جنس سے نہ ہو : 61 118
122 (٣) نماز کے اندر کھانا پینا : 62 118
123 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter