ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
¾اكستان Ù |
|
مرسلہ : منظر عباس کشمیری متعلم جامعہ مدنیہ لاہور سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک ہماری رُوحوں کے بادشاہ کا قد مبارک دیکھنے میں درمیانہ نہایت مناسب مگر یہ معجزہ تھا جب چند آدمیوں کے ساتھ چلتے تو سب سے اُونچے معلوم ہوتے تھے۔ سر مبارک کلاں و بزرگ ۔ سرداری کا تاج ۔عقل و تدبر کا پیکر ۔بدن مبارک گھٹا ہوا ۔ خوبصورت سجاوٹ کے ساتھ بھرا ہو۔ خوبصورتی گھپی ہوئی جتنا کوئی غور کرتا خوبصورتی زیادہ معلوم ہوتی۔ بدن مبارک پر بال بہت کم چمک زیادہ۔ سر مبارک کے بال سیاہ چمک دار کسی قدر گھنگھریالے ۔بالوں میں تیل یا مشک جیسی چیزوں کا بھی استعمال فرماتے تھے ۔کچھ عمر رسیدگی کچھ خوشبو وغیرہ کے استعمال سے بالوں میں کسی قدر ہموار پن سا آگیا تھا۔ ریش مبارک گھنی اور خوبصورتی کے ساتھ بھرپور ریش اور سر مبارک میںگنتی کے کچھ بال سفید بھی ہو گئے تھے۔ بعضوں نے تعداد بھی بتائی ہے کہ ریش مبارک اور سر میں ٢٠ بال سفید تھے۔مقدس پیشانی کشادہ اور روش گویا آفتاب کا کنارہ بلکہ حسن و جمال کا سجدہ گاہ ۔بھوئیں گنجان دراز اور باریک ان کی نازک خمیدگی قوسِ قزح کے لیے باعث صدر رشک جن کے بیچ میں کشادگی یعنی اقبال اور برکتوں کی کھلی دلیل ان دونوں کے بیچ میں ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت اُبھر جاتی اورپھڑکتی تھی ۔مبارک آنکھیں بڑی بڑی تھیں موتی چور جن کے سرخ ڈورے جمال کے ساتھ جلال کی شان بھی دوبالا کرتے تھے ۔ پتلی سیاہ بھرہ گویا نورکے آبگینے پر سیاہ مخمل کی بندکی یا موتی کی آبدار سطح پر رُخ حور کا کالا تِل۔ پلکیں گنجان اور سیاہ اور تلوار جیسے خم کے ساتھ دراز۔رنگ سفید سرخی گھپی ہوئی جس میں رونق اور چمک حسن کو دوبالا کردینے والی ۔مبارک رخسارے نرم سرخی مائل گویا چاند پر گلاب کی سرخی ہموار اور ہلکے نہ گوشت لٹکے ہوئے ۔مقدس ناک بلندی مائل مگر زیادہ اُونچی نہ تھی کہ بدنما معلوم ہوتی اس پر چمک اور نور کی عجیب بلندی تھی کہ پہلے پہل دیکھنے والا اُونچی سمجھتا مگر غور سے معلوم ہوتا کہ نور اور چمک کے باعث بلند معلوم ہوتی ہے۔ بانسا خوب صورتی کے ساتھ اُوپراُ ٹھا ہوا ۔دہن مبارک مناسب طورپر کشادہ ،پاکیزگی اورفصاحت کا دیباچہ۔ دندان مبارک باریک آبدار اور روشن چمکدار، سامنے کے دانت ایک دوسرے سے کسی قدر چھیدے۔ مسکراہٹ کے وقت ایسا معلوم ہوتا کہ اولوں کی لڑی سے نازک نقاب ہٹ گیا گفتگو کے وقت معلوم ہوتا کہ تاروں کی کرنیں دندان مبارک سے پھوٹ پھوٹ کر شوخیاں کر رہی ہیں۔ ( اقتباس ازتاریخ اسلام مؤلفہ حضر مولانا محمد میاں صاحب ر حمة اللہ علیہ )