Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004

اكستان

24 - 65
	اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ ایک دوسرے واقعہ میں معمولی سا پانی آپ کی برکت سے اسّی لوگوں کے لیے کافی ہوگیا ۔اور ایک دوسرے واقعہ میں تین سولوگوں کے لیے کافی ہوگیا ۔ (مسلم شریف ٢/٢٤٥،٢٤٦)
(٩)  برکتیں ہی برکتیں  : 
	نبی اکرم علیہ الصلٰوة والسلام کی ذات سراپا برکت تھی ۔ آپ کے ذریعہ سے حسی اور معنوی ایسی برکتوں کا ظہور ہوا جسے دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی مثلاً  :
	٭جب پیدائش کے بعد آپ  ۖ  کو دُودھ پلانے کے لیے حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد کیا گیا تو حضرت حلیمہ  نے کھلی آنکھوں برکتیں محسوس کیں، اُن کے پستان دُودھ سے بھر گئے، اُن کی لاغر اورمریل اُونٹنی کے تھن دودھ سے پھول گئے اور یہ اُونٹنی جو آتے وقت سب سے پیچھے تھی پیغمبر  ۖ کے سوار ہونے کی برکت سے سب سے آگے دوڑنے لگی۔ اورحلیمہ کا قبیلہ بنو سعد جواُس وقت قحط زدہ تھا حضرت پیغمبر علیہ السلام کی برکت سے حلیمہ کا گھرانہ اور اُس گھر کی بکریاں حیرت انگیز طورپر قحط سے محفوظ ہوگئیں (سیرت ابن ہشام مع الروض الانف ١/٢٨٨ )۔ 
	٭غزوۂ خندق کے موقع پر جب پیغمبر علیہ السلام نے بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر جا کر صورتِ حال بیان کی تو گھر میں کچھ روٹی کے ٹکڑے اور چند کھجوریں تھیں جو صرف پیغمبر علیہ السلام کے لیے کافی ہو سکتی تھیں لیکن نبی اکرم علیہ الصلٰوة والسلام تشریف لائے اور آپ کی برکت سے اس تھوڑے سے کھانے میں اتنی وسعت ہوئی کہ کم وبیش اسّی حضرات نے پیٹ بھر کے کھالیا۔ (الخصائص الکبرٰی ٢/٧٦) 
	٭ایک صحابیہ اُمِ اوس بہزیہ  سے روایت ہے کہ انھوں نے پیغمبر علیہ الصلٰوة والسلام کے لیے گھی تیار کیا اور اُسے ایک مشکیزہ میں کرکے آپ کی خدمت میں ہدیہ میں پیش کیا۔ آپ  ۖ نے اِس کوقبول فرمالیا اوراس میں کچھ باقی چھوڑ کر اُس پر دم کیا اور برکت کی دعا کی پھر فرمایا کہ یہ مشکیزہ انھیں لوٹا دو چنانچہ جب لوگوں نے وہ مشکیزہ لوٹایا تو وہ گھی سے پوری طرح بھرا ہوا تھا ،وہ صحابیہ سمجھیں کہ غالباً آپ نے قبول نہیں فرمایا ہے اور پیغمبر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ حضرت میںنے تو آپ کے نوش فرمانے کے لیے خود یہ گھی نکالا تھا آپ اِس گھی کو دیکھ کر یہ سمجھ گئے کہ آپ کی دعائے برکت قبول ہوگئی ہے اور فرمایا کہ اِس مشکیزہ کو واپس لے جائو اور اِس گھی کو برابر استعمال کرتی رہو چنانچہ وہ صحابیہ مسلسل دورِ نبوت ، دورِ صدیقی ، دورِفاروقی اور دورِ عثمانی میں اسی مشکیزہ سے گھی لے کر استعمال کرتی رہیں۔ اس میں گھی ختم نہیں ہوا ۔(الخصائص الکبرٰی ٢/٨٩،٩٠ )
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
64 اس شمارے میں 3 1
65 حرف آغاز 4 1
66 درسِ حدیث 10 1
67 حضرت ثا بت بن قیس کا تقوٰی اور نبی علیہ السلام کا اُن پر اعتماد 10 66
68 پہلے زمانہ میں اچھے خطیب کے لیے بلند آواز والا ہونا ضروری تھا : 10 66
69 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ : 11 66
70 اپنی تعداد پر گھمنڈ کا نقصان : 11 66
71 میدان جنگ میں اطمینان اور سکینہ کانزول : 11 66
72 رسولِ خدا پیچھے نہیں ہٹے : 12 66
73 بہادری کی انتہاء ،سواری سے اُتر گئے : 12 66
74 حضرت ثابت باکمال خطیب تھے : 12 66
75 جھوٹے نبی کا گھٹیا مقصد اور نبی علیہ السلام سے گفتگو : 13 66
76 مقاصدِ نبوت : 13 66
77 مثال سے وضاحت : 13 66
78 اُسی وقت آپ نے اُسے قتل کیوں نہ کیا : 14 66
79 حضرت ثابت بن قیس پر اعتماد : 14 66
80 حضرت ثابت بن قیس کا تقوٰی اور احتیاط : 15 66
81 علماء اور ائمہ مساجد کو بھی اِس سنت پر عمل کرنا چاہیے : 15 66
82 حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی نوید : 15 66
83 دلائل نبوت ۖ 16 1
84 (١) قرآن مقدس، سراپا معجزہ : 16 83
85 (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : 17 83
86 .3پتھر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا 18 83
87 4۔کنکریوں کا تسبیح پڑھنا 18 83
88 (٥) درختوں کا پیغمبر علیہ السلام کی صداقت کی گواہی دینا : 19 83
89 (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : 21 83
90 (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : 21 83
91 (٨) اُنگلیوں سے پانی نکلنا : 23 83
92 (٩) برکتیں ہی برکتیں : 24 83
93 (١٠) عصا اور کوڑے کا رات میں روشن ہونا : 25 83
94 مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 27 1
95 ملا محمود : (وفات١٣٠٤ھ/١٨٨٦ء ) 28 94
96 قیام دارالعلوم کا ذکر بزبان مولانا ذوالفقار علی : 28 94
97 ذکر بناء جامع مسجد دیوبند : 32 94
98 مسعودیوں کے علماء دیوبند پر اعتراضات 37 1
99 (١) عرش و کعبہ و کرسی کی توہین : 37 98
100 سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک 40 1
101 سیرة نبوی اور مستشرقین 41 1
102 جہاد پرمستشرقین کا اعتراض : 41 101
103 مقصد ِجہاد دین پرجبر نہیں رفع فساد ہے : 42 101
104 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 48 1
105 مصائب وآلام سے بچنے کے شرعی نسخے 49 1
106 (١) گناہوں سے بچنا اور کثرت سے استغفا ر پڑھنا : 49 105
107 (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : 52 105
108 (٣) دُعاء کا اہتمام کرنا : 53 105
109 (٤) صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا : 54 105
110 (٥) مسنون اور اد و وظائف کا پڑھنا : 55 105
111 تکالیف سے فوری نجات کا راستہ : 56 105
112 ہر مصیبت و تکلیف کا علاج : 56 105
113 آفات ومشکلات سے حفاظت کا نسخہ : 56 105
114 تمام بلائوں سے حفاظت : 56 105
115 سحر اور نظربد سے حفاظت : 57 105
116 انتقال پر ملال 57 1
117 ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے 58 1
118 دینی مسائل 60 1
119 ( نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) 60 118
120 ١۔ نماز میں بولنا یا بِلا ضرورت آواز نکالنا : 60 118
121 ٢۔ ایسا عمل کرنا جو کثیر ہو اور نماز کی جنس سے نہ ہو : 61 118
122 (٣) نماز کے اندر کھانا پینا : 62 118
123 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter