ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
اكستان |
|
اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ ایک دوسرے واقعہ میں معمولی سا پانی آپ کی برکت سے اسّی لوگوں کے لیے کافی ہوگیا ۔اور ایک دوسرے واقعہ میں تین سولوگوں کے لیے کافی ہوگیا ۔ (مسلم شریف ٢/٢٤٥،٢٤٦) (٩) برکتیں ہی برکتیں : نبی اکرم علیہ الصلٰوة والسلام کی ذات سراپا برکت تھی ۔ آپ کے ذریعہ سے حسی اور معنوی ایسی برکتوں کا ظہور ہوا جسے دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی مثلاً : ٭جب پیدائش کے بعد آپ ۖ کو دُودھ پلانے کے لیے حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد کیا گیا تو حضرت حلیمہ نے کھلی آنکھوں برکتیں محسوس کیں، اُن کے پستان دُودھ سے بھر گئے، اُن کی لاغر اورمریل اُونٹنی کے تھن دودھ سے پھول گئے اور یہ اُونٹنی جو آتے وقت سب سے پیچھے تھی پیغمبر ۖ کے سوار ہونے کی برکت سے سب سے آگے دوڑنے لگی۔ اورحلیمہ کا قبیلہ بنو سعد جواُس وقت قحط زدہ تھا حضرت پیغمبر علیہ السلام کی برکت سے حلیمہ کا گھرانہ اور اُس گھر کی بکریاں حیرت انگیز طورپر قحط سے محفوظ ہوگئیں (سیرت ابن ہشام مع الروض الانف ١/٢٨٨ )۔ ٭غزوۂ خندق کے موقع پر جب پیغمبر علیہ السلام نے بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر جا کر صورتِ حال بیان کی تو گھر میں کچھ روٹی کے ٹکڑے اور چند کھجوریں تھیں جو صرف پیغمبر علیہ السلام کے لیے کافی ہو سکتی تھیں لیکن نبی اکرم علیہ الصلٰوة والسلام تشریف لائے اور آپ کی برکت سے اس تھوڑے سے کھانے میں اتنی وسعت ہوئی کہ کم وبیش اسّی حضرات نے پیٹ بھر کے کھالیا۔ (الخصائص الکبرٰی ٢/٧٦) ٭ایک صحابیہ اُمِ اوس بہزیہ سے روایت ہے کہ انھوں نے پیغمبر علیہ الصلٰوة والسلام کے لیے گھی تیار کیا اور اُسے ایک مشکیزہ میں کرکے آپ کی خدمت میں ہدیہ میں پیش کیا۔ آپ ۖ نے اِس کوقبول فرمالیا اوراس میں کچھ باقی چھوڑ کر اُس پر دم کیا اور برکت کی دعا کی پھر فرمایا کہ یہ مشکیزہ انھیں لوٹا دو چنانچہ جب لوگوں نے وہ مشکیزہ لوٹایا تو وہ گھی سے پوری طرح بھرا ہوا تھا ،وہ صحابیہ سمجھیں کہ غالباً آپ نے قبول نہیں فرمایا ہے اور پیغمبر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ حضرت میںنے تو آپ کے نوش فرمانے کے لیے خود یہ گھی نکالا تھا آپ اِس گھی کو دیکھ کر یہ سمجھ گئے کہ آپ کی دعائے برکت قبول ہوگئی ہے اور فرمایا کہ اِس مشکیزہ کو واپس لے جائو اور اِس گھی کو برابر استعمال کرتی رہو چنانچہ وہ صحابیہ مسلسل دورِ نبوت ، دورِ صدیقی ، دورِفاروقی اور دورِ عثمانی میں اسی مشکیزہ سے گھی لے کر استعمال کرتی رہیں۔ اس میں گھی ختم نہیں ہوا ۔(الخصائص الکبرٰی ٢/٨٩،٩٠ )