ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
¾اكستان Ù |
|
حنین اس کی روشن مثالیں ہیں۔کبھی اہلِ باطل حق کی تباہی کے لیے تیاری کرتے ہیں تو اہل حق کو قبل از وقت مدافعت کرنی پڑتی ہے چنانچہ غزوہ موتہ وتبوک میں ایسا ہوا ۔اور کبھی راہ حق کی اشاعت کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنے والی طاقتوں کو راہ سے ہٹا دیا جاتا ہے تاکہ حق کو آزادی نصیب ہو ایسی صورت میں ابتدائی سرکوبی زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ عہد نبوت کے سرایا میں اکثر ایسا بھی ہواہے ۔ اس کو آپ ابتدائی اقدام سے موسوم کرسکتے ہیںلیکن مقصد وہی ہے جو عرض کیا گیا۔ سورة انفال کے آخر میں ہے والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض الا تفعلوہ تکن فتنة فی الارض وفساد کبیر۔ (ترجمہ) ''سب کفار قومیں اللہ کے قانون عدل کے خلاف متحدہ محاذ کی صورت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ،اگر تم حق وعدل الٰہی کے لیے جہاد نہ کروگے تو ساری زمین ِالٰہی حقوق کی بربادی یعنی فتنہ کی صورت میں پُر ہو جائے گی اور عقیدہ و عمل کی شخصی آزادی ختم ہو جائے گی ،انسانی حقوق ظلم کے ہاتھوں پامال ہوں گے اور بڑا فساد برپا ہوگا''۔یہ فرق ہے دنیوی جنگوں میں اور جہاد میں ،دنیوی جنگ'' تخریبی عمل'' ہے جیسے ڈاکو کسی کا ہاتھ کاٹ دیتا ہے اورجہاد'' اصلاحی عمل'' ہے جیسے سرجن زہریلے پھوڑے کی وجہ سے مریض کا ہاتھ کاٹتا ہے کہ باقی بدن محفوظ ہوجائے ۔افسوس کہ مستشرقین نے مسیحی اقوام کے تبا ہ کن آلات جنگ اور ایٹمی آلات سے گزشتہ دوعظیم جنگوں میں اور موجودہ وقت میں ویٹ نام میں جو بم برسائے اور انسان ،حیوانات ،نباتات اور عمارات تک کو تباہ کردیا اوروہ بھی صرف شیطانی مقصد کے لیے کہ قومی مفادات یا برتری ثابت ہو، اس پر اعتراض سے خاموش ہیں ۔ اگر اعتراض ہے تو اسلام کے اصلاحی معمولی عمل پر جس میں انسانیت کا عظیم تر مقصود پنہاں ہے ۔اگر اسلام میں دینی جبریت ہوتی تو ہزار سال یا اس سے زیادہ عرصہ تک عراق ،مصر، شام اور ہندوستان میں اسلام نے حکومت کی ،لیکن چاروں ملکوں میں بدستور عیسائی ، یہودی اور ہندو موجود رہے اور بڑے عہدوں پر فائز رہے اور ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا کہ کوئی مسلمان تلوار لے کر اُٹھا ہو اور اس نے کسی یہودی عیسائی یا ہندو سے کہا ہو کہ'' اسلام یا تلوار'' ۔ برخلاف عیسائیوں کے کہ سپین اور سسلی میں مسلمانوں کی آٹھ سو سال حکومت رہی لیکن جب مسیحی اقتدار آیا توانہوں نے مسلمانوں کا نام ونشان بلکہ قبروں تک کو مٹادیا۔ یہی حال موجودہ ہندوئوں کا ہے کہ انہوںنے چند برسوں میں بیس لاکھ مسلمان قتل کیے، ایک کروڑ کو جلاوطن کیا اور ہر روز اُن کے فنا کرنے میں مصروف ہیں لیکن پاکستان ،افغانستان اور ایران میں کسی ہندو یاسکھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی ۔ یہ اس دورِانحطاط میں اسلامی تعلیم کا اثر ہے جو مشاہدہ کیا جارہا ہے کہ دین کی وجہ سے کسی پر جبر نہیں کیا جاتا نہ کسی کی حق تلفی کی جاتی ہے۔ اب ہم بائیبل سے جبر وا کراہ اور مذہبی جنگوں کے متعلق مختصر حوالجات پیش کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ جہاد اسلام سے مختص نہیں بلکہ بائیبل کا جہاد اسلام کے جہادسے سخت ہے۔ (١) توارت کتاب استثناء باب٢٠ میں حضرت موسیٰ کو خطاب ہے کہ'' جب تم کسی شہر میں داخل ہو یا اس کے