Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004

¾اكستان Ù

46 - 65
حنین اس کی روشن مثالیں ہیں۔کبھی اہلِ باطل حق کی تباہی کے لیے تیاری کرتے ہیں تو اہل حق کو قبل از وقت مدافعت کرنی پڑتی ہے چنانچہ غزوہ موتہ وتبوک میں ایسا ہوا ۔اور کبھی راہ حق کی اشاعت کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنے والی طاقتوں کو راہ سے ہٹا دیا جاتا ہے تاکہ حق کو آزادی نصیب ہو ایسی صورت میں ابتدائی سرکوبی زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ عہد نبوت کے سرایا میں اکثر ایسا بھی ہواہے ۔ اس کو آپ ابتدائی اقدام سے موسوم کرسکتے ہیںلیکن مقصد وہی ہے جو عرض کیا گیا۔ سورة انفال کے آخر میں ہے والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض الا تفعلوہ تکن فتنة فی الارض وفساد کبیر۔ (ترجمہ) ''سب کفار قومیں اللہ کے قانون عدل کے خلاف متحدہ محاذ کی صورت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ،اگر تم حق وعدل الٰہی کے لیے جہاد نہ کروگے تو ساری زمین ِالٰہی حقوق کی بربادی یعنی فتنہ کی صورت میں پُر ہو جائے گی اور عقیدہ و عمل کی شخصی آزادی ختم ہو جائے گی ،انسانی حقوق ظلم کے ہاتھوں پامال ہوں گے اور بڑا فساد برپا ہوگا''۔یہ فرق ہے دنیوی جنگوں میں اور جہاد میں ،دنیوی جنگ'' تخریبی عمل'' ہے جیسے ڈاکو کسی کا ہاتھ کاٹ دیتا ہے اورجہاد'' اصلاحی عمل'' ہے جیسے سرجن زہریلے پھوڑے کی وجہ سے مریض کا ہاتھ کاٹتا ہے کہ باقی بدن محفوظ ہوجائے ۔افسوس کہ مستشرقین نے مسیحی اقوام کے تبا ہ کن آلات جنگ اور ایٹمی آلات سے گزشتہ دوعظیم جنگوں میں اور موجودہ وقت میں ویٹ نام میں جو بم برسائے اور انسان ،حیوانات ،نباتات اور عمارات تک کو تباہ کردیا اوروہ بھی صرف شیطانی مقصد کے لیے کہ قومی مفادات یا برتری ثابت ہو، اس پر اعتراض سے خاموش ہیں ۔ اگر اعتراض ہے تو اسلام کے اصلاحی معمولی عمل پر جس میں انسانیت کا عظیم تر مقصود پنہاں ہے ۔اگر اسلام میں دینی جبریت ہوتی تو ہزار سال یا اس سے زیادہ عرصہ تک عراق ،مصر، شام اور ہندوستان میں اسلام نے حکومت کی ،لیکن چاروں ملکوں میں بدستور عیسائی ، یہودی اور ہندو موجود رہے اور بڑے عہدوں پر فائز رہے اور ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا کہ کوئی مسلمان تلوار لے کر اُٹھا ہو اور اس نے کسی یہودی عیسائی یا ہندو سے کہا ہو کہ'' اسلام یا تلوار'' ۔ برخلاف عیسائیوں کے کہ سپین اور سسلی میں مسلمانوں کی آٹھ سو سال حکومت رہی لیکن جب مسیحی اقتدار آیا توانہوں نے مسلمانوں کا نام ونشان بلکہ قبروں تک کو مٹادیا۔ یہی حال موجودہ ہندوئوں کا ہے کہ انہوںنے چند برسوں میں بیس لاکھ مسلمان قتل کیے، ایک کروڑ کو جلاوطن کیا اور ہر روز اُن کے فنا کرنے میں مصروف ہیں لیکن پاکستان ،افغانستان اور ایران میں کسی ہندو یاسکھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی ۔ یہ اس دورِانحطاط میں اسلامی تعلیم کا اثر ہے جو مشاہدہ کیا جارہا ہے کہ دین کی وجہ سے کسی پر جبر نہیں کیا جاتا نہ کسی کی حق تلفی کی جاتی ہے۔
	اب ہم بائیبل سے جبر وا کراہ اور مذہبی جنگوں کے متعلق مختصر حوالجات پیش کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ جہاد اسلام سے مختص نہیں بلکہ بائیبل کا جہاد اسلام کے جہادسے سخت ہے۔
	(١)  توارت کتاب استثناء باب٢٠ میں حضرت موسیٰ   کو خطاب ہے کہ'' جب تم کسی شہر میں داخل ہو یا اس کے
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
64 اس شمارے میں 3 1
65 حرف آغاز 4 1
66 درسِ حدیث 10 1
67 حضرت ثا بت بن قیس کا تقوٰی اور نبی علیہ السلام کا اُن پر اعتماد 10 66
68 پہلے زمانہ میں اچھے خطیب کے لیے بلند آواز والا ہونا ضروری تھا : 10 66
69 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ : 11 66
70 اپنی تعداد پر گھمنڈ کا نقصان : 11 66
71 میدان جنگ میں اطمینان اور سکینہ کانزول : 11 66
72 رسولِ خدا پیچھے نہیں ہٹے : 12 66
73 بہادری کی انتہاء ،سواری سے اُتر گئے : 12 66
74 حضرت ثابت باکمال خطیب تھے : 12 66
75 جھوٹے نبی کا گھٹیا مقصد اور نبی علیہ السلام سے گفتگو : 13 66
76 مقاصدِ نبوت : 13 66
77 مثال سے وضاحت : 13 66
78 اُسی وقت آپ نے اُسے قتل کیوں نہ کیا : 14 66
79 حضرت ثابت بن قیس پر اعتماد : 14 66
80 حضرت ثابت بن قیس کا تقوٰی اور احتیاط : 15 66
81 علماء اور ائمہ مساجد کو بھی اِس سنت پر عمل کرنا چاہیے : 15 66
82 حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی نوید : 15 66
83 دلائل نبوت ۖ 16 1
84 (١) قرآن مقدس، سراپا معجزہ : 16 83
85 (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : 17 83
86 .3پتھر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا 18 83
87 4۔کنکریوں کا تسبیح پڑھنا 18 83
88 (٥) درختوں کا پیغمبر علیہ السلام کی صداقت کی گواہی دینا : 19 83
89 (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : 21 83
90 (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : 21 83
91 (٨) اُنگلیوں سے پانی نکلنا : 23 83
92 (٩) برکتیں ہی برکتیں : 24 83
93 (١٠) عصا اور کوڑے کا رات میں روشن ہونا : 25 83
94 مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 27 1
95 ملا محمود : (وفات١٣٠٤ھ/١٨٨٦ء ) 28 94
96 قیام دارالعلوم کا ذکر بزبان مولانا ذوالفقار علی : 28 94
97 ذکر بناء جامع مسجد دیوبند : 32 94
98 مسعودیوں کے علماء دیوبند پر اعتراضات 37 1
99 (١) عرش و کعبہ و کرسی کی توہین : 37 98
100 سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک 40 1
101 سیرة نبوی اور مستشرقین 41 1
102 جہاد پرمستشرقین کا اعتراض : 41 101
103 مقصد ِجہاد دین پرجبر نہیں رفع فساد ہے : 42 101
104 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 48 1
105 مصائب وآلام سے بچنے کے شرعی نسخے 49 1
106 (١) گناہوں سے بچنا اور کثرت سے استغفا ر پڑھنا : 49 105
107 (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : 52 105
108 (٣) دُعاء کا اہتمام کرنا : 53 105
109 (٤) صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا : 54 105
110 (٥) مسنون اور اد و وظائف کا پڑھنا : 55 105
111 تکالیف سے فوری نجات کا راستہ : 56 105
112 ہر مصیبت و تکلیف کا علاج : 56 105
113 آفات ومشکلات سے حفاظت کا نسخہ : 56 105
114 تمام بلائوں سے حفاظت : 56 105
115 سحر اور نظربد سے حفاظت : 57 105
116 انتقال پر ملال 57 1
117 ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے 58 1
118 دینی مسائل 60 1
119 ( نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) 60 118
120 ١۔ نماز میں بولنا یا بِلا ضرورت آواز نکالنا : 60 118
121 ٢۔ ایسا عمل کرنا جو کثیر ہو اور نماز کی جنس سے نہ ہو : 61 118
122 (٣) نماز کے اندر کھانا پینا : 62 118
123 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter