ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
اكستان |
|
کے ان احکام کو دیکھ کر اسلام کا احسان مانتے کہ اسلام کے رحیمانہ اور مہذبانہ قانون میں عین جنگ کے شعلوں کے دوران دشمنوں کو وہ رعائتیں دی ہیں جن کی کسی مذہب اورخاص کر بائیبل میں نظیر نہیں ملتی ۔مثلاً دورانِ جنگ میں سول آبادی میں بوڑھے ،عورتیں، تارک الدنیا او درویش افرادپر ہاتھ اُٹھانا اور اُن سے لڑنا منع ہے۔ عین جنگ میں صلح کی پیش کش اگر دشمن کردے تو جنگ رُک جائے گی ۔آتشیں آلات سے مارنا منع ہے لا تعذبوا بعذاب النار آگ کے عذاب سے کسی کو عذاب نہ دو۔ (٤) چہارم سبب، جہاد اسلامی کے حقیقی مفہوم کے سمجھنے میں مسیحی یورپ کی غلط فہمی ہے ۔جہاد عربی لفظ ہے جس کے لغوی معنی کسی مقصد کے لیے جدوجہد کرنے کے ہیں اور اسلام اور قرآن وسنت کی اصطلاح میں اُس مالی و جانی و قولی جدوجہد کا نام ہے جو فی سبیل اللہ ہو۔ سبیل النفس یا سبیل القوم یا سبیل الوطن کی آمیزش سے پاک ہو، وہ جہاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن وسنت نے جہاد کو اکثر مواضع میں جو ذکر کیا ہے تو ذاتِ خداوندی کی طرف نسبت کرکے ذکرکیا ہے وجاھدوا فی اللّٰہ حق جہادہ پوری کوشش کرو اللہ کی راہ میں جیسے اس کا تقاضا ہے۔ ابودا ود کی حدیث ہے وجاھدوا بانفسکم واموالکم والسنتکم خدا کی راہ میں اپنے نفسوں ، مال اورزبان سے کوشش کرو، اب یہ معلوم کرنا چاہیے کہ سبیل اللّٰہ کیا چیز ہے ۔ سبیل اللہ ، اللہ تعالیٰ کے اُس بین الاقوامی اور انسانی قانونِ عادلانہ کا نام ہے جو خالص انصاف پر مبنی ہے اور جس میں کسی قوم اور ملک اور خاص نسل اور رنگ والے لوگوں کی طرف داری نہیں اور ہر جانبداری سے پاک ہے اور سب عالم کے لیے یکساں مفید ہے ۔ وما ارسلنٰک الارحمة للعٰلمین (الانبیائ)۔'' ہم نے آپ کو وہ قانون دے کر بھیجا جو کل عالم کے لیے رحمت ہے ''۔ الحمد للّٰہ الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعٰلمین نذیراً (الفرقان) ''ساری تعریف ایک خدا کو ہے جس نے قرآن اُتارا اپنے خاص بندے محمد ۖ پر، تاکہ تمام عالم کو ظلم کے نتائج سے ڈرائے۔'' یہی انسانی عمومی مفاد مقصدِ جہاد ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کا مقصد یہ بتلایا ہے وجعل کلمة الذین کفروا السفلی وکلمة اللّٰہ ھی العلیا جہاد کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے کافرانہ قانون کو پست کردیا اور اللہ کا قانون عادلانہ بلندی کے لائق ہے۔ حضور علیہ السلام نے جہاد کرنے والے کی یہ تعریف کی ہے۔ من قاتل لتکون کلمة اللّٰہ ھی العلیا جو اس لیے لڑے کہ اللہ کا قانون وانصاف بلندوبالا رہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے عالمگیر قانون وانصاف جس میں اللہ ،انسان اور حیوانات کے حقوق محفوظ ہوں ، جب اس کی آزادی کے ساتھ اشاعت کی راہ میں ظالمانہ قوتیں حائل ہو جاتی ہیں اور اشاعت حق کی آزادی سلب کرتی ہیں ،ان کو دور کرنے کی صورت میں حق وباطل ، عدل و ظلم کا معرکۂ کارزار بھی شروع ہوجاتا ہے اور قتال تک نوبت پہنچتی ہے ۔ایسی سورت میں کبھی اہلِ باطل حق کو کچلنے کے لیے حملہ کرتے ہیں اور عہدِ نبوی کے غزوات میں اکثر ایسا ہوا۔ بدر، اُحد ،خندق اور