Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004

اكستان

44 - 65
مدد مانگ کرلڑائی شروع کرو (مسلم ،کتاب الجہادوالسیر)۔اس سے اہلِ یورپ نے یہ سمجھا کہ میدان جنگ کے بغیر بھی مسلمان ہر غیر مسلم کو جبراً مسلمان کرتا تھا خواہ ذمی ہو یا معاہد ہو یا تارکِ جنگ۔
	(٣)  غلط فہمی اس حدیث کے عدم فہم سے واقع ہوئی جس میں ارشاد ہے اُمرت ان اقا تل الناس حتٰی  یقولوا لا  الہ  الا  اللّٰہ  فاذا  قالوھا عصموا منی دمائھم واموالہم  (ترجمہ) میں مامور ہوں کہ لوگوں سے لڑوں اُس وقت تک کہ توحید کا اعتراف کریں جب یہ اعتراف کریں تو میری طرف سے اُن کی جان و مال محفوظ ہووے۔اس سے مستشرقین نے یہ غلط نظریہ جمایا کہ مسلمان تلوار ہاتھ میں لے کر گھماتا ہے اور کافر سے یہ کہتا ہے کہ اسلام لائو ورنہ تمہارے لیے تلوار ہے ۔ ہم آیات و احادیث سے اس کی تردید کر چکے ہیں ۔حدیث مذکور کا تعلق میدانِ جنگ سے ہے کہ جب عین دورانِ جنگ میں کوئی کافر لا الہ الا اللّٰہ  کہہ دے تو رُک جائو اور اس سے مت لڑو۔اگر چہ جان بچانے کے لیے کہے اور دل سے نہ کہے ۔اُسامہ  نے جب ایک شخص کے متعلق یہ عذر پیش کیا تو حضور علیہ الصلٰوة والسلام نے فرمایا کہ کیا تو نے اُس کا دل چیرا تھا۔ ہم پوچھتے ہیں کہ اگر مستشرقین کا یہ متعصبانہ بلکہ مجنونانہ الزام درست ہوتا تو بدر کے قیدی جب گرفتار ہوکر آئے تو اُن سے یہ کیوں نہ کہا گیا کہ اسلام یا تلوار، اور قرآن نے یہ حکم کیوں نازل کیا۔فاما منا بعد واما فدائً  یعنی قیدیوں پر احسان رکھ کر مفت چھوڑدو یا فدیہ لے کر چھوڑو۔
	فتح مکہ میں جو تقریباً دس ہزار کفار قیدی پیش ہوئے تو یہ فرمایا گیا  لا تثریب علیکم الیوم میں تمہارے اعمال پر تم کو ملامت نہیں کرتا بلکہ تم آزاد ہو۔ اور یہ کیوں نہ کہا گیا کہ'' اسلام یا تلوار'' ۔ثمامہ رئیس یمامہ جب قید ہوکرآیا تو اُس کو کچھ نہ کہا گیا اُس نے خود غسل کیا اور اسلام لایا اور حضور علیہ السلام نے اسے یہ کیوں نہ فرمایا کہ'' اسلام یا تلوار''۔خداوند تعالیٰ کا یہ ارشاد  وان جنحوا للسلم فاجنح لھا (انفال) اگر کفار کا محارب فریق صلح کے لیے جھک جائے توتم بھی جھک جائو۔ اور یہ کیوں نہ فرمایا گیا کہ'' اسلام یا تلوار''۔ لاینھا کم اللّٰہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان اللّٰہ یحب المقسطین ۔ تم کو اللہ ان کفار کے متعلق جو تم سے دین کی وجہ سے نہیں لڑے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا، اس سے نہیں روکتا کہ اُن کفارسے تم احسان کرو اور اُن کافروں سے منصفانہ سلوک کرو، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ان کافروں سے ایسا کیوں نہ کہا گیا کہ اسلام لائو ورنہ تلوار ہے۔ سورۂ نساء میں خدا کا حکم قرآنی ہے  فان اعتزلوکم ولم یقاتلوکم والقوا الیکم السلم فما جعل اللّٰہ لکم علیہم سبیلا  اگر وہ کفار تم سے کنارہ کریں پھر نہ لڑیں اور وہ تمہارے سامنے صلح کا پیغام ڈالیں تو اللہ تعالیٰ نے تم کو اُن پر حملہ کرنے کی راہ نہیں دی ہے ۔قرآن حکیم اِس قسم کے مضامین سے پُر ہے جس سے یورپ کے اس مجنونانہ و متعصبانہ غلط الزام کی تردید ہوتی ہے۔ عاقل کے لیے اس قدر کافی ہے ۔مناسب تو یہ تھا کہ یورپ والے اسلام
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
64 اس شمارے میں 3 1
65 حرف آغاز 4 1
66 درسِ حدیث 10 1
67 حضرت ثا بت بن قیس کا تقوٰی اور نبی علیہ السلام کا اُن پر اعتماد 10 66
68 پہلے زمانہ میں اچھے خطیب کے لیے بلند آواز والا ہونا ضروری تھا : 10 66
69 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ : 11 66
70 اپنی تعداد پر گھمنڈ کا نقصان : 11 66
71 میدان جنگ میں اطمینان اور سکینہ کانزول : 11 66
72 رسولِ خدا پیچھے نہیں ہٹے : 12 66
73 بہادری کی انتہاء ،سواری سے اُتر گئے : 12 66
74 حضرت ثابت باکمال خطیب تھے : 12 66
75 جھوٹے نبی کا گھٹیا مقصد اور نبی علیہ السلام سے گفتگو : 13 66
76 مقاصدِ نبوت : 13 66
77 مثال سے وضاحت : 13 66
78 اُسی وقت آپ نے اُسے قتل کیوں نہ کیا : 14 66
79 حضرت ثابت بن قیس پر اعتماد : 14 66
80 حضرت ثابت بن قیس کا تقوٰی اور احتیاط : 15 66
81 علماء اور ائمہ مساجد کو بھی اِس سنت پر عمل کرنا چاہیے : 15 66
82 حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی نوید : 15 66
83 دلائل نبوت ۖ 16 1
84 (١) قرآن مقدس، سراپا معجزہ : 16 83
85 (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : 17 83
86 .3پتھر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا 18 83
87 4۔کنکریوں کا تسبیح پڑھنا 18 83
88 (٥) درختوں کا پیغمبر علیہ السلام کی صداقت کی گواہی دینا : 19 83
89 (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : 21 83
90 (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : 21 83
91 (٨) اُنگلیوں سے پانی نکلنا : 23 83
92 (٩) برکتیں ہی برکتیں : 24 83
93 (١٠) عصا اور کوڑے کا رات میں روشن ہونا : 25 83
94 مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 27 1
95 ملا محمود : (وفات١٣٠٤ھ/١٨٨٦ء ) 28 94
96 قیام دارالعلوم کا ذکر بزبان مولانا ذوالفقار علی : 28 94
97 ذکر بناء جامع مسجد دیوبند : 32 94
98 مسعودیوں کے علماء دیوبند پر اعتراضات 37 1
99 (١) عرش و کعبہ و کرسی کی توہین : 37 98
100 سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک 40 1
101 سیرة نبوی اور مستشرقین 41 1
102 جہاد پرمستشرقین کا اعتراض : 41 101
103 مقصد ِجہاد دین پرجبر نہیں رفع فساد ہے : 42 101
104 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 48 1
105 مصائب وآلام سے بچنے کے شرعی نسخے 49 1
106 (١) گناہوں سے بچنا اور کثرت سے استغفا ر پڑھنا : 49 105
107 (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : 52 105
108 (٣) دُعاء کا اہتمام کرنا : 53 105
109 (٤) صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا : 54 105
110 (٥) مسنون اور اد و وظائف کا پڑھنا : 55 105
111 تکالیف سے فوری نجات کا راستہ : 56 105
112 ہر مصیبت و تکلیف کا علاج : 56 105
113 آفات ومشکلات سے حفاظت کا نسخہ : 56 105
114 تمام بلائوں سے حفاظت : 56 105
115 سحر اور نظربد سے حفاظت : 57 105
116 انتقال پر ملال 57 1
117 ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے 58 1
118 دینی مسائل 60 1
119 ( نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) 60 118
120 ١۔ نماز میں بولنا یا بِلا ضرورت آواز نکالنا : 60 118
121 ٢۔ ایسا عمل کرنا جو کثیر ہو اور نماز کی جنس سے نہ ہو : 61 118
122 (٣) نماز کے اندر کھانا پینا : 62 118
123 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter