ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
اكستان |
|
مدد مانگ کرلڑائی شروع کرو (مسلم ،کتاب الجہادوالسیر)۔اس سے اہلِ یورپ نے یہ سمجھا کہ میدان جنگ کے بغیر بھی مسلمان ہر غیر مسلم کو جبراً مسلمان کرتا تھا خواہ ذمی ہو یا معاہد ہو یا تارکِ جنگ۔ (٣) غلط فہمی اس حدیث کے عدم فہم سے واقع ہوئی جس میں ارشاد ہے اُمرت ان اقا تل الناس حتٰی یقولوا لا الہ الا اللّٰہ فاذا قالوھا عصموا منی دمائھم واموالہم (ترجمہ) میں مامور ہوں کہ لوگوں سے لڑوں اُس وقت تک کہ توحید کا اعتراف کریں جب یہ اعتراف کریں تو میری طرف سے اُن کی جان و مال محفوظ ہووے۔اس سے مستشرقین نے یہ غلط نظریہ جمایا کہ مسلمان تلوار ہاتھ میں لے کر گھماتا ہے اور کافر سے یہ کہتا ہے کہ اسلام لائو ورنہ تمہارے لیے تلوار ہے ۔ ہم آیات و احادیث سے اس کی تردید کر چکے ہیں ۔حدیث مذکور کا تعلق میدانِ جنگ سے ہے کہ جب عین دورانِ جنگ میں کوئی کافر لا الہ الا اللّٰہ کہہ دے تو رُک جائو اور اس سے مت لڑو۔اگر چہ جان بچانے کے لیے کہے اور دل سے نہ کہے ۔اُسامہ نے جب ایک شخص کے متعلق یہ عذر پیش کیا تو حضور علیہ الصلٰوة والسلام نے فرمایا کہ کیا تو نے اُس کا دل چیرا تھا۔ ہم پوچھتے ہیں کہ اگر مستشرقین کا یہ متعصبانہ بلکہ مجنونانہ الزام درست ہوتا تو بدر کے قیدی جب گرفتار ہوکر آئے تو اُن سے یہ کیوں نہ کہا گیا کہ اسلام یا تلوار، اور قرآن نے یہ حکم کیوں نازل کیا۔فاما منا بعد واما فدائً یعنی قیدیوں پر احسان رکھ کر مفت چھوڑدو یا فدیہ لے کر چھوڑو۔ فتح مکہ میں جو تقریباً دس ہزار کفار قیدی پیش ہوئے تو یہ فرمایا گیا لا تثریب علیکم الیوم میں تمہارے اعمال پر تم کو ملامت نہیں کرتا بلکہ تم آزاد ہو۔ اور یہ کیوں نہ کہا گیا کہ'' اسلام یا تلوار'' ۔ثمامہ رئیس یمامہ جب قید ہوکرآیا تو اُس کو کچھ نہ کہا گیا اُس نے خود غسل کیا اور اسلام لایا اور حضور علیہ السلام نے اسے یہ کیوں نہ فرمایا کہ'' اسلام یا تلوار''۔خداوند تعالیٰ کا یہ ارشاد وان جنحوا للسلم فاجنح لھا (انفال) اگر کفار کا محارب فریق صلح کے لیے جھک جائے توتم بھی جھک جائو۔ اور یہ کیوں نہ فرمایا گیا کہ'' اسلام یا تلوار''۔ لاینھا کم اللّٰہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان اللّٰہ یحب المقسطین ۔ تم کو اللہ ان کفار کے متعلق جو تم سے دین کی وجہ سے نہیں لڑے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا، اس سے نہیں روکتا کہ اُن کفارسے تم احسان کرو اور اُن کافروں سے منصفانہ سلوک کرو، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ان کافروں سے ایسا کیوں نہ کہا گیا کہ اسلام لائو ورنہ تلوار ہے۔ سورۂ نساء میں خدا کا حکم قرآنی ہے فان اعتزلوکم ولم یقاتلوکم والقوا الیکم السلم فما جعل اللّٰہ لکم علیہم سبیلا اگر وہ کفار تم سے کنارہ کریں پھر نہ لڑیں اور وہ تمہارے سامنے صلح کا پیغام ڈالیں تو اللہ تعالیٰ نے تم کو اُن پر حملہ کرنے کی راہ نہیں دی ہے ۔قرآن حکیم اِس قسم کے مضامین سے پُر ہے جس سے یورپ کے اس مجنونانہ و متعصبانہ غلط الزام کی تردید ہوتی ہے۔ عاقل کے لیے اس قدر کافی ہے ۔مناسب تو یہ تھا کہ یورپ والے اسلام