ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
اكستان |
|
وایقانا وتحقیقا الھم السیّد النسیب الجلیل والشریف الحسیب النبیل صاحب القوة القدسیة والابّھة الوھبیة الرضی التدبیرالرحیم علی الصغیر و الموقر للکبیر الفقید المثیل والعدیم النظیر وسامة وجمالا وفخامة وجلالا وصورة وسیرة وسرًّا وسریرة ورأیا وریّا وطباعاً ذکیا المسمی المخبر البھی المنظر الخےّز الشےّز ( ومن لم یومن بہ فقد صدّق ا لخَبر الخُبر) الحیی التقی السخی النقی فخرالامثال الاماجد السیّد الاجل محمد عابد ادامہ اللّٰہ وابقاہ والی منتھی الاٰمال رقّاہ ما درّسحاب وقرء کتاب بتاسیس ھذہ المدرسة التی اُسست علی التقوٰی والطریقة المثلی وان لم یساعدہ الزمان والمکان ولم یوافقہ الحین والاوان۔ذالک تقدیر العزیز العلیم والحکیم الحلیم فانہ اذا اراد شیئا ھیأ اسبابہ وقدر لہ اربابہ انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شئی والیہ ترجعون فندب السید اھل الخیرالی اعانة ھٰذا المثوبة وتایید ھذہ المشورة سنة اثنین وثما نین بعد الالف والمأ تین من ھجرة سیّدالثقلین صلے اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم وعظم وکرم فاستمعوا لہ وانتد بوہ واجابوہ واتبعوہ فصارالمدرسة بسعیہ المشکور ملجأ للعلم وذویہ ومرجعا للفضل ومنتسبیہ ومؤملا للدین ومنتحلیہ ولا غرو فان الولد سرلابیہ ذالک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشاء واللّٰہ ذوالفضل العظیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حمد وثنا صلوٰة وسلام پیش کرتے ہوئے لکھ رہا ہوں جب باری تعالیٰ شانہ وعزسلطانہ نے ان شہروں کی خیر اور علوم دینیہ اور فنونِ یقینیہ کے اس طرح احیاء کا ارادہ فرمایا کہ یہ احیاء ایمان تصدیق یقین اور تحقیق کے طرز پر ہوتو اُس نے ایک سید جلیل النسب (صاحب شرف و حسب و شرافت صاحب قوتِ قدسیہ وہبی برتری والے ایسے (صاحب ) کہ جن کی تدبیر پر سب راضی ہوں۔وہ جو چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کی عزت کرنے والے جو اپنے نقش وجمال اور بڑائی اور جلال صورت وسیرت ظاہر و باطن رائے اور سیرابی ذکاوت ِطبعی میں فقید المثیل اور عدیم النظیر ہیں۔ضمیر کے بلند منظر میں پُررونق ،مشورہ دینے میں بہترین (اور جسے یقین نہ ہو تو آزمائش یقینا خبر کو سچا کردکھاتی ہے)