ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
اكستان |
|
'' دارالعلوم دیوبند کے اولین بانیوں میںسے تھے ،چالیس سال تک دارالعلوم کی مجلس شورٰی کے رُکن رہے۔ ١٣٢٢ھ/١٩٠٤ء میں بعمر ٨٥سال انتقال ہوا ''( تاریخ دیوبند ص٧٩) ''آپ نے دہلی کالج میں حضرت مولانا مملوک علی نانوتوی (وفات ١٢٦٧ھ / ١٨٥١ء ) سے پڑھا فراغت کے بعد بریلی کالج میں پروفیسر مقرر ہوئے ۔چند سال بعد محکمۂ تعلیم میں ڈپٹی انسپکٹر ہو گئے۔ عربی زبان وادب پر بڑی دسترس تھی دیوانی حماسہ کی شرح تسہیل الدراستہ دیوان متنبی کی شرح تسہیل البیان، سبعہ معلقہ کی شرح التعلیقات علی السبع المعلقات، قصیدۂ بانت سعاد کی شرح ارشاد اور قصیدہ بردہ کی شرح عطرالوردہ اُردو میں تحریر فرمائیں۔ مولانا نے ان شر وح میں عربی کے غریب اور مشکل الفاظ اور محاورات کا ایسا سلیس وبامحاورہ ترجمہ اور ایسی دل نشین تشریح کی ہے جس کی بدولت عربی ادب کی یہ سنگلاخ کتابیں طلبہ کے لیے نہایت سہل اور آسان ہوگئی ہیں ۔ معانی و بیان میں تذکرة البلاعت اور ریاضی میں تسہیل الحساب ان کی یاد گار یں ہیں ''۔ (تاریخ دارالعلوم ص ١٢٣ ج ١ ) تاریخ دارالعلوم میں ایک دوسری جگہ تحریر ہے : ''حضرت مولانا ذوالفقار علی (والد ماجد حضرت شیخ الہند ) اُن اکابر میں سے تھے جو دارالعلوم کی بناء و تاسیس میں شروع ہی سے شریک رہے تھے ۔دارالعلوم کے قیام کے بعد تمام عمرمجلس شورٰی کے رُکن رہے۔ دارالعلوم کا خزانہ انہیں کی تحویل میں رہتا تھا ۔نہایت امانت ودیانت کے ساتھ انہوںنے اس خدمت کو انجام دیا۔ علم وفضل، تدین ،وجاہت دنیوی اور خوش خلقی میں یگانۂ روزگار تھے۔'' (تاریخ دارالعلوم ج ١ ص ٢١٠) تاریخ دارالعلوم میں تحریر ہے : ''١٣٠٧ھ میں عربی زبان میں ایک مختصر رسالہ'' الہدیة السَّنِےة فی ذکر المدرسة الاسلامیة الدیوبندیة ''کے نام سے لکھا ہے جس میں بزرگان ِدارالعلوم کے اوصاف و کمالات اورسرزمین ِدیوبند کی خصوصیات پر بڑے لطیف اور ادیبا نہ انداز میںتبصرہ کیا گیا ہے ''۔ (ص ١٢٤ ج ١ ) آپ نے اس رسالہ کا آغا ز اس طرح کیا ہے : بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم حامدا ومثنیا و مسلما ومصلیا لما اراداللّٰہ تعالٰی شانہ و عزسلطانہ خیر ھٰذہ البلاد وارشاد العباد باحیاء العلوم الدینیہ والفنون الیقینیہ اذعانا وتصدیقا