Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004

اكستان

31 - 65
شرمیلے اور متقی ،پاکیزہ اور سخی ،جو بڑے بڑے قابل مثال حضرات کے لیے (باعث ) فخر ہیں ۔سیّد اجل محمد عابد ادام اللہ وابقاہ اور خدا اُن کوآرزئووں کی غایت تک ترقی بخشتا ہی رہے ،جب تک بادل برسے اور کتاب (کتاب اللہ)پڑھی جاتی رہے )  ١   پر الہام فرمایا کہ اس مدرسہ کی بنیاد رکھیں ۔ 
یہ مدرسہ جس کی بنیاد تقوے پر اور بہترین طریقہ پر رکھی گئی ہے اگرچہ (بظاہر) زمانہ اور جگہ نے مددنہیں کی ،نہ ہی وقت نے ساتھ دیا نہ دَورنے (لیکن) یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بڑے غلبہ اورعلم والا ہے حکمت اور حلم والا ہے مقدرات ہو اکرتے ہیں (جو ہو کر ہی رہتے ہیں ) کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کا ارادہ فرمالیں تو اُس کے اسباب مہیا فرما دیتے ہیں اوراہل کار بھی مقدر (ومعین) کردیتے ہیں ۔ انما امرہ اذا ارادشیئا ان یقول لہ کن فیکون۔ (اس کا معاملہ تو ایسے ہوتا ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتے تو بامرکن وہ وجود میں آجاتا ہے ) پس پاک ہے وہ ذات کہ جس کے قبضہ میں ہر چیز کی حکومت ہے اور اُسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے۔ پس سیّد صاحب نے اس کا ر ِثواب میں اعانت کے لیے اور اس مشورہ اورر ائے میں مدد کے لیے اہلِ خیر کو بلایا ۔(اوریہ) سال ایک ہزار دوسو بیاسی ہجری سیّد ثقلین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم وعظم وکرم (میں ہوا) لوگوں نے انکی بات غور سے سُنی ان کی اطاعت کی انہیں لبیک کہا ۔ ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے ۔ اُن کی سعی مشکور سے (یہ ) مدرسہ علم اور اہلِ علم کا ملجأ (ٹھکانہ بن گیا)فضیلت اور اہل فضل کا مرجع دین اور اہل دین کا ماوٰی بن گیا ۔ اس میں کوئی عجب بات نہیںہے  ٢   کیو نکہ بیٹا اندر سے اپنے باپ ہی پر ہوتا ہے یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہے دیدے ،وہ بہت بڑے فضل والاہے۔( الھدایةالسنیہ ص ٢) 
	پھر بہترین کلمات میں کافی طویل عبارت میں حضرت اقدس مولانا نانوتوی نوراللہ مرقدہ کا ذکرخیرفرمایا ہے کہ  :
ثم قیض اللّٰہ سبحانہ لترصیص الامر المعلوم واحیا ء العلوم الشیخ الاکبر الازہر الاطہر الرضی الاوضی الا لمعی الاریحی۔الخ
	 لیکن حضرت مولانا ذوالفقار علی  نے پہلے حضرت حاجی صاحب کا اور پھر حضرت نانوتوی کا ذکر فرمایا ہے 		رحمة اللہ علیہم۔
     ١   الہام کی تفصیل تذکرة العابدین کے حوالہ سے پہلے گزر چکی ہے۔
   ٢   حضرت کی تحریر الولدسر لا بیہ  میںشاید اس طرف اشارہ ہو کہ آپ کے خاندان نے خانقاہ سیّد ابراہیم  میں عرصہ تک علمی خدمات انجام دیں تھیںاورہو سکتا ہے کہ اشارہ رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو ۔ واللہ اعلم
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
64 اس شمارے میں 3 1
65 حرف آغاز 4 1
66 درسِ حدیث 10 1
67 حضرت ثا بت بن قیس کا تقوٰی اور نبی علیہ السلام کا اُن پر اعتماد 10 66
68 پہلے زمانہ میں اچھے خطیب کے لیے بلند آواز والا ہونا ضروری تھا : 10 66
69 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ : 11 66
70 اپنی تعداد پر گھمنڈ کا نقصان : 11 66
71 میدان جنگ میں اطمینان اور سکینہ کانزول : 11 66
72 رسولِ خدا پیچھے نہیں ہٹے : 12 66
73 بہادری کی انتہاء ،سواری سے اُتر گئے : 12 66
74 حضرت ثابت باکمال خطیب تھے : 12 66
75 جھوٹے نبی کا گھٹیا مقصد اور نبی علیہ السلام سے گفتگو : 13 66
76 مقاصدِ نبوت : 13 66
77 مثال سے وضاحت : 13 66
78 اُسی وقت آپ نے اُسے قتل کیوں نہ کیا : 14 66
79 حضرت ثابت بن قیس پر اعتماد : 14 66
80 حضرت ثابت بن قیس کا تقوٰی اور احتیاط : 15 66
81 علماء اور ائمہ مساجد کو بھی اِس سنت پر عمل کرنا چاہیے : 15 66
82 حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی نوید : 15 66
83 دلائل نبوت ۖ 16 1
84 (١) قرآن مقدس، سراپا معجزہ : 16 83
85 (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : 17 83
86 .3پتھر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا 18 83
87 4۔کنکریوں کا تسبیح پڑھنا 18 83
88 (٥) درختوں کا پیغمبر علیہ السلام کی صداقت کی گواہی دینا : 19 83
89 (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : 21 83
90 (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : 21 83
91 (٨) اُنگلیوں سے پانی نکلنا : 23 83
92 (٩) برکتیں ہی برکتیں : 24 83
93 (١٠) عصا اور کوڑے کا رات میں روشن ہونا : 25 83
94 مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 27 1
95 ملا محمود : (وفات١٣٠٤ھ/١٨٨٦ء ) 28 94
96 قیام دارالعلوم کا ذکر بزبان مولانا ذوالفقار علی : 28 94
97 ذکر بناء جامع مسجد دیوبند : 32 94
98 مسعودیوں کے علماء دیوبند پر اعتراضات 37 1
99 (١) عرش و کعبہ و کرسی کی توہین : 37 98
100 سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک 40 1
101 سیرة نبوی اور مستشرقین 41 1
102 جہاد پرمستشرقین کا اعتراض : 41 101
103 مقصد ِجہاد دین پرجبر نہیں رفع فساد ہے : 42 101
104 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 48 1
105 مصائب وآلام سے بچنے کے شرعی نسخے 49 1
106 (١) گناہوں سے بچنا اور کثرت سے استغفا ر پڑھنا : 49 105
107 (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : 52 105
108 (٣) دُعاء کا اہتمام کرنا : 53 105
109 (٤) صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا : 54 105
110 (٥) مسنون اور اد و وظائف کا پڑھنا : 55 105
111 تکالیف سے فوری نجات کا راستہ : 56 105
112 ہر مصیبت و تکلیف کا علاج : 56 105
113 آفات ومشکلات سے حفاظت کا نسخہ : 56 105
114 تمام بلائوں سے حفاظت : 56 105
115 سحر اور نظربد سے حفاظت : 57 105
116 انتقال پر ملال 57 1
117 ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے 58 1
118 دینی مسائل 60 1
119 ( نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) 60 118
120 ١۔ نماز میں بولنا یا بِلا ضرورت آواز نکالنا : 60 118
121 ٢۔ ایسا عمل کرنا جو کثیر ہو اور نماز کی جنس سے نہ ہو : 61 118
122 (٣) نماز کے اندر کھانا پینا : 62 118
123 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter