قرب الہی کی منزلیں |
ہم نوٹ : |
|
بس اب دعا کر و کہ اﷲ پاک عمل کی توفیق نصیب فرمائیں۔دعا کرو کہ اﷲ مجھ کو بھی صحت دے، میں کافی بیمار رہنے لگا ہوں، کھانسی بلغم کمزوری ہے، دعا کرو کہ اﷲ مجھ کو عالمِ شباب دوبارہ دے دیں اور میں اُسے خالقِ شباب پر فدا کردوں۔ اور آپ کو، مجھ کو، میرے گھر والوں کو، میری اولاد کو، آپ کو، آپ کے گھر والوں کو، آپ کی اولاد کو اور سب کو اﷲ پاک نسبتِ اولیائے صدیقین عطا فرمائے،اور جو غائبین ہیں ان کے لیے بھی دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ انہیں صحت نصیب فرمائے، عافیتِ دارین نصیب فرمائے، دونوں جہاں کی کامیابیاں نصیب فرمائے اور دونوں جہاں میں خوشیاں دکھائے اور غم سے بچائے، آمین۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہم سب کو اپنی محبت کا ذرّہ عطا فرمادے، اے اللہ! آپ نے ہمارے اسلاف کو، ہمارے بزرگوں کو اپنی رحمت سے جو دردِ محبت بخشا تھا، ہم بے وطن ہیں ہم آپ کے لیے اپنا گھر چھوڑ کر لاہور آئے ہیں، بے وطن ہیں، دین سیکھنے والے بھی بے وطن ہیں اور سنانے والا بھی بے وطن ہے، ہم پررحم فرمائیے کہ ہم آپ کے لیے غریبُ الوطن ہوئے ہیں، اس سفر کو قبول فرمایئے اور سب کو اپنی محبت کا وہ ذرّہ ٔدرد عطا فرمایئے جو آپ نے اپنے دوستوں کو عطا کیا، اگرچہ آپ کے نزدیک ہمارے سینے اس قابل نہیں ہیں مگر آپ کا ایک نام کریم ہے، محدثین نے لکھا ہے کہ کریم کے معنیٰ ہیں کہ جو نالائقوں پر بھی مہربانی کرے، اے خدا! آپ کریم ہیں، آپ لائق ہیں، ہمارے مولیٰ! ہم جیسے نالائقوں پر بھی مہربانی کردیں، اپنی رحمت سے ہم سب کو اللہ والی نسبت عطا فرما دیں، اللہ والی زندگی نصیب فرما دیں، نفس وشیطان مردود کی لعنتی غلامی سے نجات عطا فرما دیں اور ہماری دنیا اور آخرت بنا دیں، آپ دونوں جہاں کے مالک ہیں، خواجہ صاحب کا شعر ہے ؎دونوں جہاں کا دُکھڑا مجذوبؔ رو چکا ہے اب اس پہ فضل کرنا یا رب ہے کام تیرا اے اللہ! ہمارے بال بچوں کو، رشتہ داروں کو، خاندان کو، کسی کو محروم نہ فرما۔ اختر کو بھی، میرے سب سامعین حضرات کو جتنے لوگ بیٹھے ہیں اے خدا! اپنی رحمت سے، کریم ہونے کے صدقے سب کو صاحبِ نسبت بنادے، اگر نسبت نہیں ہے تو عطا فرما دے، اگر ضعیف نسبت ہے تو قوی فرما دے، اگر قوی ہے تو اقویٰ کر دے۔