قرب الہی کی منزلیں |
ہم نوٹ : |
|
دوستوں سے باتیں کروں تب بھی آپ میرے قلب کی طرف متوجہ رہیں کہ میرے شیخ کے دل سے میرے قلب میں اﷲ تعالیٰ کا نور آرہا ہے،کیوں کہ میں جب اپنے دوستوں میں بات چیت کرتا ہوں اس وقت بھی میرا دل اﷲ تعالیٰ کے ساتھ مشغول رہتا ہے، یہ نہ سمجھو کہ میں مخلوق میں مشغول رہتا ہوں، زبان مشغول رہتی ہے مگر دل اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے، اﷲتعالیٰ کی محبت غالب رہتی ہے ؎جب مہر نمایاں ہوا سب چھپ گئے تارے وہ مجھ کو بھری بزم میں تنہا نظر آئے جب سورج نکلتا ہے تو ستارے چھپ جاتے ہیں،حالاں کہ آسمان پر موجود رہتے ہیں، وجود کے اعتبار سے فنا نہیں ہوتے، لیکن ان پر سورج کا غلبہ ہوجاتاہے،یعنی جب سورج نظر آتا ہے پھر ستارے نظر نہیں آتے، تو کیا ستارے موجود نہیں ہوتے؟ اسی طرح اﷲ والوں کے بال بچے ہوتے ہیں،تجارتیں چلتی ہیں، کاروبار ہوتا ہے، مگر دل میں یار کا غلبہ ہوتا ہے، اﷲ تعالیٰ کی محبت غالب رہتی ہے۔ اسی غلبۂ عشقِ الٰہی، غلبۂ علاقۂ خداوندی کے لیے خانقاہوں میں اﷲ والوں کی جوتیاں سیدھی کرنی پڑتی ہیں کہ ہم پر اﷲ کا تعلق غالب ہوجائے۔ اسی تعلق کو غالب کرنے کے لیے میں سہ روزہ لگارہا ہوں، آج عصر کے بعد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر کے جنگل میں جاؤں گا، مگر یہ وہ جنگل نہیں جہاں موتی نہ ہو، ان شاء اﷲ تعالیٰ سنیچر، اتوار، پیر تین دن وہیں رہوں گا، جن لوگوں کو فرصت ہو وہ تین دن میرے ساتھ وہاں رہیں اور میں ان کے ساتھ رہوں، مزہ جب ہے جب دونوں بے قرار ہوں ؎دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی یہ سہ روزہ میں کیوں لگا رہاہوں؟میرے شیخ شاہ عبد الغنی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ ایک عورت نے دوسری عورت سے پوچھا کہ بہن ری بہن! فوج کسے کہیں ہیں؟ تو دوسری نے کہا: اری بے وقوف! تیرا مردوا، میرا مردوا، اِس کا مردوا، اُس کا مردوا یعنی اُن کے شوہر جب سب مل گئے فوج تیار ہوگئی۔ تو صوفی کیسے بنتے ہیں؟ چند لوگ جمع ہوکر اﷲ کا نام لیں بس صوفی ہوجائیں گے۔ اﷲ تعالیٰ نے سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر میں اتنی عظیم خانقاہ بنوا دی ہے جس کی امید بھی نہیں تھی، بہت مشکل کام تھا، اب اﷲ کی نعمت کا شکر ادا کرتا ہوں سہ روزہ لگا