قرب الہی کی منزلیں |
ہم نوٹ : |
|
کے حسن کے قصیدے پڑھتے تھے، شکل کا جغرافیہ بدل جانے کے بعد ان معشوقوں کو دیکھتے بھی نہیں۔ جغرافیہ بدلنے پر میرا ایک شعر ہے ؎اِدھر جغرافیہ بدلا اُدھر تاریخ بھی بدلی نہ ان کی ہِسٹری باقی نہ میری مِسٹری باقی جن حسینوں پر ایمان تباہ کرتے ہو ایک دن اپنی رسوائیوں اور برباد شدہ زندگی پر خون کے آنسو روؤ گے تو بھی تلافی نہیں ہو سکے گی، اتنی زندگی جو ضایع کر دی، اتنے دن میں اللہ کا کتنا راستہ طے ہوجاتا، تم اللہ کا نام لے کر کہاں سے کہاں پہنچ جاتے، لیکن بدنظری کے باعث کولہو کے بیل بنے ہوئے ہیں، جہاں سے چلے تھے وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ دنیا کے معشوقوں کے فانی حسن پر میرے اشعار ہیں ؎کمر جھک کے مثلِ کمانی ہوئی کوئی نانا ہوا کوئی نانی ہوئی ان کے بالوں پہ غالب سفیدی ہوئی کوئی دادا ہوا کوئی دادی ہوئی اگر لڑکوں پر مرے تو وہ ایک دن نانا ابا بن جائیں گے اور لڑکیوں پر مرے تو وہ نانی اماں بن جائیں گی، کمر جھک جائے گی، سیاہ بال سفید ہوجائیں گے۔ میری ایک کتاب ہے ’’روح کی بیماریاں اور ان کا علاج‘‘ جو اس کو پڑھ کر اس پر عمل کرے گا تو اس کے ایمان پر ڈاکہ نہیں پڑسکتا ان شاء اللہ۔میں نے اپنی زندگی میں عشقِ مجازی کے ہاتھوں بہت سے عاشقوں کو برباد ہوتے دیکھا ہے، بڑی عبرت کی بات ہے، حسینوں کے سیاہ بالوں پر جب سفیدی غالب ہونے لگی، معشوق صاحب کی داڑھی کھچڑی ہوگئی، کچھ بال سفید کچھ بال سیاہ ہوگئے تو اس معشوق سے بھاگے، لیکن کب تک بھاگتے رہو گے؟ قبر میں اترنے کے بعد آنکھیں کھلیں گی، لیکن مرنے کے بعد آنکھیں کھلیں تو کیا فائدہ؟ اب تو عمل کا وقت ختم ہوگیا۔ جب بال کھچڑی یعنی سفید اور کالے ہوجائیں گے اس وقت کا میرا شعر سُن لیں ؎