انوار حرم |
ہم نوٹ : |
|
انوارِ حرم اَلْحَمْدُ لِلہِ وَکَفٰی وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُۨ ۙ﴿۱﴾ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ ۙ﴿۲﴾ 1؎قرآنِ پاک کی جو آیات اس وقت تلاوت کیں ان کی تفسیر اس اُمید پر کرتا ہوں کہ حق تعالیٰ آسمان پر خوش ہوجائیں کہ زمین پر ان کے کلام کی تفسیر ہورہی ہے اور میرے بندے میرے کلام کے حقائق و دقائق کیسے مزے لے لے کر بیان کررہے ہیں اور میرے کلام کی کیسی عظمتیں بیان ہورہی ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ تفسیر روح المعانی کے حوالے سے پیش کروں گا جو عربی زبان میں قرآنِ پاک کی سب سے بڑی تفسیر ہے۔ یہ قول علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔اللہ تعالیٰ کے کلام میں کیا لذّت ہے، اس لذّتِ تلاوت کو میں نے اس شعر میں بیان کیا ہے؎ لذّتِ دو جہاں ملی اس کے کلام سے مجھے اس کےقریب بیٹھ کر راحتِ دو جہاں ملی اور اللہ تعالیٰ کے نام کی لذّت کو مولانا رومی فرماتے ہیں کہ ؎ از لب یارم شکر را چہ خبر اللہ تعالیٰ کے نام میں جو مٹھاس میں پاتا ہوں اس مٹھاس کو شکر کیا جانے؟ کیوں کہ شکر محدود ہے، فانی ہے اور اس کی مثل بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی مٹھاس غیرفانی ہے، غیرمحدود ہے، بے مثل ہے۔ _____________________________________________ 1؎الملک :1 ۔2