انوار حرم |
ہم نوٹ : |
|
لہٰذا اپنے حقوق مجھ سے لو۔ جیسے اگر کسی کا بیٹا نالائق تھا اور باپ اس سے ناراض تھا لیکن بیٹے نے معافی مانگ کر باپ کو خوش کردیا اور پھر اس کے قرض خواہ آئے کہ تم نے ہم سے قرضہ لیا ہے، ہمارا قرضہ واپس کرو ورنہ ہم ابھی پٹائی کرتے ہیں تو باپ کہتا ہے کہ خبردار! میرے بیٹے پر ہاتھ مت اُٹھانا، میرے بیٹے نے معافی مانگ کر مجھ کو خوش کرلیا ہے لہٰذا آؤ اور اپنا سارا قرضہ مجھ سے لے جاؤ، میں اس کا کفیل ہوں۔ اور کفیل پر ایک لطیفہ سناتا ہوں اور شاید آپ یہ لطیفہ پہلی دفعہ سنیں گے۔ عرب میں کفیل ہونا ضروری ہے، اس لیے میں کہتا ہوں کہ کفیل تگڑا ہونا چاہیے یہاں کاف تمثیلیہ ہے یعنی مثل فیل کے۔ اس لیے فیل کی طرح مضبوط آدمی کو کفیل بناؤ، کفیل کمزور نہیں ہونا چاہیے۔ خیر! یہ تو درمیان میں ایک لطیفہ عربی لغت کا میں نے آپ کو سنادیا، دل خوش کرنے کے لیے۔ حقوق العباد معاف ہونے کی شرط یہ بات یاد رکھیں کہ جان بوجھ کر کسی کا حق مارلیا اور قدرت ہوتے ہوئے اس کو ادا نہ کیا تو معافی نہیں ملے گی، حق تعالیٰ اس کے کفیل ہوں گے۔ جس کو بندوں کا حق اداکرنے کی قدرت نہ ہو، دل سے ادا کرنا چاہتا ہے لیکن قدرت نہیں ہے۔ جیسا کہ اس واقعہ میں ہے کہ سو قتل کا مجرم نادم تھا لیکن اس کو موت آگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ برکت والا ہے وہ اللہ تعالیٰ جس کے قبضۂ قدرت میں ملک ایسا ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں جس کو چاہتے ہیں مَلِک یعنی بادشاہ بنادیتے ہیں اور آدابِ سلطنت بھی سکھادیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں سلطنت چھین بھی لیتے ہیں۔رات کو سلطنت لیے بیٹھے ہیں اور صبح اخباروں میں آجاتا ہے کہ بادشاہ صاحب کے ہتھکڑی لگی ہوئی ہے۔ تُؤۡتِی الۡمُلۡکَ مَنۡ تَشَآءُ وَ تَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ 29؎ اگر ملک ان بادشاہوں کے ہاتھوں میں ہوتا تو کون بادشاہ چاہتا کہ مجھ سے سلطنت چھن جائے۔ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُ اور اللہ تعالیٰ ہر ایک شئے پر قدرت رکھتا ہے، اور ہر چیز شئی ہے۔ _____________________________________________ 29؎اٰل عمرٰن: 26