Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2015

اكستان

40 - 65
اِس دن آنحضرت  ۖ  کا غسلِ صحت فرمانا کہیں ثابت نہیں بلکہ اِس دن تورحمتِ عالم  ۖ  کی اُس بیماری کی اِبتداء ہوئی تھی جس میں آپ کا وصالِ مبارک ہوا۔ اِس بارے میں مسلمانوں کے بڑے بڑے سلسلے اورمکتبۂ فکر کے حضرات متفق ہیں کہ آخری چہار شنبہ (یعنی صفر کی آخری بدھ ) کے روز رحمت ِعالم  ۖ  کے مرضِ وفات کا آغاز ہوا تھا، چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں  :
٭  مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں  :
''٢٨صفر ١١ ھ چہار شنبہ (بدھ ) کی رات میں آپ  ۖ نے قبرستان بقیع غرقد میں تشریف لے جا کر اہلِ قبور کے لیے دُعائے مغفرت کی ، وہاں سے تشریف لائے تو سر میں درد تھا اورپھر بخار ہوگیااوریہ بخار صحیح روایات کے مطابق تیرہ روز تک متواتر رہا اوراِسی حالت میں وفات ہو گئی۔''( سیرتِ خاتم الانبیاء  ص١٤١)
٭  فقیہِ وقت حضرت مولانا رشید اَحمدصاحب گنگوہی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں  :
''آخری چہار شنبہ کی کوئی اَصل نہیں بلکہ اِس دن جناب ِرسول اللہ  ۖ کو شدتِ مرض واقع ہوئی تھی تو یہودیوں نے خوشی کی تھی ، وہ اَب جاہل ہندؤوں میں رائج ہوگئی  نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا ''۔(فتاوٰی رشیدیہ ص ١٥)
٭  بریلوی مکتبہ فکر کے اعلیٰ حضرت مولانا اَحمد رضا خان صاحب کا فتویٰ  : 
''آخری چہار شنبہ کی کوئی اَصل نہیں، نہ اِس دن صحت یابی حضور سیّد عالم  ۖ  کا  کوئی ثبوت ہے بلکہ مرضِ اَقدس جس میں وفات ہوئی اُس کی اِبتداء اِسی دن سے بتائی جاتی ہے۔''(اَحکامِ شریعت  ج ٣  ص ١٨٣ ) 
٭  بریلوی مکتبۂ فکر کے ایک دُوسرے عالم مولانا اَمجد علی صاحب تحریر کرتے ہیں  : 
''ماہِ صفر کا آخری چہار شنبہ ہندوستان میں بہت منایا جاتا ہے، لوگ اپنے کاروبار بند کردیتے ہیں،سیر وتفریح اور شکار کوجاتے ہیں ،پوریاں پکتی ہیں اورنہاتے دھوتے ہیں خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور  ۖ نے اِس روز غسلِ صحت فرمایا تھا
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرفِ آغاز 4 1
3 درسِ حدیث 6 1
4 گورنروں کے لیے ضابطہ : 7 3
5 مال کمائو مگر اللہ کو یاد رکھو : 8 3
6 اعلیٰ اَخلاق کا معلم 9 1
7 سرمایہ پرستی کا دُشمن ۔ اِنسانیت کا حامی ۔ شرافت کا علمبردار 9 6
8 دُنیا دو طبقوں میں بٹ گئی ہے : صاحب ِ سرمایہ اور محنت کش مزدُور 9 6
9 اِس کائنات کا مقصد کیا ہے ؟ 12 6
10 میدانِ اِنقلاب ....... تبدیلی کہاں کی جائے ؟ 14 6
11 آخری منزل .......... ''ملکیت'' کا خاتمہ 18 6
12 تقسیم کی صورت : 20 6
13 ایک مثال : 21 12
14 ایک عجیب و غریب دلیل یا فیصلہ ملاحظہ فرمائیے : 21 6
15 اِسلام کیا ہے ؟ 23 1
16 سترہواں سبق : ذکر اللہ 23 15
17 اَفضل الذکر : 23 15
18 کلمۂ تمجید : 24 15
19 تسبیحاتِ فاطمہ : 25 15
20 سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ : 26 15
21 قرآنِ پاک کی تلاوت : 27 15
22 ذکر کے متعلق چند آخری باتیں : 28 15
23 وفیات 29 1
24 قصص القرآن للاطفال 30 1
25 پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصے 30 24
26 ( حضرت لقمان حکیم کا قصہ ) 30 24
27 بقیہ : اعلیٰ اَخلاق کا معلم 33 6
28 ماہِ صفرکے اَحکام اور جاہلانہ خیالات 34 1
29 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 34 28
30 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 34 28
31 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اور اُس کی تردید : 35 28
32 ماہِ صفر سے متعلق بعض روایات کا تحقیقی جائزہ : 37 28
33 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 38 28
34 بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 42 1
35 زمانہ ٔ جاہلیت کی بد شگونیاں : 43 1
36 عصر حاضر کی بدشگونیاں اور توہمات : 46 1
37 ماہِ صفر کی نحوست کا تصور : 48 1
38 دین کے مختلف شعبے 49 1
39 (ا ) اصل ِدین کا تحفظ : 49 38
40 (٢ ) راستہ کی رُکاوٹوں کو دُور کرنا : 50 38
41 (٣) باطل عقائد و نظریات کی تردید : 50 38
42 (٤ ) دعوت اِلی الخیر : 53 38
43 دین کے تمام شعبوں کا مرکز : 54 38
44 موجودہ دور کا اَلمیہ : 55 38
45 تعارف و تبصرہ '' فوائد جامعہ بر عجالہ نافعہ '' 57 1
46 نام و نسب : 58 45
47 وِلادت با سعادت : 58 45
48 تحصیل ِعلم : 58 45
49 درس و تدریس اور فضل و کمال : 58 45
50 وفات : 61 45
51 تعارف و تبصرہ بر کتاب عجالہ نافعہ : 61 45
52 فصل اَوّل : 61 45
53 شرائط : 62 52
54 طبقہ اُولیٰ : 63 52
55 طبقہ ثانیہ : 63 52
56 طبقہ ثالثہ : 63 52
57 طبقہ رابعہ : 63 52
58 فصل دوم : 64 45
59 خاتمہ : 64 58
60 بقیہ : بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 64 34
Flag Counter