Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2015

اكستان

41 - 65
اور بیرونِ مدینہ سیر کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ یہ سب باتیں بے اَصل ہیںبلکہ اِن دِنوں میں حضور اَکرم  ۖ  کا مرض شدت کے ساتھ تھا، لوگوں کو جو باتیں بتائی ہوئی ہیں، سب خلافِ واقع ہیں ۔'' (بہارِ شریعت  ج٦  ص٢٤٢)
مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ آپ  ۖ  کُل تیرہ دن بیمار رہے ہیں اوراِس پر بھی سب  متفق ہیں کہ آپ  ۖ نے پیر کے روز وصال فرمایاہے،اِس حساب سے اگر دیکھا جائے تو آپ  ۖ کے مرضِ وفات کا دن بدھ ہی بنتا ہے۔ ا ِس طرح سے کہ بدھ سے دُوسرے بدھ تک آٹھ دن اور جمعرات سے پیر تک پانچ دن (١٣٥٨) لہٰذا مرضِ وفات کا آغاز بالاتفاق بدھ ہی کا دِن ہوا۔ مذکورہ بالا حوالے جات سے یہ بات روزِروشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ صفر کے مہینے کی آخری بدھ رسول اللہ  ۖ کے مرضِ وفات کے آغاز کا دن تھا نہ کہ صحت یابی کا اور آپ  ۖ کے مرضِ وفات پر خوشی کیسی  ؟
درحقیقت بات یہ ہے کہ آخری چہار شنبہ یہودیوں اوراِیرانی مجوسیوں کی رسم ہے جو اِیران سے منتقل ہو کر ہندوستان میں آئی ہے اور یہاں کے بے دین بادشاہوں نے اِسے پروان چڑھایا۔     ( دائرہ معارفِ اِسلامیہ  مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی  ج ١  ص١٨)
یہود کو آنحضرت  ۖ کے شدتِ مرض سے خوشی ہونا بالکل ظاہر اور اُن کی عداوت اور شقاوت کا تقاضہ ہے۔(فتاویٰ محمودیہ  ج ١٥  ص ٤١٢ ) 
لہٰذا یہ یہودوہنود کی خوشی کادن توہوسکتاہے مسلمانوں کانہیں ، مسلمانوں کا اِسے بطورِ خوشی منانا   سخت بے غیرتی اور بے اَدبی ہے، مسلمانوں کا اِس دِن مٹھائی تقسیم کرنا اگرچہ آنحضرت  ۖ  کے شدت ِمرض کی خوشی میں یا یہود کی موافقت کرنے کی نیت سے نہ ہو لیکن بہر حال یہ طریقہ غلط ہے اِس سے بچنا لازم ہے، بغیر نیت کے بھی یہود کی موافقت کا طریقہ اِختیار نہیںکرنا چاہیے۔
مسلمانوں کوسوچنا چاہیے کہ وہ اِس یہودیانہ ومجوسیانہ اورہندوانہ رسم کو اپنا کر کہیں حضوراَکرم    ۖ  کے مرضِ وفات کا جشن منانے میں یہود وہنود کی صورتًا موافقت تو نہیں کررہے  ؟
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرفِ آغاز 4 1
3 درسِ حدیث 6 1
4 گورنروں کے لیے ضابطہ : 7 3
5 مال کمائو مگر اللہ کو یاد رکھو : 8 3
6 اعلیٰ اَخلاق کا معلم 9 1
7 سرمایہ پرستی کا دُشمن ۔ اِنسانیت کا حامی ۔ شرافت کا علمبردار 9 6
8 دُنیا دو طبقوں میں بٹ گئی ہے : صاحب ِ سرمایہ اور محنت کش مزدُور 9 6
9 اِس کائنات کا مقصد کیا ہے ؟ 12 6
10 میدانِ اِنقلاب ....... تبدیلی کہاں کی جائے ؟ 14 6
11 آخری منزل .......... ''ملکیت'' کا خاتمہ 18 6
12 تقسیم کی صورت : 20 6
13 ایک مثال : 21 12
14 ایک عجیب و غریب دلیل یا فیصلہ ملاحظہ فرمائیے : 21 6
15 اِسلام کیا ہے ؟ 23 1
16 سترہواں سبق : ذکر اللہ 23 15
17 اَفضل الذکر : 23 15
18 کلمۂ تمجید : 24 15
19 تسبیحاتِ فاطمہ : 25 15
20 سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ : 26 15
21 قرآنِ پاک کی تلاوت : 27 15
22 ذکر کے متعلق چند آخری باتیں : 28 15
23 وفیات 29 1
24 قصص القرآن للاطفال 30 1
25 پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصے 30 24
26 ( حضرت لقمان حکیم کا قصہ ) 30 24
27 بقیہ : اعلیٰ اَخلاق کا معلم 33 6
28 ماہِ صفرکے اَحکام اور جاہلانہ خیالات 34 1
29 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 34 28
30 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 34 28
31 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اور اُس کی تردید : 35 28
32 ماہِ صفر سے متعلق بعض روایات کا تحقیقی جائزہ : 37 28
33 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 38 28
34 بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 42 1
35 زمانہ ٔ جاہلیت کی بد شگونیاں : 43 1
36 عصر حاضر کی بدشگونیاں اور توہمات : 46 1
37 ماہِ صفر کی نحوست کا تصور : 48 1
38 دین کے مختلف شعبے 49 1
39 (ا ) اصل ِدین کا تحفظ : 49 38
40 (٢ ) راستہ کی رُکاوٹوں کو دُور کرنا : 50 38
41 (٣) باطل عقائد و نظریات کی تردید : 50 38
42 (٤ ) دعوت اِلی الخیر : 53 38
43 دین کے تمام شعبوں کا مرکز : 54 38
44 موجودہ دور کا اَلمیہ : 55 38
45 تعارف و تبصرہ '' فوائد جامعہ بر عجالہ نافعہ '' 57 1
46 نام و نسب : 58 45
47 وِلادت با سعادت : 58 45
48 تحصیل ِعلم : 58 45
49 درس و تدریس اور فضل و کمال : 58 45
50 وفات : 61 45
51 تعارف و تبصرہ بر کتاب عجالہ نافعہ : 61 45
52 فصل اَوّل : 61 45
53 شرائط : 62 52
54 طبقہ اُولیٰ : 63 52
55 طبقہ ثانیہ : 63 52
56 طبقہ ثالثہ : 63 52
57 طبقہ رابعہ : 63 52
58 فصل دوم : 64 45
59 خاتمہ : 64 58
60 بقیہ : بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 64 34
Flag Counter