Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2015

اكستان

42 - 65
بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 
(  حضرت مولانا مفتی رفیع الدین حنیف صاحب قاسمی ) 
''اِسلام'' حقائق، صداقتوں اور سچائیوں پر مشتمل دین ہے ،توہمات وخرافات، دُور اَذکار باتوں، خیالی و تصورراتی دُنیا سے اِس کا کوئی تعلق نہیں، یہ بد شگونی و بدگمانی اور مختلف چیزوں کی نحوست کے تصور و اِعتقاد کی بالکل نفی کرتا ہے، اِسلام در اصل ایک اکیلے واحد ویکتا اور ایسی قادرِ مطلق ذات پر یقین واِعتقاد کی تعلیم دیتا ہے جس کے تنہا قبضہ ٔ قدرت اور اُسی کی تنہا ذات کے ساتھ اچھی و بری تقدیر وابستہ ہے، آدمی کی اپنی تدبیریں محض اَسباب کے درجے میں ہوتی ہیں، اِن سے ہوتا کچھ نہیں، سب کا سب اُس ایک اکیلے اللہ کے کرنے سے ہوتا ہے، یہی وہ اِسلام کا بنیادی عقیدہ ہے جس سے شرک و کفر، اَوہام و خرافات اور خیالی و تصوراتی دُنیا کی بہت ساری بد اِعتقادیوں کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ 
آج کل کی مشکل اور دُشوار گزار زندگی میں غیروں کو توچھوڑیے جن کے مذہب کی بنیاد ہی اَوہام وخرافات پر ہوتی ہے، دیو مالائی کہانیاں اور عجیب و غریب قصے جس کا جزوِ لازم ہوتے ہیں، غیروں کے ساتھ طویل بود و باش اور رہن سہن کے نتیجے میں خود مسلمانوں میں بھی دِنوں، مہینوں، جگہوں، چیزوں اور مختلف رسوم ورواج کی عدم اَدائیگی کی شکل میں بے شمار توہمات در آئے ہیں کہ  فلاں دِن اور فلاں مہینہ منحوس ہوتا ہے، فلاں رُخ پر گھر بنانے یا جائے وقوع یا سمت اور رُخ کے اِعتبار سے سعد و نحس کا اِعتقاد کیاجاتا ہے، مختلف تقریبات بلکہ بچے کی پیدائش سے لے کر اُس کے رشتۂ اَزواج کے بندھن میں بندھ جانے، اُس کے صاحب ِاَولاد ہونے پھر اُس کے عمر کے آخری مراحل سے گزر کر  اُس کے موت کے منہ میں چلے جانے بلکہ اُس کے مرنے کے بعد اُس کے دفنانے بلکہ اُس کے بعد بھی مختلف رسوم و رواج کا سلسلہ چلتارہتاہے جس کی عدم ِ اَدائیگی کو نحوست کا باعث گردانا جاتا ہے، اِن  بے جا تصورات و خیالی توہمات کے ذریعے جانی، مالی، وقتی ہر طرح کی قربانیاں دے کر اپنے آپ کو
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرفِ آغاز 4 1
3 درسِ حدیث 6 1
4 گورنروں کے لیے ضابطہ : 7 3
5 مال کمائو مگر اللہ کو یاد رکھو : 8 3
6 اعلیٰ اَخلاق کا معلم 9 1
7 سرمایہ پرستی کا دُشمن ۔ اِنسانیت کا حامی ۔ شرافت کا علمبردار 9 6
8 دُنیا دو طبقوں میں بٹ گئی ہے : صاحب ِ سرمایہ اور محنت کش مزدُور 9 6
9 اِس کائنات کا مقصد کیا ہے ؟ 12 6
10 میدانِ اِنقلاب ....... تبدیلی کہاں کی جائے ؟ 14 6
11 آخری منزل .......... ''ملکیت'' کا خاتمہ 18 6
12 تقسیم کی صورت : 20 6
13 ایک مثال : 21 12
14 ایک عجیب و غریب دلیل یا فیصلہ ملاحظہ فرمائیے : 21 6
15 اِسلام کیا ہے ؟ 23 1
16 سترہواں سبق : ذکر اللہ 23 15
17 اَفضل الذکر : 23 15
18 کلمۂ تمجید : 24 15
19 تسبیحاتِ فاطمہ : 25 15
20 سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ : 26 15
21 قرآنِ پاک کی تلاوت : 27 15
22 ذکر کے متعلق چند آخری باتیں : 28 15
23 وفیات 29 1
24 قصص القرآن للاطفال 30 1
25 پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصے 30 24
26 ( حضرت لقمان حکیم کا قصہ ) 30 24
27 بقیہ : اعلیٰ اَخلاق کا معلم 33 6
28 ماہِ صفرکے اَحکام اور جاہلانہ خیالات 34 1
29 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 34 28
30 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 34 28
31 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اور اُس کی تردید : 35 28
32 ماہِ صفر سے متعلق بعض روایات کا تحقیقی جائزہ : 37 28
33 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 38 28
34 بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 42 1
35 زمانہ ٔ جاہلیت کی بد شگونیاں : 43 1
36 عصر حاضر کی بدشگونیاں اور توہمات : 46 1
37 ماہِ صفر کی نحوست کا تصور : 48 1
38 دین کے مختلف شعبے 49 1
39 (ا ) اصل ِدین کا تحفظ : 49 38
40 (٢ ) راستہ کی رُکاوٹوں کو دُور کرنا : 50 38
41 (٣) باطل عقائد و نظریات کی تردید : 50 38
42 (٤ ) دعوت اِلی الخیر : 53 38
43 دین کے تمام شعبوں کا مرکز : 54 38
44 موجودہ دور کا اَلمیہ : 55 38
45 تعارف و تبصرہ '' فوائد جامعہ بر عجالہ نافعہ '' 57 1
46 نام و نسب : 58 45
47 وِلادت با سعادت : 58 45
48 تحصیل ِعلم : 58 45
49 درس و تدریس اور فضل و کمال : 58 45
50 وفات : 61 45
51 تعارف و تبصرہ بر کتاب عجالہ نافعہ : 61 45
52 فصل اَوّل : 61 45
53 شرائط : 62 52
54 طبقہ اُولیٰ : 63 52
55 طبقہ ثانیہ : 63 52
56 طبقہ ثالثہ : 63 52
57 طبقہ رابعہ : 63 52
58 فصل دوم : 64 45
59 خاتمہ : 64 58
60 بقیہ : بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 64 34
Flag Counter