Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2015

اكستان

39 - 65
خوشی وتہوار مناتے ہیں کاریگر اور مزدور کام نہیں کرتے اپنے مالک سے مٹھائی کا مطالبہ کرتے ہیں، بعض مکتبوں میں بھی اِس دن چھٹی کی جاتی ہے اور اِس سلسلے میں ایک شعر بھی گھڑ لیا ہے جس کا مضمون یہ ہے  :
آخری چہار شنبہ آیا ہے 		غسلِ صحت نبی نے پایا ہے
حالانکہ یہ تمام باتیں منگھڑت ہیں اِسلامی اِعتبار سے ماہِ صفر کی آخری بدھ کی کوئی خاص اہمیت اور اِس دن شریعت کی طرف سے کوئی خاص عمل مقرر نہیں ہے ۔اِس سلسلہ میںایک لطیفہ بھی منقول ہے کہ ایک نوابزادے نے اپنے اُستاد سے اِس تاریخ میںعیدی مانگی،اُنہوں نے شعر کے اَندازمیں اِس عیدی کو بہت اچھے طریقے پررَد کردیا     
آخری چہار شنبہ ماہِ صفر	ہست چوں چہار شنبہ ہائے دِگر
نہ حدیثی شد درآں وارِد	نہ دَرو عید کرد پیغمبر
'' صفر کے مہینے کی آخری بدھ دُوسرے مہینوں کی آخری بدھ کی طرح ہے اِس بارے میں کوئی خاص حدیث یا واقعہ ثابت نہیں اورنہ ہی اِس میں نبی  ۖ نے کوئی عید منائی ہے۔'' (زوال السِنة عن اعمال السَنَة  ص ٨)
بعض لوگ اِس دن گھروں میں اگر مٹی کے برتن ہوں تو اُن کو توڑ دیتے ہیں ،اِسی دن بعض     لوگ چاندی کے چھلّے اورتعویذات بنا کر مختلف مصیبتوں خاص کرصفر کی نحوست سے بچنے کی غرض سے پہنا کرتے ہیں، یہ چیزیں بھی توہم پرستی میں داخل ہیں ۔
لہٰذا اِس دن کاریگر اورمزدوروں کا خاص اہتمام سے چھٹی کرنا بے اَصل ہے اورمزدُوروں کا مالک سے مٹھائی وغیرہ کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں اوراِس دِن کو دُوسرے دِنوں کی بہ نسبت زیادہ فضیلت اور ثواب والا سمجھنا بدعت ہے اور اِس دن برتن وغیرہ توڑنا اورمصیبتوں اورنحوست سے بچنے کے لیے چھلے اورتعویذ بنانا بھی شرعًا منع ہے کیونکہ یہ سب چیزیں قرآن وسنت ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین ، ائمہ مجتہدین اور سلف ِصالحین رحمہم اللہ کسی سے بھی ثابت نہیں ،یہ سب بعد کے لوگوں کی اِیجاد ہے اور اپنی طرف سے دین میں ایک نیا اِضافہ ہے جو خالص بدعت اورواجب الترک ہے۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرفِ آغاز 4 1
3 درسِ حدیث 6 1
4 گورنروں کے لیے ضابطہ : 7 3
5 مال کمائو مگر اللہ کو یاد رکھو : 8 3
6 اعلیٰ اَخلاق کا معلم 9 1
7 سرمایہ پرستی کا دُشمن ۔ اِنسانیت کا حامی ۔ شرافت کا علمبردار 9 6
8 دُنیا دو طبقوں میں بٹ گئی ہے : صاحب ِ سرمایہ اور محنت کش مزدُور 9 6
9 اِس کائنات کا مقصد کیا ہے ؟ 12 6
10 میدانِ اِنقلاب ....... تبدیلی کہاں کی جائے ؟ 14 6
11 آخری منزل .......... ''ملکیت'' کا خاتمہ 18 6
12 تقسیم کی صورت : 20 6
13 ایک مثال : 21 12
14 ایک عجیب و غریب دلیل یا فیصلہ ملاحظہ فرمائیے : 21 6
15 اِسلام کیا ہے ؟ 23 1
16 سترہواں سبق : ذکر اللہ 23 15
17 اَفضل الذکر : 23 15
18 کلمۂ تمجید : 24 15
19 تسبیحاتِ فاطمہ : 25 15
20 سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ : 26 15
21 قرآنِ پاک کی تلاوت : 27 15
22 ذکر کے متعلق چند آخری باتیں : 28 15
23 وفیات 29 1
24 قصص القرآن للاطفال 30 1
25 پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصے 30 24
26 ( حضرت لقمان حکیم کا قصہ ) 30 24
27 بقیہ : اعلیٰ اَخلاق کا معلم 33 6
28 ماہِ صفرکے اَحکام اور جاہلانہ خیالات 34 1
29 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 34 28
30 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 34 28
31 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اور اُس کی تردید : 35 28
32 ماہِ صفر سے متعلق بعض روایات کا تحقیقی جائزہ : 37 28
33 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 38 28
34 بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 42 1
35 زمانہ ٔ جاہلیت کی بد شگونیاں : 43 1
36 عصر حاضر کی بدشگونیاں اور توہمات : 46 1
37 ماہِ صفر کی نحوست کا تصور : 48 1
38 دین کے مختلف شعبے 49 1
39 (ا ) اصل ِدین کا تحفظ : 49 38
40 (٢ ) راستہ کی رُکاوٹوں کو دُور کرنا : 50 38
41 (٣) باطل عقائد و نظریات کی تردید : 50 38
42 (٤ ) دعوت اِلی الخیر : 53 38
43 دین کے تمام شعبوں کا مرکز : 54 38
44 موجودہ دور کا اَلمیہ : 55 38
45 تعارف و تبصرہ '' فوائد جامعہ بر عجالہ نافعہ '' 57 1
46 نام و نسب : 58 45
47 وِلادت با سعادت : 58 45
48 تحصیل ِعلم : 58 45
49 درس و تدریس اور فضل و کمال : 58 45
50 وفات : 61 45
51 تعارف و تبصرہ بر کتاب عجالہ نافعہ : 61 45
52 فصل اَوّل : 61 45
53 شرائط : 62 52
54 طبقہ اُولیٰ : 63 52
55 طبقہ ثانیہ : 63 52
56 طبقہ ثالثہ : 63 52
57 طبقہ رابعہ : 63 52
58 فصل دوم : 64 45
59 خاتمہ : 64 58
60 بقیہ : بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 64 34
Flag Counter