Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2015

اكستان

38 - 65
ہونے کی نفی کررہی ہیں لہٰذا صحیح اَحادیث کے مقابلہ میں موضوع (منگھڑت )روایت پیش کرنا کسی  طرح بھی صحیح نہیں۔
 تیسرے بذاتِ خود اِس روایت میں صفر کے مہینہ کے منحوس ہونے کی کوئی دلیل بلکہ اِشارہ تک بھی نہیں، لہٰذا اِس روایت کے الفاظ سے صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا صرف اپنا اِختراع اورخیال ہے چنانچہ اِس روایت کے الفاظ پر غور کرنے سے ہر صاحب ِعقل اِس بات کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔
 چوتھے تھوڑی دیر کے لیے اِس روایت کے موضوع اورمنگھڑت ہونے سے نظر ہٹا کردُوسرے قواعد کو سامنے رکھتے ہوئے اگرغور کیا جائے تواِس کا صحیح مطلب اُن لوگوں کے بالکل خلاف جاتا ہے  چنانچہ اِس کا صحیح مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ آنحضرت  ۖ  کا وصال ربیع الاوّل کے مہینے میں ہونے والا تھا اور آپ  ۖ  وصال کے بعد اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے مشتاق تھے جس کی وجہ سے آپ کو ماہِ صفر کے گزرنے اور ربیع الاوّل کے شروع ہونے کی خبر کا اِنتظار تھا اور ایسی خبر لانے پر آپ  ۖ نے اِس بشارت کو مرتب فرمایا۔ تصوف کی بعض کتابوں میں اِسی مقصد کے لیے اِس روایت کو ذکر کیا گیا ہے، اِس  سے معلوم ہوا کہ اِس روایت کا صفر کی نحوست سے دُور کا بھی تعلق نہیں بلکہ یہ مضمون اورمفہوم خود ساختہ ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایک صورت میں خود یہ روایت خود ساختہ ہے اوردُوسری صورت میںاِس کا   مضمون خود ساختہ ہے کسی پہلو سے بھی اِس روایت سے صفر کے مہینہ کا منحوس ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔
 (ماخوذ اَز ''بدشگونیاں ، بدفالیاں اور توہمات ''  اَز  مفتی عبدالرئوف صاحب سکھروی بتغیر واِضافہ)
ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات  :
بہت سے لوگ ماہِ صفر کی آخری بدھ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیںاِس کو ''سیربدھ '' کے نام سے مشہور کیاگیاہے ،کہا جاتا ہے کہ صفر کی آخری بدھ کو آنحضرت  ۖ نے غسلِ صحت فرمایا تھا اور  سیر تفریح فرمائی تھی اِسی لیے بعض ناواقف اور سادہ لوح مسلمان مرد اورعورتیں اِس دن باغات اور   سیر گاہوں میں سیر وتفریح کے لیے جاتے ہیں، شرینی اور چُوری تقسیم کرتے ہیں، بعض علاقوں میں گھونگنیاں (پکے ہوئے چنے) تقسیم کرتے ہیں،عمدہ قسم کے کھانے پکانے کا اہتمام کرتے ہیں اِس دن
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرفِ آغاز 4 1
3 درسِ حدیث 6 1
4 گورنروں کے لیے ضابطہ : 7 3
5 مال کمائو مگر اللہ کو یاد رکھو : 8 3
6 اعلیٰ اَخلاق کا معلم 9 1
7 سرمایہ پرستی کا دُشمن ۔ اِنسانیت کا حامی ۔ شرافت کا علمبردار 9 6
8 دُنیا دو طبقوں میں بٹ گئی ہے : صاحب ِ سرمایہ اور محنت کش مزدُور 9 6
9 اِس کائنات کا مقصد کیا ہے ؟ 12 6
10 میدانِ اِنقلاب ....... تبدیلی کہاں کی جائے ؟ 14 6
11 آخری منزل .......... ''ملکیت'' کا خاتمہ 18 6
12 تقسیم کی صورت : 20 6
13 ایک مثال : 21 12
14 ایک عجیب و غریب دلیل یا فیصلہ ملاحظہ فرمائیے : 21 6
15 اِسلام کیا ہے ؟ 23 1
16 سترہواں سبق : ذکر اللہ 23 15
17 اَفضل الذکر : 23 15
18 کلمۂ تمجید : 24 15
19 تسبیحاتِ فاطمہ : 25 15
20 سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ : 26 15
21 قرآنِ پاک کی تلاوت : 27 15
22 ذکر کے متعلق چند آخری باتیں : 28 15
23 وفیات 29 1
24 قصص القرآن للاطفال 30 1
25 پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصے 30 24
26 ( حضرت لقمان حکیم کا قصہ ) 30 24
27 بقیہ : اعلیٰ اَخلاق کا معلم 33 6
28 ماہِ صفرکے اَحکام اور جاہلانہ خیالات 34 1
29 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 34 28
30 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 34 28
31 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اور اُس کی تردید : 35 28
32 ماہِ صفر سے متعلق بعض روایات کا تحقیقی جائزہ : 37 28
33 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 38 28
34 بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 42 1
35 زمانہ ٔ جاہلیت کی بد شگونیاں : 43 1
36 عصر حاضر کی بدشگونیاں اور توہمات : 46 1
37 ماہِ صفر کی نحوست کا تصور : 48 1
38 دین کے مختلف شعبے 49 1
39 (ا ) اصل ِدین کا تحفظ : 49 38
40 (٢ ) راستہ کی رُکاوٹوں کو دُور کرنا : 50 38
41 (٣) باطل عقائد و نظریات کی تردید : 50 38
42 (٤ ) دعوت اِلی الخیر : 53 38
43 دین کے تمام شعبوں کا مرکز : 54 38
44 موجودہ دور کا اَلمیہ : 55 38
45 تعارف و تبصرہ '' فوائد جامعہ بر عجالہ نافعہ '' 57 1
46 نام و نسب : 58 45
47 وِلادت با سعادت : 58 45
48 تحصیل ِعلم : 58 45
49 درس و تدریس اور فضل و کمال : 58 45
50 وفات : 61 45
51 تعارف و تبصرہ بر کتاب عجالہ نافعہ : 61 45
52 فصل اَوّل : 61 45
53 شرائط : 62 52
54 طبقہ اُولیٰ : 63 52
55 طبقہ ثانیہ : 63 52
56 طبقہ ثالثہ : 63 52
57 طبقہ رابعہ : 63 52
58 فصل دوم : 64 45
59 خاتمہ : 64 58
60 بقیہ : بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 64 34
Flag Counter