Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2015

اكستان

62 - 65
ہو سکتا ہے نیز ایسی شرائط بھی اِس میں مذکور ہیں جواِس علم میں غور و خوض کے لیے درکار ہیں، اِس میں ایک جگہ علم حدیث سے اِشتغال کی عجیب ترین مگر حقیقت سے قریب بات تحریر فرمائی ہے ، پڑھیے اور  اِس سے حضرت شاہ صاحب کی قوتِ تخیلیہ و تصورکا پتہ چلائیے جس کا ذکر ''نزہة الخواطر'' میں ہو چکا،  شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اگر غور کیا جائے اور گہری نظر سے دیکھاجائے تو معلوم ہوگا کہ ہر علم کی ایک خاصیت ہوتی ہے اور اُس سے دل بستگی اور وابستگی کی وجہ سے نفس ِ اِنسانی میں ایک خاص کیفیت خواہ بری ہو یا بھلی پیدا ہوجاتی ہے، علمِ حدیث میںمزاولت سے اِنسان میں شانِ صحابیت پیداہوتی ہے کیونکہ صحابیت کے معنی در اصل رسول اللہ  ۖ  کے جملہ اَحوال سے واقفیت اور ہر عبادت و عادت میں آپ  ۖ  کے ڈھنگ اور طریقوں کا مشاہدہ کر نے کے ہیں اور یہ بات اِمتدادِ زمانہ کی وجہ  سے اُس شخص کی قوت ِمدرکہ اور متخیلہ میں جو اِس علم سے وابستگی رکھتا ہے ایسی جم جاتی ہے اور پختہ ہوجاتی ہے کہ مشاہدہ کے حکم میں ہوجاتی ہے ،مندر جہ ذیل شعر میں اِسی جانب اِشارہ ہے     
اہل الحدیث ھموا اہل النبی وان 
لم یصحبوا نفسہ انفاسہ صحبوا
شرائط  :
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اِس علم کو حاصل کرنے کے لیے دوباتوں کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے (چونکہ یہ علم ایک قسم کی خبر ہے اور خبر میں سچ اور جھوٹ دونوں کا اِحتمال ہوتا ہے )۔
 (١)  راویانِ حدیث کے حالات کی چھان بین کرنا اور اُنہیں حاصل کرنا۔
 (٢)  حدیث کے معنی سمجھنے میں نہایت اِحتیاط سے کام لینا ۔
اگر پہلی بات میں کوتا ہی ہوئی تو سچے اور جھوٹے میں تمیز باقی نہیں رہے گی اور اگر دُوسری  بات میں اِحتیاط نہ برتی گئی اور اِس میں ذرا سی کوتا ہی ہوگئی تو مقصد اور غیر مقصد میں تمیز جاتی رہے گی اور دونوں خلط ملط ہوجائیں گے، اِن دونوں صورتوں میں علم سے جس فائدے کی توقع تھی وہ حاصل نہ ہو سکے گا بلکہ فائدے کے بجائے نقصان ہوگا خود بھی گمراہ ہوگا اور دُوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرفِ آغاز 4 1
3 درسِ حدیث 6 1
4 گورنروں کے لیے ضابطہ : 7 3
5 مال کمائو مگر اللہ کو یاد رکھو : 8 3
6 اعلیٰ اَخلاق کا معلم 9 1
7 سرمایہ پرستی کا دُشمن ۔ اِنسانیت کا حامی ۔ شرافت کا علمبردار 9 6
8 دُنیا دو طبقوں میں بٹ گئی ہے : صاحب ِ سرمایہ اور محنت کش مزدُور 9 6
9 اِس کائنات کا مقصد کیا ہے ؟ 12 6
10 میدانِ اِنقلاب ....... تبدیلی کہاں کی جائے ؟ 14 6
11 آخری منزل .......... ''ملکیت'' کا خاتمہ 18 6
12 تقسیم کی صورت : 20 6
13 ایک مثال : 21 12
14 ایک عجیب و غریب دلیل یا فیصلہ ملاحظہ فرمائیے : 21 6
15 اِسلام کیا ہے ؟ 23 1
16 سترہواں سبق : ذکر اللہ 23 15
17 اَفضل الذکر : 23 15
18 کلمۂ تمجید : 24 15
19 تسبیحاتِ فاطمہ : 25 15
20 سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ : 26 15
21 قرآنِ پاک کی تلاوت : 27 15
22 ذکر کے متعلق چند آخری باتیں : 28 15
23 وفیات 29 1
24 قصص القرآن للاطفال 30 1
25 پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصے 30 24
26 ( حضرت لقمان حکیم کا قصہ ) 30 24
27 بقیہ : اعلیٰ اَخلاق کا معلم 33 6
28 ماہِ صفرکے اَحکام اور جاہلانہ خیالات 34 1
29 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 34 28
30 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 34 28
31 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اور اُس کی تردید : 35 28
32 ماہِ صفر سے متعلق بعض روایات کا تحقیقی جائزہ : 37 28
33 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 38 28
34 بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 42 1
35 زمانہ ٔ جاہلیت کی بد شگونیاں : 43 1
36 عصر حاضر کی بدشگونیاں اور توہمات : 46 1
37 ماہِ صفر کی نحوست کا تصور : 48 1
38 دین کے مختلف شعبے 49 1
39 (ا ) اصل ِدین کا تحفظ : 49 38
40 (٢ ) راستہ کی رُکاوٹوں کو دُور کرنا : 50 38
41 (٣) باطل عقائد و نظریات کی تردید : 50 38
42 (٤ ) دعوت اِلی الخیر : 53 38
43 دین کے تمام شعبوں کا مرکز : 54 38
44 موجودہ دور کا اَلمیہ : 55 38
45 تعارف و تبصرہ '' فوائد جامعہ بر عجالہ نافعہ '' 57 1
46 نام و نسب : 58 45
47 وِلادت با سعادت : 58 45
48 تحصیل ِعلم : 58 45
49 درس و تدریس اور فضل و کمال : 58 45
50 وفات : 61 45
51 تعارف و تبصرہ بر کتاب عجالہ نافعہ : 61 45
52 فصل اَوّل : 61 45
53 شرائط : 62 52
54 طبقہ اُولیٰ : 63 52
55 طبقہ ثانیہ : 63 52
56 طبقہ ثالثہ : 63 52
57 طبقہ رابعہ : 63 52
58 فصل دوم : 64 45
59 خاتمہ : 64 58
60 بقیہ : بد شگونی اور اِسلامی نقطۂ نظر 64 34
Flag Counter