ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2015 |
اكستان |
|
ہو سکتا ہے نیز ایسی شرائط بھی اِس میں مذکور ہیں جواِس علم میں غور و خوض کے لیے درکار ہیں، اِس میں ایک جگہ علم حدیث سے اِشتغال کی عجیب ترین مگر حقیقت سے قریب بات تحریر فرمائی ہے ، پڑھیے اور اِس سے حضرت شاہ صاحب کی قوتِ تخیلیہ و تصورکا پتہ چلائیے جس کا ذکر ''نزہة الخواطر'' میں ہو چکا، شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اگر غور کیا جائے اور گہری نظر سے دیکھاجائے تو معلوم ہوگا کہ ہر علم کی ایک خاصیت ہوتی ہے اور اُس سے دل بستگی اور وابستگی کی وجہ سے نفس ِ اِنسانی میں ایک خاص کیفیت خواہ بری ہو یا بھلی پیدا ہوجاتی ہے، علمِ حدیث میںمزاولت سے اِنسان میں شانِ صحابیت پیداہوتی ہے کیونکہ صحابیت کے معنی در اصل رسول اللہ ۖ کے جملہ اَحوال سے واقفیت اور ہر عبادت و عادت میں آپ ۖ کے ڈھنگ اور طریقوں کا مشاہدہ کر نے کے ہیں اور یہ بات اِمتدادِ زمانہ کی وجہ سے اُس شخص کی قوت ِمدرکہ اور متخیلہ میں جو اِس علم سے وابستگی رکھتا ہے ایسی جم جاتی ہے اور پختہ ہوجاتی ہے کہ مشاہدہ کے حکم میں ہوجاتی ہے ،مندر جہ ذیل شعر میں اِسی جانب اِشارہ ہے اہل الحدیث ھموا اہل النبی وان لم یصحبوا نفسہ انفاسہ صحبوا شرائط : حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اِس علم کو حاصل کرنے کے لیے دوباتوں کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے (چونکہ یہ علم ایک قسم کی خبر ہے اور خبر میں سچ اور جھوٹ دونوں کا اِحتمال ہوتا ہے )۔ (١) راویانِ حدیث کے حالات کی چھان بین کرنا اور اُنہیں حاصل کرنا۔ (٢) حدیث کے معنی سمجھنے میں نہایت اِحتیاط سے کام لینا ۔ اگر پہلی بات میں کوتا ہی ہوئی تو سچے اور جھوٹے میں تمیز باقی نہیں رہے گی اور اگر دُوسری بات میں اِحتیاط نہ برتی گئی اور اِس میں ذرا سی کوتا ہی ہوگئی تو مقصد اور غیر مقصد میں تمیز جاتی رہے گی اور دونوں خلط ملط ہوجائیں گے، اِن دونوں صورتوں میں علم سے جس فائدے کی توقع تھی وہ حاصل نہ ہو سکے گا بلکہ فائدے کے بجائے نقصان ہوگا خود بھی گمراہ ہوگا اور دُوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔