Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2015

اكستان

33 - 65
ذمہ داری ہمیشہ کے لیے اب حضور  ۖ  کی اُمت کے سپرد کردی گئی ہے اور در اصل اِس اُمت کی یہ بہت بڑی فضیلت ہے بلکہ قرآن شریف میں اِسی کام اور اِسی خدمت و دعوت کو اِس اُمت کے وجو د کا مقصد بتلایا گیا ہے گویا کہ یہ اُمت پیدا ہی اِس کام کے لیے کی گئی ہے، اِرشاد ہے  :
 (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ) (سُورة اٰل عمران :   ١١٠)
''اے اُمت ِمحمد (ۖ ) تم ہو وہ بہترین جماعت جو اِس دُنیا میں لائی گئی ہے اِنسانوں کی اِصلاح کے لیے ،تم کہتے ہو نیکی کو اور روکتے ہو برائی سے اور سچا اِیمان رکھتے ہو اللہ پر۔ ''
اِس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ اُمت ِمحمدیہ دُنیا کی دُوسری اُمتوں اور جماعتوں میں اِس لحاظ سے ممتاز اور افضل تھی کہ خود اِیمان اور نیکی کے راستے پر چلنے کے علاوہ دُوسروں کو بھی نیکی کے راستے پر چلانے اور برائیوں سے بچانے کی کوشش کرنا اُس کی خدمت اور خاص ڈیوٹی تھی اور اِسی لیے اِس کو ''خَیْرَ اُمَّةٍ '' قرار دیا گیا تھا۔ اِسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ اُمت اگر دین کی دعوت اور لوگوں کی اِصلاح و ہدایت کا یہ فرض اَدا نہ کرے تو وہ اِس فضیلت کی مستحق نہیں بلکہ سخت مجرم اور قصور وار ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے اِتنے بڑے کام کی ذمہ داری اِس کے سپرد کی اور اِس نے اِس کو پورا نہیں کیا، اِس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کوئی بادشاہ سپاہیوں کے کسی دستہ کو شہر میں اِس کام پر مقرر کرے کہ وہ برائیوں اور بدمعاشیوں کو روکیں لیکن وہ سپاہی اِس خدمت کواَنجام نہ دیں بلکہ خود بھی وہ سب جرائم اور بد معاشیاں کرنے لگیں جن کی روک تھام کے لیے بادشاہ نے اِن کی ڈیوٹی لگائی تھی تو ظاہر ہے کہ یہ مجرم اِنعام یا نوکری پانے کے مستحق تو کیا ہوتے، سخت سزا کے قابل ہوںگے بلکہ اگر اُن کو دُوسروں مجرموں اور بدمعاشوں سے زیادہ سزادی جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ 
افسوس  !  اِس وقت اِسلامی اُمت کا حال یہی ہے کہ دین کی خدمت و دعوت اور دُنیا کی اِصلاح و ہدایت کا کیا ذکر، خود اُن میں دس پانچ فیصدی سے زیادہ ایسے نہیں رہے ہیں جو صحیح معنی میں
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حدیث 7 1
4 علم کا کمال ،قدرت کا کمال : 8 3
5 کسی بھی نبی کی بے اَدبی کفر ہے : 10 3
6 ''تقدیرات'' دائرہ عقل سے باہر ہیں حل نہیں ہو سکتیں بس اِیمان لانا کافی ہے : 11 3
7 تمام اَنبیاء ِ سابقین نے بھی ایسا ہی بتلایا : 12 3
8 اپنی حالت جانچنے کا طریقہ : 13 3
9 عالمِ برزخ، مثال سے وضاحت : 14 3
10 جسمانی رابطہ : 14 3
11 لافانی تعلق ،مثال سے وضاحت : 14 3
12 ''قبر''کا مطلب : 15 3
13 عذابِ قبر سے بچائو : 15 3
14 گمراہی سے بچائو : 15 3
15 وفیات 16 1
16 ''جمہوریت'' اپنے آئینہ میں اور اِسلامی نظامِ حکومت کا مختصر خاکہ 17 1
17 جمہوریت پر ایک نظر : 18 16
18 کوئی بھی مذہب جمہوریت کو پسند نہیں کرتا : 18 16
19 فریب نظر اور طلسم : 19 16
20 وضع قانون : 22 16
21 دستور ِ اَساسی : 24 16
22 مجلس ِآئین ساز کے بجائے عدالت ِعالیہ : 24 16
23 اِسلامی نظامِ حکومت کا مقصد : 25 16
24 تشکیلِ حکومت اور سربراہ ِ مملکت : 25 16
25 نبی کا دیا ہوا نعرہ : 26 16
26 سائنسی اور ترقیاتی اُمور کے لیے سرمایہ کی فراہمی : 26 16
27 کار خانے اور فیکٹریاں : 27 16
28 خسارہ پورا کرنے والا آمدنی کاایک مَد : 27 16
29 سورۂ محمد کی آخری آیت کا مفہوم یہ ہے : 27 16
30 سورۂ بقرہ میں جنگ وقتال کے متعلق ہدایات دینے کے بعد اِرشاد ہے : 28 16
31 خسارہ بڑھانے والا آمدنی کا ایک مَد : 28 16
32 وہ قرض جس کا بار عوام پر نہ پڑے : 28 16
33 اِسلامی قرض کا مادّی اور رُوحانی فائدہ : 29 16
34 قرض کی شرح : 30 16
35 عالمی سیاست اور مسلمان : 31 16
36 اِسلام کیا ہے ؟ 32 1
37 گیارہواں سبق : دین کی خدمت ودعوت 32 36
38 ایک حدیث شریف میں ہے حضور ۖ نے بڑی تاکید کے ساتھ اور قسم کھا کر فرمایا : 37 36
39 ( چار بیماریوں سے حفاظت ) 38 36
40 قصص القرآن للاطفال 39 1
41 پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصّے 39 40
42 ( حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکۂ سبا بلقیس کا قصہ ) 39 40
43 حضرت سلیمان علیہ السلام نے اُس کی بات سن لی اور مسکراتے ہوئے دُعا کی : 40 40
44 ''اُسے (مال وزر سلطنت وسطوت اور حسن و جمال) سب کچھ عطا کیا گیا ہے۔'' 41 40
45 ماہِ رجب کے فضائل واَحکام 48 1
46 ماہِ رجب عظمت وفضیلت والا مہینہ : 48 45
47 رجب کی پہلی رات کی فضیلت : 49 45
48 ماہِ رجب میں روزے : 50 45
49 ٢٢ رجب کے کونڈے : 50 45
50 کونڈوں کی رسم کی شرعی حیثیت : 51 45
51 ٢٧رجب اور شب ِمعراج : 55 45
52 ٢٧ رجب کے منکرات اور رسمیں : 55 45
53 عالم اِسلام کا ایک بڑا اَلمیہ 60 1
54 غیر مسلم آقاؤں کے حکم پر اِسلام کی بیخ کنی 60 53
55 اَخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter