ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2015 |
اكستان |
|
خراج، جزیہ اور اِسلامی تعلیم کے بموجب عشور یعنی در آمدو برآمد مال کے ٹیکس اور اِس طرح کے معینہ مدات کی آمدنی اگر اِن ضرورتوں کے لیے ناکافی ہو (جو ترقی پذیر تعلیم و تربیت اور ریسرچ وتحقیقات اور سامانِ جنگ کی فراہمی وغیرہ کے سلسلے میں رُو نماہوں) تو مجلس ِ شوریٰ یہاں اپنا فرض اَنجام دے گی یعنی ماہرین کی اِمداد سے ذرائع آمدنی میں اِضافہ کرے گی۔ کار خانے اور فیکٹریاں : یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ لوگ اپنی محنت اور اپنی گاڑھی کمائی سے کارخانے اور مِل قائم کریں اور حکومت اُن کو نیشنلائز کر کے اپنے قبضہ میں لے لے ،حکومت کو غاصب نہ ہونا چاہیے بلکہ حکومت کو ایسا فرض شناس ہونا چاہیے کہ وہ پہلے ہی اپنی طرف سے بڑے بڑے کار خانے قائم کر کے اپنی آمدنی میں اِضافہ کرلے۔ترقیاتی پلان اور منصوبے آج بھی پار لیمنٹ اسمبلی یا مجلس ِ وزراء نہیں بناتی،بنانے والے اور ہوتے ہیں پارلیمنٹ اُن کی منظوری دیتی ہے۔ کیا اچھا ہو کہ شوریٰ کے اَرکان وہ ماہر ہوں جو اِس طرح کے منصوبے بناسکیں آخر ایسے ہی ماہرین کو شوریٰ کا (پارلیمنٹ کا) ممبر کیوں نہیں بنایا جاتا، کیا وہ عوام کی ضرورتوں اور رُجحانات سے بے خبر ہوتے ہیں ؟ وہ عوام کی نمائندگی کیوں نہیں کر سکتے ؟ خسارہ پورا کرنے والا آمدنی کاایک مَد : قرآنِ حکیم نے ایک مستقل مد قرار دے دیا ہے ''اِنفاق فی سبیل اللہ ''(راہِ خدا میں خرچ کرنا) چنانچہ سورۂ اَنفال کی مذکورہ بالا آیت کا آخری حصہ یہ ہے۔ ''اللہ کے راستہ میں جو کچھ خرچ کرو گے وہ تم کو پورا پورا اَدا کیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔'' (سورۂ اَنفال آیت ٦٠) سورۂ محمد کی آخری آیت کا مفہوم یہ ہے : ''تم کو دعوت دی جارہی ہے کہ تم راہ ِ خدا میں خرچ کرو، تم میں سے کچھ وہ ہیں جو اِس دعوت کے جواب میں بخل سے کام لیتے ہیں (خرچ نہیں کرتے) دیکھو یہ اگر