Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2015

اكستان

27 - 65
خراج، جزیہ اور اِسلامی تعلیم کے بموجب عشور یعنی در آمدو برآمد مال کے ٹیکس اور اِس طرح کے معینہ مدات کی آمدنی اگر اِن ضرورتوں کے لیے ناکافی ہو (جو ترقی پذیر تعلیم و تربیت اور ریسرچ وتحقیقات اور سامانِ جنگ کی فراہمی وغیرہ کے سلسلے میں رُو نماہوں) تو مجلس ِ شوریٰ یہاں اپنا فرض اَنجام دے گی یعنی ماہرین کی اِمداد سے ذرائع آمدنی میں اِضافہ کرے گی۔ 
کار خانے اور فیکٹریاں  :
 یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ لوگ اپنی محنت اور اپنی گاڑھی کمائی سے کارخانے اور مِل قائم کریں اور حکومت اُن کو نیشنلائز کر کے اپنے قبضہ میں لے لے ،حکومت کو غاصب نہ ہونا چاہیے بلکہ حکومت کو ایسا فرض شناس ہونا چاہیے کہ وہ پہلے ہی اپنی طرف سے بڑے بڑے کار خانے قائم کر کے اپنی آمدنی میں اِضافہ کرلے۔ترقیاتی پلان اور منصوبے آج بھی پار لیمنٹ اسمبلی یا مجلس ِ وزراء نہیں بناتی،بنانے والے اور ہوتے ہیں پارلیمنٹ اُن کی منظوری دیتی ہے۔ کیا اچھا ہو کہ شوریٰ کے اَرکان وہ ماہر ہوں جو اِس طرح کے منصوبے بناسکیں آخر ایسے ہی ماہرین کو شوریٰ کا (پارلیمنٹ کا) ممبر کیوں نہیں بنایا جاتا، کیا وہ عوام کی ضرورتوں اور رُجحانات سے بے خبر ہوتے ہیں  ؟  وہ عوام کی نمائندگی کیوں نہیں کر سکتے  ؟
خسارہ پورا کرنے والا آمدنی کاایک مَد  : 
قرآنِ حکیم نے ایک مستقل مد قرار دے دیا ہے ''اِنفاق فی سبیل اللہ ''(راہِ خدا میں خرچ کرنا) چنانچہ سورۂ اَنفال کی مذکورہ بالا آیت کا آخری حصہ یہ ہے۔ 
''اللہ کے راستہ میں جو کچھ خرچ کرو گے وہ تم کو پورا پورا اَدا کیا جائے گا اور تم پر  ظلم نہیں کیا جائے گا۔'' (سورۂ اَنفال  آیت ٦٠) 
سورۂ محمد کی آخری آیت کا مفہوم یہ ہے  :  
''تم کو دعوت دی جارہی ہے کہ تم راہ ِ خدا میں خرچ کرو، تم میں سے کچھ وہ ہیں جو اِس دعوت کے جواب میں بخل سے کام لیتے ہیں (خرچ نہیں کرتے) دیکھو یہ اگر
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حدیث 7 1
4 علم کا کمال ،قدرت کا کمال : 8 3
5 کسی بھی نبی کی بے اَدبی کفر ہے : 10 3
6 ''تقدیرات'' دائرہ عقل سے باہر ہیں حل نہیں ہو سکتیں بس اِیمان لانا کافی ہے : 11 3
7 تمام اَنبیاء ِ سابقین نے بھی ایسا ہی بتلایا : 12 3
8 اپنی حالت جانچنے کا طریقہ : 13 3
9 عالمِ برزخ، مثال سے وضاحت : 14 3
10 جسمانی رابطہ : 14 3
11 لافانی تعلق ،مثال سے وضاحت : 14 3
12 ''قبر''کا مطلب : 15 3
13 عذابِ قبر سے بچائو : 15 3
14 گمراہی سے بچائو : 15 3
15 وفیات 16 1
16 ''جمہوریت'' اپنے آئینہ میں اور اِسلامی نظامِ حکومت کا مختصر خاکہ 17 1
17 جمہوریت پر ایک نظر : 18 16
18 کوئی بھی مذہب جمہوریت کو پسند نہیں کرتا : 18 16
19 فریب نظر اور طلسم : 19 16
20 وضع قانون : 22 16
21 دستور ِ اَساسی : 24 16
22 مجلس ِآئین ساز کے بجائے عدالت ِعالیہ : 24 16
23 اِسلامی نظامِ حکومت کا مقصد : 25 16
24 تشکیلِ حکومت اور سربراہ ِ مملکت : 25 16
25 نبی کا دیا ہوا نعرہ : 26 16
26 سائنسی اور ترقیاتی اُمور کے لیے سرمایہ کی فراہمی : 26 16
27 کار خانے اور فیکٹریاں : 27 16
28 خسارہ پورا کرنے والا آمدنی کاایک مَد : 27 16
29 سورۂ محمد کی آخری آیت کا مفہوم یہ ہے : 27 16
30 سورۂ بقرہ میں جنگ وقتال کے متعلق ہدایات دینے کے بعد اِرشاد ہے : 28 16
31 خسارہ بڑھانے والا آمدنی کا ایک مَد : 28 16
32 وہ قرض جس کا بار عوام پر نہ پڑے : 28 16
33 اِسلامی قرض کا مادّی اور رُوحانی فائدہ : 29 16
34 قرض کی شرح : 30 16
35 عالمی سیاست اور مسلمان : 31 16
36 اِسلام کیا ہے ؟ 32 1
37 گیارہواں سبق : دین کی خدمت ودعوت 32 36
38 ایک حدیث شریف میں ہے حضور ۖ نے بڑی تاکید کے ساتھ اور قسم کھا کر فرمایا : 37 36
39 ( چار بیماریوں سے حفاظت ) 38 36
40 قصص القرآن للاطفال 39 1
41 پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصّے 39 40
42 ( حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکۂ سبا بلقیس کا قصہ ) 39 40
43 حضرت سلیمان علیہ السلام نے اُس کی بات سن لی اور مسکراتے ہوئے دُعا کی : 40 40
44 ''اُسے (مال وزر سلطنت وسطوت اور حسن و جمال) سب کچھ عطا کیا گیا ہے۔'' 41 40
45 ماہِ رجب کے فضائل واَحکام 48 1
46 ماہِ رجب عظمت وفضیلت والا مہینہ : 48 45
47 رجب کی پہلی رات کی فضیلت : 49 45
48 ماہِ رجب میں روزے : 50 45
49 ٢٢ رجب کے کونڈے : 50 45
50 کونڈوں کی رسم کی شرعی حیثیت : 51 45
51 ٢٧رجب اور شب ِمعراج : 55 45
52 ٢٧ رجب کے منکرات اور رسمیں : 55 45
53 عالم اِسلام کا ایک بڑا اَلمیہ 60 1
54 غیر مسلم آقاؤں کے حکم پر اِسلام کی بیخ کنی 60 53
55 اَخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter