Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

427 - 457
]١٦٥٤[(٥) فاذا تم لہ مائة وعشرون سنة من یوم ولد حکمنا بموتہ واعتدت امرأتہ وقسم مالہ بین ورثتہ الموجودین فی ذلک الوقت]١٦٥٥[(٦) ومن مات منھم قبل ذلک لم یرث منہ شیئا]١٦٥٦[(٧) ولا یرث المفقود من احد مات فی حال فقدہ۔

]١٦٥٤[(٥)پس جبکہ اس کے لئے ایک سو بیس سال پورے ہو جائیں جس دن سے پیدا ہوا ہے تو حکم لگادیںگے اس کی موت کا۔اور عدت گزارے گی اس کی عورت اور تقسیم کیا جائے گا اس کا مال اس وقت میں موجود ورثہ کے درمیان ۔
 تشریح  زیادہ سے زیادہ آدمی ایک سو بیس سال زندہ رہتا ہے اس لئے پیدائش سے لیکر ایک سو بیس سال گزر جائے تو اب حکم لگا دیا جائے گا کہ وہ مر گیا ہے اور اس وقت اس کی بیوی عدت وفات گزارے گی۔اور اس وقت جو ورثہ موجود ہوں ان کے درمیان اس کا مال تقسیم کر دیا جائے گا۔  وجہ  ایسا سمجھا جائے گا کہ ابھی وفات ہوئی ہے۔اس لئے اس وقت جتنے ورثہ موجود ہوںگے ان میں اس کا مال تقسیم کیا جائے گا۔ اور جو لوگ اس سے پہلے مر چکے ہیں ان میں اس کا مال تقسیم نہیں ہوگا (٢) موت کے فیصلے کے بعد مال تقسیم کرنے کی دلیل یہ اثر ہے۔عن قتادة قال اذا مضت اربع سنین من حین ترفع امرأة المفقود امرھا انہ یقسم مالہ بین ورثتہ (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب التی لاتعلم مھلک زوجھا ج سابع ص ٩٠ نمبر ١٢٣٢٩) اس اثر میں اگرچہ یہ ہے کہ چار سال کے بعد مفقود کے لئے موت کا فیصلہ کیا جائے گا اور مال اس کے ورثہ کے درمیان تقسیم کر دیا جائے گا۔تاہم یہ پتہ چلا کہ موت کے فیصلے کے بعد اس کا مال اس کے ورثہ کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔چاہے جب بھی موت کا فیصلہ ہو۔
 نوٹ  ایک سو بیس سال کے پہلے غالب گمان کی کوئی بات سامنے آجائے تو اس وقت بھی موت کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
]١٦٥٥[(٦)ورثہ میں سے جو اس سے پہلے مرجائے تو مفقود کے کسی چیزکے وارث نہیں ہوںگے۔  
تشریح  مفقود کی موت کے حکم لگانے سے پہلے جو ورثہ مر جائے وہ مفقود کے کسی مال کے وارث نہیں ہوںگے۔  
وجہ  مفقود پر موت کے حکم سے پہلے گویا کہ وہ زندہ ہے ۔اور زندہ کے مال کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔اس لئے مفقود کے مال کا وارث نہیں ہوگا۔
]١٦٥٦[(٧)اور مفقود ان میں سے کسی کا وارث نہیں ہوگا جو مر گئے ہوں اس کے گم ہونے کی حالت میں۔  
تشریح  مثلا  ٢٠٠٠ء  کی پہلی تاریخ کو مفقود گم ہوا اور چار سال بعد اس پر موت کا حکم لگایا تو دو ہزار سے دو ہزار چار تک جو لوگ مفقود کے مورث میں سے انتقال ہوںگے ان میں سے کسی کا وہ وارث نہیں ہوگا۔  
وجہ  استحقاق کے بارے میں یہی سمجھا جائے گا کہ وہ دو ہزار کی پہلی تاریخ ہی کو مر گیا ہے۔کیونکہ اس کی موت اسی وقت سے مشتبہ ہے۔بس اس طرح سمجھیںگے کہ لوگ اس کے مال کے وارث ہوںگے مفقود پر موت کے فیصلے کے بعد۔اور وہ خود لوگوں کی وراثت سے محروم ہوگا بھاگنے ہی کے دن سے۔

حاشیہ  :  (الف) حضرت قتادہ نے فرمایا جب مفقود کی بیوی کے معاملہ اٹھانے کے بعد چار سال گزر جائے تو اس کو حکم دیںگے کہ اس کا مال ورثہ میں تقسیم کر دیا جائے۔

Flag Counter